Daily Mashriq


بلی تھیلے سے باہر آگئی

بلی تھیلے سے باہر آگئی

انڈین آرمی چیف بپن راوت نے کہا ہے کہ اگر پاکستان کو انڈیا سے تعلقات بہتر بنانے ہیں تو اسے اسلامی ملک کی جگہ ایک سیکولر ملک ہونا پڑیگا۔ انڈین ذرائع ابلاغ پر نشر ہونے والے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی اندرونی حالت دیکھنی ہوگی۔ پاکستان نے اپنی ریاست کو اسلامی ریاست بنا لیا ہے۔ آخرکار بلی تھیلے سے باہر آہی گئی۔ انڈیا کے ایک بہت ہی ذمہ دار شخصیت کے منہ سے وہ بات نکل ہی گئی جو انڈیا کی دو بڑی پارٹیوں کانگریس اور بی جے پی کے ہر ہندو کے دل میں ہے اور جو ہر ہندو کو گزشتہ71سال سے بے چین کئے ہوئے ہے کہ ان کی گاوماتا کیوں دوٹکڑے ہو گئی جس کا ایک ٹکڑا اب پاکستان کہلاتا ہے۔ان کے دل پر مزید زخم یہ ہے کہ نہ صرف پاکستان نے ایٹمی طاقت بن کر اکھنڈ بھارت بننے کے سارے خواب چکنا چور کر دئیے بلکہ قرارداد مقاصد کے بعد اپنے 1973 کے آئین میں صراحت کیساتھ یہ بات لکھ دی کہ اس ملک میں قرآن و سنت کیخلاف کوئی قانون نہیں بنے گا۔ مزید یہ کہ ریاست پاکستان نہ صرف اپنے شہریوں کو قرآن وسنت کے مطابق زندگی گزارنے کیلئے تمام ضروری سہولیات مہیا کریگی بلکہ اسلام کی تبلیغ و نفوذ کیلئے بھی اقدامات کریگی۔ اب ظاہر ہے گاوماتا کے پجاری یہ کیسے برداشت کر سکتے ہیں کہ ریاست پاکستان نے اپنے آپ کو آئینی طور پرایک اسلامی حکومت بنا کر نہ صرف اپنے آزاد ہونے کا جواز مہیا کیا بلکہ ایٹمی طاقت بن کر تاقیامت قائم رہنے اور عالم اسلام کا قلعہ ہونے کا اعزاز بھی حاصل کرلیا۔ 1947میں آزادی کے وقت کانگریس کے بڑے بڑے لیڈروں نے اپنے پیروکاروں کو یقین دلایا تھا کہ پاکستان چند مہینے سے ذیادہ قائم نہیں رہ سکتا اور جلد ہی ہاتھ جوڑ کر ہمارے پاس آئیگا لیکن ان کے سارے خواب ادھورے رہ گئے۔پاکستان نہ صرف قائم ہو کر اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگیا بلکہ ابھی دس سال کا بھی نہیں ہوا تھا کہ امت مسلمہ کا مددگار و غمخوار بن گیا۔

قصہ مختصر یہ کہ انڈین آرمی چیف نے پاکستان سے سیکولر بننے کی جو فرمائش کی ہے اس کے پیچھے صدیوں کی متعصب ہندو ذہنیت اور وہ خواب ہیں جو ہندو بنیا ہمیشہ دیکھتا رہا ہے لیکن ان خوابوں کی تعبیر میں پاکستان رکاوٹ ہے۔آپ دنیا میں کسی بھی انڈین سے ملیں وہ آپ کو بڑے پیار سے ملے گا اور آپ کو کہے گا کہ ہمارا تو خون ایک ہے۔ہماری ثقافت اور عادتیں ایک جیسی ہیں۔پتہ نہیں ہم علیحدہ کیوں ہوگئے۔ میں ہمیشہ جواب دیتا ہوں کہ صرف ہمارا نہیں پوری دنیا کے انسانوں کا خون ایک ہے لیکن تہذیب، مذہب، ثقافت اور قومی مفادات کی بنیاد پر دوسو سے ذیادہ ممالک میں تقسیم ہیں۔ مسلمان ایک خدا کے سامنے سجدہ کرتے ہیں جبکہ تم لوگ نہ صرف بتوں بلکہ گائے،سانپ، بندر، ہاتھی وغیرہ کے سامنے بھی سجدہ کرنے لگ جاتے ہو، آپ بتائیں کہ ہماری کونسی اقدار آپس میں مشترک ہیں اور تمہاری کونسی اقدار دنیا کی کسی بھی خطے کی سیکولرازم میں فٹ بیٹھتی ہیں؟ کچھ عرصہ پہلے ویت نام میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت سے واپسی پر بنکاک ایئر پورٹ پر کچھ انڈین صحافیوں سے دلچسپ گفتگو ہوئی۔انڈین صحافیوں نے حسب معمول وہی راگ الاپنا شروع کر لیا کہ ہمارا تو خون ایک ہے، عادتیں ایک ہیں، پاکستان غلط بنا دوبارہ ملنا چاہئے، پاکستان انڈیا میں دہشتگردی کروا رہا ہے۔کارگل کی لڑائی بھی خواہ مخواہ چھیڑ دی۔ میں نے ان کو بتایا کہ میں ایک ڈاکٹر ہوں اور میرا سیاست یا فوجی مہمات وغیرہ سے کوئی تعلق نہیں، لیکن ایک بات یاد رکھیں کہ ایک جیسا انسان ہونے کے ناطے ہمارا صرف خون ایک جیسا ہے باقی سب کچھ مختلف ہے۔ اسلئے یہ خواب دیکھنا چھوڑ دیں کہ آپ پاکستان کو فتح کر کے دوبارہ انڈیا میں ملا دیں گے۔ آپ کو پاکستان سے شکایات ہیں اور کارگل جھڑپ کی بات کرتے ہیں تو ذرا یہ بتائیں کہ کیا آپ کی فوج1971میں ڈھاکہ میں پکنک منانے گئی تھی۔ آپ صدیوں سے غیر آباد سیاچن میں کیوں گئے۔ جہاں کا موسم دونوں ملکوں کیلئے عذاب بن گیا ہے آپ بلوچستان میں کیوں دہشتگردی کرا رہے ہیں جسکے دستاویزی ثبوت ہمارے وزیراعظم نے تمہارے وزیراعظم کو شرم الشیخ ملاقات کے دوران دے دئیے تھے۔ وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگے۔ میں نے ان سے ایک بات پوچھی کہ فرض کریں پاکستان کے پاس دس ایٹم بم ہیں اور انڈیا کے پاس پچاس اور ایک چھوٹاملک ہونے کے ناطے پاکستان نے اپنی سا لمیت کو کوئی خطرہ محسوس کیا تو وہ یقینا ایٹمی حملہ کرنے میں پہل کریگا۔ تو کیا آپ دس ایٹم بموں کی مار کھانے کیلئے تیار ہیں؟ اگر نہیں تو پھر آئیں پاکستان کو ختم کرنے کے خواب بھلا کر اصل تنازعے کشمیر پر بات کریں اور صرف اچھے پڑوسیوں کی حیثیت سے پرامن بقائے باہمی کا سمجھوتہ کر لیں۔ مجھے خوشی ہوئی کہ انڈین صحافیوں نے اس بات پر اتفاق کر لیا کہ دونوں طرف سے کچھ جائزشکایتیں ہیں جن کا ازالہ ضروری ہے اور گرم جوشی سے ہاتھ ملا کر رخصت ہوئے۔

متعلقہ خبریں