Daily Mashriq

وزیراعظم نے نئی قانون سازی کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی

وزیراعظم نے نئی قانون سازی کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے آرمی چیف کی تعیناتی اور مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق آئین میں نئی قانون سازی/ترمیم کے لیے وزیرقانون فروغ نسیم کی سربراہی میں 8 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی۔

قانون سازی کے معاملات نمٹانے سے متعلق کمیٹی (سی سی ایل سی)، 1973 کے رولز آف بزنس کے ضابطہ 17 (2) کے تحت قائم کی گئی۔

کمیٹی کے ٹرم آف ریفرنس سے متعلق بتایا گیا کہ 'کمیٹی نئی قانون سازی کے ساتھ ساتھ موجودہ قوانین ترمیم کے معاملات کو دیکھے گی اور اپنی سفارشات پیش کرے گی کہ آیا انہیں پارلیمان میں پیش کیا جائے یا دوسری صورت میں یہ کابینہ کی توثیق سے مشروط ہو'۔

علاوہ ازیں کابینہ ڈویژن کی جانب سے کمیٹی کے لیے سیکریٹریٹ سپورٹ فراہم کی جائے گی۔

اس سی سی ایل سی کمیٹی کے دیگر اراکین میں اٹارنی جنرل انور منصور، وزیر پارلیمانی امور اعظم خان سواتی، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب مرزا شہزاد اکبر، سیکریٹری قانون و انصاف، (وزیراعظم آفس) کے جوائنٹ سیکریٹری اور کابینہ سیکریٹری بطور سیکریٹری آف کمیٹی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے میں آئندہ 6 ماہ کے لیے جنرل قمر جاوید باجوہ کی بطور آرمی چیف دوبارہ تعیناتی/ توسیع کی اجازت دی تھی۔

ساتھ ہی عدالت نے حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وہ اسی مدت کے دوران قانون سازی کے ذریعے آرمی چیف کی مدت ملازمت، سروسز کی شرائط و ضوابط کو طے کرے۔

تاہم فروغ نسیم سمیت کچھ حکومتی وزیروں کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ موجودہ آرمی چیف آئندہ 3 سال کے لیے خدمات انجام دیں گے۔

اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ حکومت، سینیٹ میں اکثریت رکھنے والی اپوزیشن کی حمایت کے بغیر کوئی قانون سازی کو پاس نہیں کرسکتی تاہم اس کے باوجود وزیراعظم اور ان کے وزرا کی جانب سے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر اپوزیشن رہنماؤں پر تنقید کی جارہی۔

علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ (ن) کا ایک وفد سابق وزیراعظم اور پارٹی کے تاحیات قائد نواز شریف سے ملنے اور آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر قانون سازی سے متعلق ان کی رہنمائی حاصل کرنے کے لیے لندن روانہ ہورہا ہے۔

متعلقہ خبریں