Daily Mashriq

بے سودمانیٹرنگ نظام اورمیگا فون سے تنگ شہری

بے سودمانیٹرنگ نظام اورمیگا فون سے تنگ شہری

قارئین کے ارسال کردہ مسائل ومعاملات کی نشاندہی ایک فریضہ اور ایک گونہ اطمینان کا باعث ضرور ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ خوشگوار عمل ان شکایات کا نوٹس لیکر ان پر علمدرآمد کے اطلاعات ملنے کی خوشی ہے لیکن کم ہی قارئین اس امر کی زحمت گوارا کرتے ہیں کہ ان کی نشاندہی پر متعلقہ حکام نے نوٹس لیا اور مسئلہ حل کر لیا گیا۔ سرکاری اداروں میں پبلک ریلیشنز آفیسرز اور عملہ ہوتا ہے لیکن شاید ان کو خود اپنے ہی ادارے کی کارکردگی مطلوب نہیں اس لئے کسی بھی جانب سے کم ہی عملدرآمد کا کوئی برقی پیغام ملتا ہے لیکن بہرحال اس کے باوجود صوبہ بھر میں ہمارے نمائندوں اور عملے کے افراد کی جانب سے سن گن ملتی رہتی ہے۔ عملدرآمد پر سب سے بہتر شرح پی ڈی اے کی نوٹ کی گئی ہے، بہرحال ہماری کوشش رہتی ہے کہ اس کالم کی وساطت سے مسائل کی نشاندہی کی ذمہ داری پوری ہوتی رہے۔پشاور سے ہمارے قاری صدام کا خیال ہے کہ پشاور سے افغان مہاجرین کو وطن واپس بھیجا جائے تو لوگوں کے کافی سارے مسائل حل ہوں۔ صوبائی دارالحکومت پشاور کے پھیلاؤ اور اس کی بدہیتی میں افغان مہاجرین کی بے تحاشا تعداد میں آمد کا کردار ضرور ہے لیکن اب اتنی تعداد میں افغان مہاجرین یہاں آباد نہیں، جو مہاجرین یہاں بستے ہیں وہ ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔ حکومت پاکستانی شہریوں سے تو ہر قسم کے ٹیکس وصول کرتی ہے اگر سالوں سے مقیم ان افغان مہاجرین اور خاص طور پر کاروباری افراد سے مناسب ٹیکس لینے کا بندوبست ہو تو موزوں ہوگا۔ اس ضمن میں حکومت کیا ضروری اقدامات کر سکتی ہے اور ایسا کیسے ممکن ہوگا یہ اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے لیکن افغان مہاجرین کو اس پر ذرا اعتراض اس لئے شاید نہ ہو کہ جب ان سے جگہ جگہ غیر قانونی طور پر رقم وصول ہوتی ہے تو حکومت کو دینے پر ان کو بھلا کیا اعتراض ہوگا۔ جہاں تک ان مہاجرین کی واپسی کا تعلق ہے ان کی واپسی ضرور ہونی چاہئے لیکن بین الاقوامی اداروں اور بعض دیگر معاملات کے باعث ان کا فوری انخلا ممکن نہیں۔ بہرحال ان کی جلد سے جلد واپسی ہونی چاہئے اور حکومت کو اس حوالے سے اقدامات میں مزید تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔کرک کے مسائل کے حوالے سے گزشتہ کالم میں بھی لکھا گیا تھا، اس پر کئی برقی پیغامات آئے مگر ان پیغامات میں مسائل کی نشاندہی موجود نہ تھی۔ ایسے کئی برقی پیغامات ملتے ہیں جس میں یہ نہیں بتایا جاتا کہ مسائل کیا ہیں صرف مسائل پر لکھنے کا کہا جاتا ہے۔ گزارش ہے کہ اپنے علاقے کے مسائل کا تذکرہ کریں، مشکلات بیان کریں اس کے بعد ہی اس پر کچھ لکھنا ممکن ہوگا۔ بہرحال کرک سے سڑکوں کی خستہ حالی کا ایک نکاتی برقی پیغام ملا ہے۔ کرک کے سڑکوں کی خستہ حالی کا مسئلہ ضرور ہوگا لیکن یہ وضاحت نہیں کہ کونسی سڑک زیادہ خراب ہے، اس سڑک کی مرکزیت اور اہمیت کتنی ہے وغیرہ وغیرہ۔ جن جن علاقوں کے نوجوان اپنے علاقے کے مسائل واضح طور پر لکھتے ہیں ان کو ترجیح ملنا فطری امر ہوگا۔ حکومت سے کرک کی سڑکوں کی خستہ حالی پر توجہ کی گزارش ہے۔ ہمارے ایک قاری رفعت اللہ خان نے بڑی اچھی بات کی ہے کہ ایک جانب حکومت ہسپتالوں کے ایم ایس، منتظیمن اور محکمہ تعلیم کے ڈی ای اوز، ایس ڈی ای اوز کو لاکھوں روپے کی تنخواہ دیتی ہے اور اوپر سے مانیٹرنگ کا نظام چلانے پر اخراجات کئے جا رہے ہیں۔یوں ایک ہی مقصد پر حکومتی خزانے سے دو ہرے اخراجات ہوتے ہیں۔ محکمہ صحت اور تعلیم کے ضلعی حکام اور ہسپتالوں وسکولوں کے سربراہوں کی ذمہ داری ہی متعلقہ عملے کی نگرانی اور ان سے کام لینا ہے۔ اگر وہ ایسا کرنے مں ناکام ہیں تو پھر ان کی بھی ضرورت نہیں، اگر ان کی موجودگی میں مانیٹرنگ کیلئے الگ سے عملہ رکھ کر تنخواہیں دینے کی ضرورت پڑتی ہے تو پھر ان پر ہی سختی کرکے کام کیوں نہیں لیا جاتا۔ بدقسمتی سے نوکروںکے چاکر قسم کی طرح کے معاملات بلا سوچے سمجھے شروع کئے جاتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ سرکاری ملازمین ازخود فرائض کی انجام دہی کیلئے تیار ہی نہیں۔ ایسا ہر دفتر میں ہے جہاں فعال اور ایماندار افسران نہیں ہوتے ماتحت عملہ کم ہی دلچسپی سے کام کرتا ہے اس بات سے عدم اتفاق کی گنجائش نہیں کہ تہہ درتہہ نظام کی بجائے مروج نظام کے تحت ہی متعلقہ افسران کو قابل احتساب واستفسار بنا دینا چاہئے تاکہ خواہ مخواہ کے مخبر قسم کے عملے کی ضرورت نہ پڑے۔ مانیٹرنگ کا نظام رائج کرنے کے باوجود بھی ذرا بہتری نہیں آئی اور نہ ہی اس کی توقع ہے۔ حیات آباد فیز6 ایف9 اور ایف6 سے شکایت موصول ہوئی ہے کہ ابراہم مارکیٹ اور نواب مارکیٹ میںروٹی کا وزن چیک کرنے کوئی نہیں آتا۔ روٹی پاپڑ بن چکی ہے، دودھ دہی کا معیار اور مقدار دونوں مناسب نہیں، سیکورٹی کی صورتحال بھی ٹھیک نہیں، سب سے زیادہ مشکلات کا باعث میگا فون لگائے وہ موٹرسائیکل سوار سبزی وفروٹ فروش اور کباڑی ہیں جو شہریوں کو ذرا دیر بھی شور سے پاک ماحول میں گھروں میں سکون سے بیٹھنے نہیں دیتے۔ سکول بسوں اور سکول ویگنوں کے پریشر ہارن اور ریس لگاتی ان گاڑیوں کے سلنسر سے نکلتا دھواں، نوجوان لڑکے گلیوں اور پارکوں میں کرکٹ اور فٹ بال کھیلتے ہیں جس کی شکایت کرنے پر کوئی بھی قدم نہیں اُٹھایا جاتا۔ صفائی کی صورتحال بھی ناگفتہ بہ ہے، خالی پلاٹ گندگی سے بھرے ہیں، سیوریج لائن بند ہو جائے تو ٹھیک کرنے میں ہفتہ گزر جاتا ہے، ایک اچھے ٹاؤن شپ میں یہ مسائل ہیں تو باقی شہر کا کیا ہوگا۔قارئین سے گزارش ہے کہ وہ اپنے پیغامات اس طرح سے تحریر کریں کہ سمجھنے میں اُلجھن محسوس نہ ہو اور بآسانی شامل اشاعت کیئے جا سکیں۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کر سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں