Daily Mashriq

دفاعی بجٹ پر بلاجوازتنقید کیوں

دفاعی بجٹ پر بلاجوازتنقید کیوں

وجودہ دور میں پوری دنیا میں دفاع پر 1700 ارب ڈالر خرچ کئے جاتے ہیں۔ امریکہ 611 ارب ڈالر دفاعی اخراجات کے ساتھ پہلے اور چین 215 ارب ڈالر کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے ۔ بھارت دفاع پر 60 ارب ڈالر، اسرائیل 19ارب ڈالر جبکہ پاکستان کے دفاعی اخراجات 9ارب ڈالر ہیں جو ہمارے ملک کی کُل اقتصادیات کا 3.2 فی صد جبکہ پاکستان کے وفاقی بجٹ کا 17 فی صد ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان کا وفاقی بجٹ 4800 ارب روپے ہے۔ یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ پاکستان کے دفاعی بجٹ پر انتہائی تنقید ہو تی ہے اور یہاں تک کہ پاکستان کے دفاعی بجٹ پر عالمی سطح پر سینکڑوں کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور ان کے مصنفین کا بغیر سوچے سمجھے یہ مو قف ہے کہ پاکستان اپنے دفاع پر بے تحا شا رقم خرچ کر رہا ہے۔ جبکہ ترقی پذیر ممالک جو ہم سے زیادہ ڈیفنس پر خرچ کر رہے ہیں اُن پر کوئی تنقید نہیں کی جاتی۔بلا شبہ پاکستان جیسے کمزور اقتصادیات والے ملک کے لئے یہ ایک خطیر رقم ہے مگر اصل بات یہ ہے کہ پاکستان کے پاس اسکے علاوہ کوئی چا رہ نہیں۔اگر ہم پاکستان کے جُغر افیہ پر نظر ڈالیں تو پاکستان کا کُل رقبہ تقریباً 8 لاکھ مربع کلومیٹر ہے جس میں 96 فی صد زمین اور 3.1 فی صد سمندر یا پانی ہے۔ پاکستان کی افغانستان کے ساتھ2430 کلومیٹر طویل سر حد ہے جبکہ بھارت کے ساتھ 2250 کلومیٹر ، ایران کے ساتھ 909 کلومیٹر جبکہ چین کے ساتھ پاکستان کی تقریباً 600 کلومیٹر طویل سر حد ہے۔خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقہ جات کو وسطی ایشائی ریاستوں ، افغانستان، روس اور پو ری دنیا کے لئے گیٹ وے کہا جاتا ہے۔ جبکہ دوسری طر ف گوادر بھی جُغرافیائی اہمیت کا حامل علاقہ ہے اور گوادرکے ذریعے ہم افغانستان، وسطی ایشائی ریا ستوں ، اومان، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، ایران اور چین کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔بد قسمتی کہئے یا خوش قسمتی پاکستان اپنی جُغرافیائی حیثیت اور قدرتی وسائل کی وجہ سے ہمیشہ بین الاقوامی طاقتوں کے جنگ و جدل کا مرکز اور محور رہا ہے۔کیونکہ جُغرافیائی محل وقوع کے علاوہ خیبر پختونخوا، قبائلی علاقہ جات، بلوچستان ، افغا نستان، وسطی ایشیائی ریاستوں ، روس جو رقبے کے لحاظ سے دنیا کا نصف ہے اس میں اتنے زیادہ بے تحاشا وسائل ہیں کہ امریکہ اور دوسرے بڑی طاقتوں کی ان وسائل اور جُغرافیائی محل وقوع پر قبضہ کرنے پر نظریں لگی ہوئی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس کشش کی وجہ سے یہ خطہ ہمیشہ بین الاقوامی چپقلش کا مرکز رہا ہے۔ اور جُغرافیائی محل وقو ع اور پاکستان کے ایک جو ہری طاقت ہونے کی وجہ سے ہمارے دفاع کی اہمیت اور بڑھ گئی کیونکہ پاکستان کمزور دفاع کے ساتھ اپنی حفاظت نہیں کر سکتا۔ امریکہ ، بھارت اور اسرائیل کے دفاعی بجٹ کے ذکر کا مقصد یہ ہے کہ یہی ممالک پاکستان کی سلامتی کے لئے ہمیشہ ایک خطرہ بنے ہوئے ہیں ۔ علاوہ ازیں چین کے اشتراک سے پاکستان اور چین نے جو سی پیک کا منصوبہ شروع کیا ہے یہ بھی انتہائی اہمیت اور حساس منصوبہ ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں دفاع کے شعبے میں بھی بُہت کرپشن ہوتی ہوگی، مگر ہم ایک کرپٹ اور بد عنوان معاشرے میں رہ رہے ہیں جس طرح دوسرے شعبوں میں کرپشن ہوتی ہے اس طرح دفاعی شعبے میں بد عنوانی ہوگی۔مگر اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنے دفاع سے غافل ہو جائیں اور دفاع کو نظر انداز کر لیں۔جو لوگ دفاعی اخراجات پر تنقید کرتے ہیں وہ ملک میں اُن حکمرانوںپر تنقید کیوں نہیں کرتے جو وطن عزیز میں کرپشن اور بد عنوانی میں ملوث ہیں۔اگر ہم ملک میں کرپشن اور بد عنوانی پر نظر ڈالیں تو پاکستان میں سالانہ 5000 ارب روپے یعنی ہمارے وفاقی حکومت کے بجٹ کے برابر کرپشن ہو تی ہے۔ اگر ہم دفاعی بجٹ پر تنقید کے ساتھ ساتھ سیاست دانوں کی بد عنوانی کو ہدف تنقید بنائیں تو کرپشن کی نذر ہونے والے پیسوں سے ملک کے پسے ہوئے عوام کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ اس کالم کی تو سط سے میں پاکستانیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ دانستہ یا غیر دانستہ طور پر مسلح افواج کو ہدف تنقید نہ بنائیں بلکہ وطن عزیز کے سیاست دانوں سے یہ مطالبہ کریں کہ وہ ملک میں مزید وسائل تلاش کریں ، ایسی حکمت عملی اپنائیں کہ ملک سے زیادہ سے زیا دہ پاکستانی باہر بھیجے جا سکیں ، زرعی پیداوار کو بڑھائیں تاکہ پاکستان مالی اور اقتصادی لحاظ سے خود کفیل ہوکیونکہ پاکستان قدرتی وسائل کے ساتھ ساتھ بشری وسائل سے مالا مال ہے۔پاکستان کے عوام انتہائی جفا کش اور محنتی ہیں مگر بد قسمتی سے ہمارے سیاست دان اپنی ذاتی جنگ میں لگے ہوئے ہیں لہٰذا عوام کے درمیان مُثبت سر گر میوں کو فروع نہیں دیتے ۔پاکستانیوں کو چاہئے کہ وہ ایسے لوگوں کو عام انتخابات میں مُنتخب کریں جو دلجمعی سے نہ صرف پاکستانی عوام کے مسائل حل کریں بلکہ ملکی اقتصادیات اور معیشت کو مضبو ط بنیادوں پر کھڑا کرکے ملک کو بین الاقوامی قرضوں سے نجات دلائیں تاکہ پاکستان اپنے فیصلے خود کر سکیں۔ کیونکہ جب ہم بین الاقوامی قرضوں پر تکیہ کرتے ہیں ۔ وہ ہمیں قرضہ دے تو دیتے ہیں مگر بعد میں جائز اور نا جائز باتیں ہم پر ٹھونستے ہیں جو بعد میں ملکی سلامتی کے لئے بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ ڈیفنس بجٹ پر تنقید کرنا دراصل مسلح افواج پر تنقید ہے۔

متعلقہ خبریں