Daily Mashriq

ان ہیروز کو سلام پیش کیجئے

ان ہیروز کو سلام پیش کیجئے

شاید وقت اپنے آپ کو پھر دہراتا اگر پشاور میں پولیس جوانمردی سے دہشت گردوں کا مقابلہ نہ کرتی ۔ دُکھ ایک بار پھر حاوی ہو جاتا اور ہم اسی وحشت کا شکار ہو کر اپنے گھروں سے باہر نکل آتے ۔ مائیں اسی طرح سیاہ ماتمی چادریں اوڑھ لیتیں اور ہمارے آنسو خشک ہی نہ ہوتے دل اسی طرح سیال بن کر آنکھوں سے بہتا اور کچھ سمجھ نہ آتا کہ اس دُکھ کا مداوا کیسے ہو ۔ آج بھی دسمبر کے آغاز سے ہی مسکراہٹ بوجھل لگنے لگتی ہے ۔ لیکن اب کی بار ان جوانوں کو سلام بھی کرنے کو دل کرتا ہے جنہوں نے اس قوم کو ایک نئے غم سے بچایا ہے ۔ 

ٹی وی پر خبر دیکھ کر میرا دل دھک سے رہ گیا تھا ۔میں اسی خوف کا شکار تھی کہ کہیں وہ دہشت گردحاوی نہ ہو جائیں ۔ دل بے اختیار اللہ کے حضور جھک گیا تھا ۔ یا میرے مالک ہمیں کسی آزمائش سے بچا ۔ کسی دُکھ کا چہر ا نہ دیکھنا پڑے ۔ یامیرے مالک ہمارے بچوں کو اپنے حفظ وامان میں رکھنا ۔ ہمارے بچے ہی تو ہمارا مستقبل ہیں ۔ ہمیں ان کے حوالے سے اور کوئی دُکھ نہ دیکھنا پڑے۔ ٹی وی پر سی سی پی او طاہر خان کا چہرا دکھائی دیا ۔ میرے میاں انہیں پہنچانتے تھے ۔کہنے لگے ۔ یہ طاہر ہے بڑا جی دار ، بڑا جانباز افسر ہے ، یہ انشاء اللہ معاملے کو سنبھال لے گا ۔ اس وقت جتنے بھی لوگ ٹی وی دیکھ رہے ہونگے ، ان کا میرے ہی جیسا حال ہوگا ۔ سب دُعائیں کر رہے ہونگے ۔سب کے دل بری طرح دھڑک رہے ہونگے ۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا ہو گا ۔سی سی پی او طاہر خان کی کامیابی کے لیے دل سے دُعائیں نکل رہی تھیں ۔ پھر ایس ایس پی آپریشن پشاور سجاد خان ٹی وی پر ہی نظر آئے جو شاید اپنے رات کے کپڑوں میں ہی اٹھ کر آگئے تھے ۔ انہوں نے اتنا بھی وقت ضائع نہ کیا تھا کہ کپڑے ہی تبدیل کرتے ۔ انہیںکپڑوں کے اوپر انہوں نے بلٹ پروف جیکٹ پہنی ، ہتھیار سنبھالا اور مقابلے کے لیے آگے چلے گئے ۔ ان لوگوں کی بہادری سے دل میں اک عجب امید بھر گئی ۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو کامیاب کرے یہ ہمارے بچوں کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوں اور اللہ انہیں بھی اپنے فضل سے محفوظ رکھے ۔ ان لوگوں نے کمال بہادری کا ثبوت دیا ۔ ان کی جرأت کو سلام ہے ۔انہوں نے اپنی جان کی پرواہ کیئے بغیر ، ان معصوم لوگوں کی جان بچائی جو زرعی ڈائریکٹوریٹ کے احاطے میں محصور تھے ۔ جولوگ اس دن شہید ہوئے ان کی شہادت کا دُکھ بھی دل سے نہیں جاتا لیکن جتنے لوگوں کی جان بچی اس پر دل اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہے ۔ شکر ہے اس مالک کا جس نے ہمارے لوگوں کو ، خاص طور پر ہماری پولیس میں وہ ہمت اور بہادری پیدا کی جس کے باعث ہم ایک بہت بڑے حادثے سے محفوظ رہے ۔ میں سوچتی ہوں کہ محض اخباروں میں خبروں کی حد تک ان لوگوں کی بہادری کو سراہا جانا ہی کافی نہیں ۔ ان بہادر پولیس افسروں کو نہ صرف ان کی شجاعت کے اعتراف میں قومی اعزاز اور ایوارڈ سے نوازا جانا چاہیئے بلکہ ہمیں ایسی تقریبات منعقد کرنی چاہئیں جہاں ان کی فرض شناسی اور بہادری کا اعتراف کیا جائے ۔ یہ بڑے کمال لوگ ہیں جنہوں نے اس وقت اپنے فرض کو اپنی جانوں پر مقدم جانا ۔ پولیس کے حوالے سے منفی باتیں کرنے میں تو ہم ہی شامل باجارہتے ہیں ، آج ان کی خدمت کا اعتراف بھی اسی طور کیا جانا چاہیئے اور اس بات کو بھی قومی سطح پر تسلیم کیا جانا چاہیئے کہ کے پی کی پولیس ہمارے باقی صوبوں کی پولیس سے بہت بہتر ہے ۔ جن سالوں میں ، میں پشاور مقیم رہی ، انہی دنوں میں مجھے لاہور جانے کا اتفاق ہوا اور ایک بار میر ی گاڑی کو کسی گاڑی والے نے ایک سگنل پر کھڑے پیچھے سے ٹکر ماردی ۔ میں چونکہ پشاور کی عادی تھی جہاں خواتین کی عزت اور وقار کا پاس رکھا جاتا ہے ۔ ایک کانسٹیبل بھی نہایت احترام اور تمیز سے پیش آتا تھا اور وہ کبھی بھی کسی لڑائی جھگڑے میں خواتین کو شامل نہیں ہونے دیتے تھے ۔ پنجاب کے ٹریفک پولیس کانسٹیبل کی بد تمیزی میرے لیے حیران کن تھی جبکہ غلطی میری نہیں تھی ۔ جب تک لاہور میں میں کسی پولیس کے Batch mateکو فون کرتی ۔ اس کانسٹیبل کی بد تمیزی سے میری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفقود ہو چکی تھی ۔ پشاور واپس آکر میں نے یہ واقعہ قارئین کے گوش گزار بھی کیا تھا ۔ لیکن یہ سب تو اس عظیم واقعے کے سامنے کچھ بھی نہیں کہ جس جرأت اور بہادری کا مظاہرہ ان پولیس افسروں اور جوانوں نے کیا ہے جنہوں نے اس سارے آپریشن میں حصہ لیا اور اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ، اتنے لوگوں کی جان بچائی جس میں نہ صرف ہمارے طالبعلم بچے شامل تھے بلکہ اس احاطے میں موجو د گھروں کے لوگ بھی تھے ۔ سلام ہے ان خیبر پختونخوا پولیس کے جوانوں اور افسروں پر جنہوں نے ایک لمحے کے لیے اپنے گھر والوں کا نہ سوچا کہ اگر انہیں کچھ ہو گیا تو ان کا کیا ہوگا۔ سلام ہے ان جوانوں اور افسروں پر جنہوں نے اپنی جانوں پر ان معصوموں کی جانوں کو اور انکے خوف کو مقدم جانا ۔ سلام ہے ان جوانوں اور افسروں پر جنہوں نے اپنی زندگیا ں اس ملک کے عام لوگوں کی حفاظت کے لیے وقف کردی ہیں ۔ یہ لوگ کمال لوگ ہیں ۔ ان لوگوں کو تو گزرتے دیکھ کر ہمیں انکے لیے راہ میں کھڑے ہو جانا چاہیئے کیونکہ جب تک ہم اپنے ہیروزکی عزت کرنا نہ سیکھیں گے اس وقت تک اس ملک میں اس قوم میں اور ہیروز جنم نہ لیں گے ۔ ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیجئے کیونکہ انہوں نے ہمارے لیے ، ہمارے بچوں کے لیے ، ہمارے بہن بھائیوں کی زندگی کی حفاظت کی قسم نبھائی ہے ۔ ان ہیروز کو تہہ دل سے سلام پیش کیجئے کیونکہ انہی کی جو انمردی سے آج ہمارے بچے محفوظ ہیں ۔

متعلقہ خبریں