Daily Mashriq

پولیس افسران نظم وضبط کی پابندی کریں

پولیس افسران نظم وضبط کی پابندی کریں

خیبر پختونخوا پولیس کے بعض افسروں کے متعلق انسپکٹر جنرل پولیس صلاح الدین محسود کے مبینہ منفی ریمارکس اس امر پر دال ہے کہ خیبر پختونخوا کی مثالی پولیس میں نظم وضبط کا فقدان اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ آئی جی کے احکامات کو بھی پس پشت ڈالنے کی جسارت ہونے لگی ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس کے ایک اجلاس میں انسپکٹر جنرل آف پولیس نے پولیس افسران کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ سوائے چند ایک پولیس افسروں کے باقی تمام افسر کسی کام کے نہیں ہیں اور چند افسروں کی وجہ سے پوری پولیس فورس کی بدنامی ہو رہی ہے۔ خیبر پختونخوا کی پولیس چیف کو صوبائی حکومت کی جانب سے پہلی مرتبہ سینئرز کو نظرانداز کر کے تقرری اور دوسری مرتبہ تقرری ان پر مکمل اعتماد کا اظہار ہے لیکن صوبے میں ان کی کارکردگی کے حوالے سے کوئی حوصلہ افزاء صورتحال نہیں، البتہ اسے ان کی خوش قسمتی قرار دیا جائے گا کہ ماتحت افسران کی جانب سے مبینہ طور پر عدم تعاون کے باوجود صورتحال پر ان کی گرفت قوی ہے۔ البتہ سٹریٹ کرائمز میں اضافہ ضرور ہوا ہے اگرچہ ان کے ماتحت ایک افسر کے اغواء اور قتل کا واقعہ سامنے ضرور آیا لیکن چونکہ یہ واقعہ خیبر پختونخوا میں نہیں اسلام آباد میں ہوا ہے اس لئے اس پر براہ راست ذمہ داری عائد نہیں ہوتی جبکہ شہری پر ایس ایچ او کے تشدد کے واقعے میں ماتحت افسران کا عدم تعاون اور لاش کی پوسٹ مارٹم سے پہلے ہی پولیس افسران کی طرف سے ہلاکت کو حرکت قلب بند ہونا قرار دینا جبکہ قتل کے مقدمے کے اندراج کے باوجود ملزم کی عدم گرفتاری پولیس کے صوبائی سربراہ کیلئے کوئی بہتر صورتحال نہیں۔ ایک نظم وضبط کے حامل فورس میں نظم وضبط کی کھلی خلاف ورزی ممکن ہی نہیں اس ضمن میں چہ مگوئیاں اور احکامات پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد سے گریز ہی نیک شگون نہیں۔ آئی جی کو چاہئے کہ وہ پولیس فورس پر اپنی گرفت مستحکم کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر افسران کے تبادلے کرے اور اچانک دوروں کے ذریعے پولیس کی کارکردگی چانچنے اور موقع پر کارکردگی سے براہ راست آگاہی کے ذریعے ان کو باور کرائے کہ پولیس ایک نظم وضبط والی فورس ہے جس میں چہ میگوئیوں کی گنجائش نہیں۔

ہیلتھ کیئر کمیشن کو فعال بنانے کی ضرورت

خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے متھرا میں واقع نجی کلینک میں دوران زچگی فوت ہونیوالی خاتون کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے کلینک اور لیبرروم کو سیل کرکے لیڈی ہیلتھ ورکر کو نوٹس جاری کرنا اس لئے کافی نہیں کہ یہ قدم ایک افسوسناک واقعہ سامنے آنے کے بعد اُٹھایا گیا ہے جس کی نشاندہی مرحومہ کے ورثاء نے درخواست کر کے کی۔ ہیلتھ کیئر کمیشن کے حکام کے مطابق واقعہ غفلت کی بنا پر پیش آیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہیلتھ کیئر کمیشن کی غفلت اور تساہل کا نتیجہ ہی ہے جس کے باعث ایسے مقامات پر زچگی سمیت علاج معالجہ کے نام پر مریضوں کی صحت اور زندگی سے کھیلا جاتا ہے جہاں نہ تو سہولیات ہیں اور نہ ہی ایسا تجربہ کار عملہ اور ساز وسامان موجود ہوتے ہیں جو زچگی کی پیچیدگیوں کو بروقت سمجھ سکیں اور صورتحال پیچیدہ ہونے پر مریضہ کو بروقت بڑے ہسپتال ریفر کریں۔ اس کی بڑی وجہ ایک تو رقم کی لالچ ہوتی ہے اور دوم یہ کہ اس طرح سے ان کا بھانڈا پھوٹ جاتا ہے جس کے باعث آخر وقت تک ان کی سعی ہوتی ہے کہ وہ مریضہ کی جان خطرے میں ہونے کے باوجود دوسری جگہ نہ بھجوائیں۔ ایسے واقعات میں اگر مریضہ کی جان بچ بھی جائے تو دیگر پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ سادہ لوح مریضوں کو علاج کے نام پر اتائیوں کی جانب سے لوٹنے اور جعلی لیبارٹریوں کی جعلی رپورٹوں جیسے واقعات کی روک تھام اسی وقت ممکن ہوگی جب متعلقہ حکام باقاعدگی سے دورے کریں اور غیرمستند افراد کو لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے نہ دیں۔

متعلقہ خبریں