Daily Mashriq


شیخ چلی اور بل گیٹس میں فرق

شیخ چلی اور بل گیٹس میں فرق

بل گیٹس اور شیخ چلی میں صرف ایک فرق نظر آتا ہے کہ شیخ چلی ’’بڑے لوگوں‘‘ کی طرح وقت سے پہلے سوچتا تھا مگر عمل کرنے کی توفیق نہیں ہوتی تھی، بل گیٹس نے وہی بات پہلے دولت کما کر کی تو اس کی بات پر لوگ کان بھی دھرتے ہیں، اگر وہ بھی ایک کچی مٹی کی ہانڈی سر پر رکھ کر یہی سوچتا کہ بازار جاکر جو کچھ اس ہانڈی میں ہے اسے بیچ کر مرغی خریدے گا، مرغی انڈے دے گی تو انہیں بیچ کر بکری خریدے گا، بکری کا دودھ بیچ کر بھینس خریدے گا، بھینس دودھ بھی دے گی ساتھ میں کٹا کٹی بھی آئیں گے تو ان کو پال کر ایک روز نہال ہو جائے گا اور یہ سوچتے سوچتے اس کی سر سے ہانڈی گر کر چکنا چور ہوگئی تو اس کے سارے خواب ہی بکھر کر رہ گئے، موصوف کے مقابلے میں بل گیٹس نے پہلے عملی زندگی کا آغاز کیا اور پھر جب وہ دنیا کے مالدار ترین افراد میں بھی فہرست کے اوپر پہنچ گیا تو اس نے لوگوں کو مرغیاں پالنے، کٹا کٹوں کا کاروبار کرنے کے مشورے دے دیکر اپنی واہ واہ کروائی، گویا شیخ چلی اور بل گیٹس میں صرف غربت اور امارات کی دیوار حائل تھی۔ یعنی وہ جو پشتو کی ایک ضرب المثل بزرگوں کے دور سے چلی آرہی ہے کہ ’’خوار پہ کور ہم خوار اوپہ ہندوستان ہم خوار‘‘ یعنی بدقسمت اپنے گھر میں بھی خوار اور ہندوستان میں بھی خوار ہی ہوتا ہے، تو بے چارہ شیخ چلی قسمت کا ایسا دھنی تھا کہ جس کام میں بھی ہاتھ ڈالتا، ناکامی سے دوچار رہتا، یہ الگ بات ہے کہ وہ عملی آدمی نہیں تھا، اس کی ساری سرگرمیاں صرف سوچ تک محدود ہوتیں، یعنی نکھٹو تھا، تبھی تو کوئی بھی منصوبہ بناتا، سر پر رکھی کچی مٹی کی ہانڈی کی طرح بیچ چوراہے کے اس کی قسمت کی طرح پھوٹ جاتا۔ گویا اس کی صورتحال مرزا غالب کے اس شعر کی مانند تھی کہ

تھا خواب میں خیال کو دل سے معاملہ

جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا

یہ جو بل گیٹس نے انڈے مرغی کٹا کٹے کا فلسفہ دیا ہے اور جس پر کچھ غریب ممالک میں تجربات بھی کامیاب ہوچکے ہیں تو ایسا تو ہمارے ہاں نہ جانے کتنی مدت سے کام ہوتا رہا ہے اور شاید اب بھی ایسا ہی کہیں نہ کہیں ہوتا رہا ہو، یعنی مرغیاں پال کر انڈے جمع کر کے انہیں فروخت کرنا، اس حوالے سے پشتون معاشرے میں ایک کردار خاصا مشہور ہے جیسے ’’ہاوال‘‘ یعنی انڈے اکٹھے کرنے والا، ایسے کردار اکثر مختلف دیہات میں سائیکل پر ٹوکریاں لٹکائے گلی گلی گھوما کرتے اور اس کے سائیکل پر لگی گھنٹی کی مخصوص ٹن ٹن ساتھ ہی اس کے انڈے خریدنے کیلئے اونچی آواز میں انڈے لاؤ انڈے کی صدائیں بلند ہوتیں تو گھروں کے دروازے کھل جاتے اور گھروں میں جمع شدہ انڈے اسے فروخت کرکے لوگ انہی پیسوں سے ضرورت کی کئی چیزیں خرید کر کام چلاتے جبکہ انڈوں والا یہ انڈے شہر لاکر دکانداروں کو فروخت کرتا اور منافع کمانے کا یہ پورا چین اسی طرح چلتا رہتا۔ یہ تو برا ہو ان سرمایہ داروں کا جنہوں نے برائلر مرغیوں اور ولایتی انڈوں کے کاروبار پر بھی قبضہ جما لیا ہے اور اب نہ ’’ہا وال‘‘ کی کوئی قدر ہے نہ ہی کوئی اس پر اعتبار کرتا ہے کیونکہ انگریزی مرغیوں والے انڈوں کی نسبت دیسی مرغیوں کے انڈے خاصے مہنگے ہونے کی وجہ سے یار لوگوں نے اس میں بھی کئی کرتب ڈھونڈ لئے ہیں اور اصلی دیسی مرغی کے انڈے تقریباً ناپید ہوچکے ہیں اور جو انڈے دیسی کے نام پر فروخت ہوتے ہیں ان میں بھی کم ہی اصلی دیسی ہوتے ہیں کیونکہ دو نمبری ہر جگہ چل جاتی ہے اور اب وہ جو ایک کردار یعنی ’’ہا وال‘‘ ہوتا تھا وہ بھی خال خال ہی دکھائی دیتا ہے جو نہ صرف انڈوں کی سپلائی کے چین کا اہم کردار ہوتا تھا بلکہ مرغیاں پالنے اور انڈے حاصل کرنے والوں اور دکانداروں کے درمیان پل بن کر زندہ تھا۔ گھروں میں مرغیاں پال کر ان سے انڈے حاصل کرنے والے انڈوں کیساتھ ساتھ مرغیوں کی فروخت سے بھی ایک طرف اپنی آمدنی میں اضافہ کرتے تھے کہ جب مرغیاں کڑک ہو جاتی تھیں تو انہیں شہر لاکر فروخت کر دیتے جبکہ یہی دیسی مرغیاں لوگ گھروں میں بھی لے جاتے اور شہر کے کئی علاقوں میں دیسی یخنی کی دیگچی لگا کر لذیذ یخنی فروخت کرنیوالے بھی یہی مرغیاں خرید کر اپنا کاروبار چمکاتے۔ مریضوں کو بھی حکیم اور ڈاکٹر دیسی مرغی کی یخنی استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں، یوں یہ چھوٹا سا کام یعنی گھروں میں مرغیاں پالنے اور ان سے حاصل شدہ انڈوں کی فروخت سے زندگی کی گاڑی چلانے کا کام صدیوں سے رائج ہے، اس لئے یہ جو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ چھوٹے سے کاروبار سے آگے بڑھو تو اس میں برائی کیا ہے یعنی بقول حبیب جالب

یہی تو وقت ہے آگے بڑھو خدا کیلئے

کھڑے رہو گے کہاں تک تماشبینوں میں

ہاں البتہ اس حوالے سے بل گیٹس بن کر آگے بڑھوگے تو فائدے میں رہو گے، شیخ چلی کی مانند صرف منصوبے بنانے اور پھر ان پر یوٹرن لینے سے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہونے کا اور اگر غور سے دیکھیں تو برسوں پہلے جب ہر جانب دیسی مرغیوں اور دیسی انڈوں کا راج تھا تو لوگ انہی کے فروخت سے پورے گھر کا نظام چلاتے تھے، اب بھی چلاتے ہیں مگر مرغی مافیا والے جنہوں نے برائلر مرغی اور ولایتی انڈوں کے کاروبار پر قبضہ جما رکھا ہے، ان سے جان چھڑانے اور زندہ رہنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ دیسی مرغیاں پالو، انڈے بیچو، کٹا کٹی پالو اور زندگی خوشحال بناؤ، بل گیٹس کی طرح شیخ چلی بن کر نہیں۔

متعلقہ خبریں