Daily Mashriq


خیبر پختونخوا حکومت بارے چیف جسٹس کے ریمارکس

خیبر پختونخوا حکومت بارے چیف جسٹس کے ریمارکس

وزیراعظم عمران خان نے سینئر صحافیوںکو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اس بات پر افسوس ہے کہ انہوں نے کہا کہ اقرباء پروری ہو رہی ہے۔ دوسری جانبچیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے خیبر پختونخوا کے ہسپتالوں کے فضلے کی تلفی کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دئیے کہ پشاور مینٹل ہسپتال میں انسانوں کو جانوروں سے بھی بدتر حالت میں رکھا جا رہا ہے، صوبے کی حالت بدترین ہے۔ پیر کو چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں خیبر پختونخوا کے ہسپتالوں کے فضلے کی تلفی کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران استفسار پر سیکرٹری صحت خیبر پختونخوا نے کہا کہ آپ کے دورے کے بعد بہتری کیلئے کافی اقدامات کئے ہیں، ایک الگ کیمپس بھی قائم کر رہے ہیں، سیکرٹری صحت نے عدالت کو بتایا کہ خیبر پختونخوا کے63 سرکاری اسپتالوں سے4 ہزار کلو فضلہ روزانہ نکلتا ہے اور مشینیں3600 کلو فضلہ تلف کر سکتی ہیں۔ اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اب بھی صوبے کے ہسپتالوں میں480 کلو فضلہ تلف نہیں ہوتا، چیف جسٹس نے کہا صوبائی حکومت ہسپتالوں کا فضلہ ٹھکانے لگانے کا بندوبست نہ کر سکی۔ سیکرٹری صحت نے کہا کہ کے پی کے158 پرائیویٹ ہسپتالوں سے860 کلو فضلہ روز نکلتا ہے، نجی ہسپتالوں کی فضلہ تلف کرنے کی صلاحیت532 کلو روزانہ ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ دسمبر2019 تک فضلے کے مکمل خاتمے کا ہدف دیا ہے جس پر سیکرٹری صحت نے کہا کہ کوشش کریں گے اگلے سال جون تک معاملہ حل کر دیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے میں سیمپل لایا تھا وہاں دوائیاں زائدالمیعاد ہیں اور ڈاکٹر بھی نہیں جاتے، کن بنیادوں پر آپ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کے پی کو جنت بنا دیا گیا، صوبے کی حالت بدترین ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میں تین چار دن بعد دوبارہ دورہ کرکے دیکھوں گا کہ کیا بہتری آئی ہے۔ خیبر پختونخوا کی موجودہ وسابق حکومت کی کارکردگی بارے چیف جسٹس کے ریمارکس کے بعد اس امر کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ اس پر مزید کچھ کہا جائے۔ خیبر پختونخوا کے عوام نے تحریک انصاف کو صوبے کی تاریخ میں دوسری مرتبہ موقع ضرور دیا ہے جسے کارکردگی کی بناء پر قرار دینے والوں کیلئے معزز چیف جسٹس کے الفاظ کافی ہیں۔ صوبے میں تحریک انصاف کی حکومتوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ خیبر پختونخوا کے تدریسی ہسپتالوں کو خودمختاری کے نام پر ایسے لوگوں کے حوالے کیا گیا جنہوں نے ان کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا۔ ہزاروں افراد کی بھرتیاں کی گئیں، اخراجات میں اضافہ ہوا، قسم قسم کے عہدے دیئے گئے مگر مریضوں کی سہولت اور علاج کیلئے تشخیصی آلات کی فراہمی، بستروں کی کمی پوری کرنے اور ہسپتالوں میں مزید گنجائش پیدا کرنے کیلئے کوئی ٹھوس اقدام اور حکمت عملی سامنے نہیں آئی۔ ہسپتالوں کا فاضل مواد ٹھکانے لگانے میں چیف جسٹس کے نوٹس لینے اور استفسار کے باوجود ناکامی اس امر کا کھلا ثبوت ہے کہ جو محکمہ اس قابل نہ ہو اس کی دیگر کارکردگی کیا ہوگی۔ صوبے کے نجی ہسپتال مریضوں کی ایک خاص تعداد کو مفت علاج کی سہولت دینے کی پابند ہیں لیکن کسی ایک ہسپتال میں بھی اس فرض کی ادائیگی نہیں ہوتی، محکمہ صحت اگر اس کی پابندی کرائے تو بہت سے مریضوں کا بھلا ہوگا۔ صوبے کے تیسرے بڑے تدریسی ہسپتال حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں ظاہری رنگ وروغن کافی کیا گیا مگر حالت یہ ہے کہ وہاں علاج کی اسی بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے جن کا تذکرہ کیا جائے تو شاید مبالغہ آرائی لگے لیکن آئی سی یو میں بروقت آکسیجن نہ ملنے سے مریضوں کے کومہ میں چلے جانے کی مثالیں موجود ہیں۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں آئے روز کی تبدیلیوں اور طریقۂ کار سے عملہ اور مریض دونوں تنگ آچکے ہیں۔ خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں غبن اور بدانتظامی کی داستانیں اخبارات کی زینت بنتے ہر کسی نے ملاحظہ کیا ہوگا۔ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات اور تعلیمی ایمرجنسی کا بڑا چرچا رہا مگر سرکاری تعلیمی اداروں کے طلبہ کے فیل ہونے کا سابقہ ریکارڈ بڑے فرق سے ٹوٹنا اعداد وشمار سے واضح ہے کوئی گھڑی گئی کہانی نہیں۔ انٹری ٹیسٹ میں گھپلوں اور باربار ٹیسٹ لئے جانے کے باوجود پرچوں میں غلطیاں اور نالائق اساتذہ سے چیک کروا کر ذہین طالب علموں کی حق تلفی اور ناانصافی بھی کوئی سنی سنائی بات نہیں۔ سرکاری سکولوں میں نجی سکولوں کے طالب علموں کے داخلے کے دعوے تو بہت کئے گئے مگر کن سکولوں سے کس بنا پر کتنے طالب علم آئے اس کی کوئی فہرست دستیاب نہیں۔ اساتذہ کے بچوں کو سرکاری سکولوں میں لازمی پڑھانے کے جتن اور دعوے حال ہی میں کئے گئے مگر کسی سرکاری سکول کے معلم کا اپنے بچوں کو نجی سکول سے نکال کر سرکاری سکول میں داخل کرنے کی کوئی مثال سامنے نہیں آئی۔ سونامی ٹری کی آڈٹ رپورٹ نے بھانڈا پھوڑا اور سرکاری محکموں میں کرپشن اور بدعنوانی کی آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ سے شفافیت کا لبادہ اُتر گیا۔ کتنے محکمے اور کتنے شعبے گنوائے جائیں، خیبر پختونخوا اسمبلی میں کس قسم خلاف میرٹ بھرتیاں کی گئیں اور ناجائز ترقیاں دی گئیں، عدالتی فیصلے سے سب واقف ہیں۔ بی آر ٹی کے منصوبے کا تذکرہ نہ ہی کیا جائے تو بہتر ہوگا۔ چھ ماہ کے اس منصوبے کی تکمیل کے ڈیڑھ سال بعد بھی آثار دکھائی نہیں دیتے۔ خود صدر مملکت عارف علوی اس منصوبے کی تکمیل کی مدت جون 2019ء سے آگے جانے کا عندیہ دے چکے ہیں جبکہ صوبائی حکومت بضد ہے کہ مارچ2019ء میں منصوبہ مکمل ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چیف جسٹس نے صوبائی حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے جو ریمارکس دیئے ہیں وہ جذباتی اور بلاوجہ نہیں بلکہ اس کے پس پردہ ٹھوس وجوہات ہیں جن پر تحریک انصاف کی قیادت اور حکومت کو ٹھنڈے دل سے غور کر کے اصلاح عمل کی سعی کرنی چاہئے۔ سطحی قسم کی چیزوں میں اُلجھنے اور مضحکہ خیز دعوؤں کے باعث حکومت ابتدائی سو دنوں کے اندر جس طرح عوام کا اعتماد تیزی سے کھو رہی ہے اس سے کسی طور یہ نظر نہیں آتا کہ موجودہ حکومت عوام کی توقعات پر پورا اُترے گی۔

متعلقہ خبریں