Daily Mashriq

معیشت کا سدھار کب اور کیسے؟

معیشت کا سدھار کب اور کیسے؟

وزیراعظم عمران خان نے پیر کے روز معروف ٹی وی اینکرز کیساتھ خاصی طویل گفتگو کے دوران بہت سے اہم موضوعات پر گفتگو کے دوران بعض چونکا دینے والے انکشافات بھی کئے ہیں۔ مثال کے طور پر انہوں نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ وسط مدتی انتخابات بھی ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اسی روز انہیں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خط موصول ہوا ہے جس میں صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان افغان طالبان سے امریکہ کے مذاکرات کے حوالے سے تعاون کرے۔ ان کے ان بیانات نے اخبارات میں شہ سرخیوں میں جگہ پائی۔ تاہم ان کی یہ بات بھی بہت چونکا دینے والی تھی کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کی اطلاع انہیں ٹی وی کی خبروں کے ذریعے ملی۔ ڈالر کی روپے کے مقابلے میں قدر میں اضافہ کئی دن سے ہو رہا تھا لیکن وزیراعظم کے اس بیان کے بعد جس کا مفہوم تھا کہ حالات بہت جلد ٹھیک ہونے والے نہیں اور چین کے سفارت کار کے اس بیان کے بعد کہ چین نقد رقم پاکستان کو دینے کی بجائے سرمایہ کاری میں اضافہ کرے گا یوں لگتا ہے کہ سٹاک مارکیٹ میں تھرتھلی مچ گئی۔ ڈالر کی قیمت ایک سو چالیس روپے تک پہنچنے لگی۔ شاید اس وقت وزیراعظم کو خبر ہوئی ہوگی جس کے بعد گمان غالب ہے کہ ان کی ہدایات پر وزیر خزانہ اور سٹیٹ بینک نے کچھ اقدامات کئے جن کی وجہ سے شام تک ڈالر 138روپے تک آگیا لیکن یہ تو ایک دن کا قصہ ہے‘ اس کے بعد کیا اقدامات کئے گئے یہ معلوم نہیں۔ آج سے پہلے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی جو حکومتیں آئیں انہوں نے روپے کی قدر ایک سطح پر قائم رکھنے کی طرف توجہ رکھی لیکن مصنوعی طریقے سے۔ وزیراعظم نے حال ہی میں بتایا کہ روپے کی قیمت کو کسی قدر مستحکم رکھنے کیلئے سات ارب ڈالر قرضہ لیا گیا جس سے ادائیگیوں کا توازن درہم برہم ہوگیا۔ چند روز پہلے ایک طرف روپے کی قدر کم ہوئی اور ڈالر بلند ترین بھاؤ پر پہنچ گیا‘ دوسری طرف سٹیٹ بینک نے شرح سود میں ساڑھے آٹھ فیصد سے بڑھا کر دس فیصد تک اضافہ کر دیا جس کی وجہ سے سٹاک ایکسچینج میں بحرانی کیفیت پیدا ہوگئی۔ وزیراعظم نے اس حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سٹیٹ بینک خودمختار ادارہ ہے‘ اس نے موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے شرح سود میں اضافے کا فیصلہ کیا ہوگا لیکن اس کیساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ کوئی ایسا انتظام کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں کہ سٹیٹ بینک اپنے فیصلے کرتے وقت حکومت کو بھی مشاورت میں شامل کر لیا کرے۔ سٹیٹ بینک ایک خودمختار ادارہ ہے اور اسے حکومت سے مشاورت تک لانے کی کوشش کی بھی گئی تو اس میں بہت سے مراحل سے گزرنا ہوگا۔ اگر یہ ممکن بھی ہوا تو اس میں دیر لگے گی اور معیشت بحرانی کیفیت سے آج دوچار ہے۔ سابقہ حکومتوں نے روپے کی قدر میں استحکام رکھنے کیلئے مصنوعی یا غیرحقیقی طریقے اختیار کئے لیکن پی ٹی آئی کی حکومت کے پاس ادائیگیوں کے توازن میں بہتری لانے کیلئے کیا فارمولا ہے وہ نظر نہیں آرہا۔ کیا شرح سود میں اضافے‘ روپے کی قدر میں کمی اور پبلک سیکٹر کے اخراجات میں کمی کر کے ادائیگیوں کے توازن میں بہتری لائی جاسکتی ہے؟ یقیناً وزیراعظم کی اقتصادی ٹیم کے پاس کوئی فارمولا ہوگا جس کی بنیاد پر وہ کہتے ہیں کہ یہ مشکل وقت عارضی ہے اور چند دن یا چند ماہ کے بعد سب ٹھیک ہو جائے گا۔ غالب گمان یہ ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کا پیکیج لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ روپے کی قدر میں کمی‘ شرح سود میں اضافہ اور پبلک سیکٹر کے اخراجات میں کمی مشہور ہے کہ یہ آئی ایم ایف کے مطالبات ہیں لیکن آئی ایم ایف سے حتمی مذاکرات جنوری میں ہو سکتے ہیں‘ اس میں تقریباً ڈیڑھ ماہ کی مدت لگے گی۔ دوسری بات جو وزیراعظم کہتے ہیں وہ یہ ہے کہ دوست ملکوں سے سرمایہ کاری آنے والی ہے۔ چین کی طرف سے یہ واضح کیا جا چکا ہے۔ وزیراعظم نے متذکرہ بالا گفتگو میں کہا کہ ملائیشیاء سے بڑی سرمایہ کاری آنے والی ہے۔ انہوں نے کاریں بنانے والی کمپنیوں کی پاکستان میں کارخانے لگانے کی دلچسپی کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم بیرون ملک پاکستانیوں کو کچھ ترغیبات دے رہے ہیں جس کے باعث ہنڈی حوالہ کی بجائے بینکوں کے ذریعے ترسیلات میں اضافہ ہوگا۔ چین اور ملائیشیا کی سرمایہ کاری کب آئے گی۔ کاریں بنانے والے کب پاکستان میں کام شروع کریں گے اور اس سرمایہ کاری کے ثمرات کب ظاہر ہوں گے‘ اس کے بارے میںکوئی تاریخ نہیں دی جا رہی۔ یہ مشکل وقت کب تک رہے گا‘ اگر اس کا کچھ اندازہ ہو جائے تو بحرانی کیفیت کسی سطح پر سنبھلنے کی کوئی توقع کی جا سکتی ہے۔ لیکن عوام کی مشکلات میں تو اضافہ اب ہو رہا ہے۔ چھوٹے پیمانے پر سرمایہ کاری رُک گئی ہے۔ کاروبار کرنے کی لاگت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ بیروزگاری میں اضافہ ہو گیا ہے۔ بیروزگاری میں اضافہ تجاوزات گرانے کی جاری مہم کی وجہ سے بھی ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں دکانیں اور کاروباری تھڑے گرائے جا چکے ہیں۔ ہر دکان کیساتھ محض دکاندار متاثر نہیں ہوتا بلکہ اس کو مال سپلائی کرنے والوں کا روزگار بھی متاثر ہوتا ہے۔ کراچی میں وسیع پیمانے پر اور پنجاب میں بھی تجاوزات گرائی جا رہی ہیں۔ یقینا یہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ تجاوزات غیرقانونی طور پر تعمیر کی گئی تھیں لیکن بیروزگار ہونے والوں کو متبادل جگہ اور روزگار فراہم کرنا تو حکومت کی ذمہ داری ہے جو حکومت کو نبھانی چاہئے۔ اندازہ ہے کہ تجاوزات کی مہم کے نتیجے میں کئی لاکھ خود روزگار اور محنت کش بے روزگار ہو چکے ہیں۔ حکومت کی یہ ذمہ داری فوری نوعیت کی ہے کہ وہ عوام کو بتائے کہ معاشی حالات کب اور کیسے ٹھیک ہوں گے۔ محض مدت بتا دینا کافی نہیں ہوگا‘ یہ بھی بتانا ضروری ہوگا کہ حالات سدھارنے کیلئے حکومت کیا اقدامات کرنے والی ہے تاکہ یہ اقدامات عوام کو نظر آئیں اور انہیں یہ اندازہ ہو سکے کہ جو مدت دی گئی ہے اس میں واقعی حالات بہتر ہو جائیں گے۔

متعلقہ خبریں