Daily Mashriq

ڈاکٹرز یا قصاب؟

ڈاکٹرز یا قصاب؟

ایک پاکستانی کو جو دواسو روپے میں ملتی ہے اس کے بارے میں وہ یہ فہم رکھتا ہے کہ کمپنی کو اسی روپے میں پڑتی ہوگی جو ایک بڑی غلط فہمی ہے ۔ہو سکتا ہے کہ کمپنی کو یہ دوا بیس روپے میں پڑتی ہو۔پندرہ روپے سیدھے ہول سیلر کے پاس چلے جاتے ہیں اور پندرہ روپے کا منافع ریٹیلر نے لینا ہوتا ہے۔یہ ہو گئے پچاس جس کا مطلب یہ ہے کہ مریض کو یہ دوا پچاس روپے میں ملنی چاہئے تو پھر سوال یہ ہے کہ اسے یہ دوا سو روپے میں کیوں مل رہی ہے؟اس کی وجہ وہ بھیانک رجحان ہے جو ہماری فارما سیوٹیکل کمپنیز کو بری طرح سے اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔کمپنیاں ادویات کی تشہیر اور لٹریچر چھپوانے پر جو خرچہ کرتی ہیں وہ پیسہ بھی صارف یا مریض سے نکلواتی ہیں۔اس کے ساتھ ایک اور واردات بھی جڑی ہوئی ہے اور وہ یہ کہ ڈاکٹروں کو باقاعدہ رشوت دی جاتی ہے۔جتنی بڑی کمپنی اتنی بڑی رشوت۔یہاں تک کہ قیمتی گاڑیاں،اور بنگلے بھی اس رشوت کا حصہ ہیں۔جس ڈاکٹر کی او پی ڈی ٹھیک ٹھاک ہوتی ہے اسے بھاری رشوت دے کر اس بات پر آمادہ کیا جاتا ہے کہ مذکورہ کمپنی کی ادویات ہی مریضوں کو لکھ کر دے۔اس بات کو یوں سمجھئے کہ ایک ہی دوا مختلف کمپنیاں مختلف ناموں سے فروخت کر رہی ہیں ۔ان کا فارمولہ طبی فارما کوپیا کے مطابق ایک ہی ہوتا ہے۔گویا ڈاکٹر کے پاس وسیع چوائس ہوتی ہے کہ وہ جس کمپنی کی چاہے دوا لکھ کر دے دے۔سو ڈاکٹر اپنے مالی مفادات کو سامنے رکھ کر اسی کمپنی کی دوا لکھ کر دے گا جو اس کے عوض اسے بھاری معاوضہ دے چکی ہوگی اور یہی وجہ ہے کہ بیس روپے کی دوا ہمیں سو روپے کی ملتی ہے۔درحقیقت دواساز ادارے عوام کی اس مجبوری کو سمجھتے ہیں کہ دوا بیس کی بکے یا سو کی مریض کو یہ ہر حالت میں لینی ہی ہے کیونکہ ایک بیمار شخص کے پاس کوئی چوائس نہیں ہوتی اگر سو کی بجائے دو سو کی ہوجائے تب بھی وہ یہ دوا لینے پر مجبور ہوگا ۔سو بے رحمی اور شقاوت کا یہ رقص ابلیس جاری ہے اور عوام اسے بھگت رہے ہیں۔ڈاکٹر جسے ہم مسیحا سمجھتے ہیں درحقیقت وہ قصاب ہے جواپنے علم اور کوالیفکیشن کی چھری سے ہم سب کو ذبح کرتا ہے۔ذرا غور کریں کہ ایک دوا دس کمپنیاں تیار کرتی ہیں۔سب ایک ہی فارمولے کو فالو کر رہی ہیں۔سب کی لاگت ایک ہی ہے۔فرض کر لیجئے کہ ان میں دو کمپنیاں ایسی ہیں کہ جودرمیانی واسطوں کوبہت معمولی کمیشن دیتی ہیں اورپبلسٹی پر بھی بہت کم خرچ کرتی ہیں ۔ڈاکٹروں کو کسی قسم کی رشوت بھی آفر نہیں کرتیں تو بیس کی لاگت والی دوا کو پچاس روپے میں ریٹیل کرتی ہیں تو ڈاکٹر اس چوائس کے ہونے کے باوجود یہ والی دوا لکھ کر نہیں دیتے ہاں کچھ خدا خوفی رکھنے والے ڈاکٹر اس مکروہ دھندے کا حصہ نہیں بنتے اور مریض کو کم قیمت دوا ہی لکھ کر دیتے ہیں لیکن ایسے ڈاکٹر بہت کم ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ہماری وزارت صحت اس سارے دھندے سے واقف ہونے کے باوجود اس کا سد باب نہیں کرتی۔کسی بھی دوا کی ریٹیل قیمت دواساز ادارے اپنی مرضی سے مقرر نہیں کر سکتے۔یہ قیمت سرکاری سطح پر مقرر ہوتی ہے لیکن پچاس کی بجائے سو روپے ریٹیل کی اجازت دیتے ہوئے مہنگے داموں دوا فروخت کرنے والی کمپنی سے یہ نہیں کہا جاتا کہ عوام کے حقوق کی محافظ حکومت اس لوٹ مار کی اجازت نہیں دے سکتی کیونکہ ہماری صحت کی مرکزی وزارت ہو یا صوبائی وزارتیں ان میں کام کرنے والے’’ غریب سرکاری ملا زم‘‘ اپنے بچوں کا پیٹ کیسے بھریں؟کوٹھی گاڑی کے اخراجات کہاں سے پورے کریں؟بیگمات کی اندھی خواہشات کو کیسے پورا کریں؟قیمتی سوٹ کیسے پہنیں اور کبھی کبھار منہ کا ذائقہ تبدیل کرنے کے لئے یورپ یا دبئی کا چکر کیسے لگائیں اور اس مہنگائی کے دور میں حج اور عمرے کی ’’سعادت ‘‘ کیسے حاصل کریں؟درحقیقت ہم عوام پیسے کی ہوس میں مبتلا بے رحم سسٹم کے پروردہ ایسے نوسر بازوں کے ہتھے چڑھے ہوئے ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر ہمارا تھوڑا تھوڑا خون نکالتے ہیں اور اس وقت تک یہ ’’شغل‘‘ جاری رکھتے ہیں جب تک کہ جسم میں جان رہتی ہے۔ کوشش کرتے ہیں کہ مریض بے شک چار پائی پر پڑا رہے لیکن اس کی سانسیں چلتی رہیں تاکہ ان بھیڑیوں کو خون ملتا رہے۔کیا حکمران،کیا اپوزیشن اور کیا بیوروکریسی سب ہی اس دھندے میں برابر کے شریک ہیں۔ان لوگوں نے مل کر ستر سالوں میں پوری قوم کو اس طرح لوٹا ہے کہ لٹنے والے اپنے لٹنے کا تماشہ دیکھ رہے ہیں لیکن پھر بھی ان کے چنگل سے نکلنے کی کوشش نہیں کرتے۔

میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب

اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

کوئی مسلم لیگ کا دیوانہ،کوئی پیپلز پارٹی کا شیدائی،کوئی تحریک انصاف کا مداح تو کوئی علاقائی پارٹیوں کا دیوانہ جبکہ یہ سب ہی اس ظلم کے نظام کے پشتی بان ہیں جس نے ستر سال تک ہمارا اور ہمارے بچوں کا خون چوسا۔یہ مکروہ اور بدبودار سسٹم خیبر سے کراچی تک ایک جیسا ہے اور حکمران اس کے آلہ کار ہیں ۔اور جو کوئی یہ دعویٰ کرے کہ اس نے سسٹم ٹھیک کر دیا ہے وہ حقائق سے منفی بات ہے کیونکہ جب تک یہ سرکاری ادارے اور ان میں بیٹھے سرکاری ملازم زندہ ہیں انہیں ہمارا خون چاہئے جو انہوں نے کسی نہ کسی طرح نچوڑ ہی لینا ہے۔ان سے آزادی چاہئے تو یاد رکھئے 1947سے کئی گنا زیادہ لہو کا خراج پیش کرنا ہوگا اور کئی گنا بڑی جدوجہد کرنی ہوگی ۔

متعلقہ خبریں