Daily Mashriq

میک اپ مصنوعات کے ساتھ یہ احتیاط نہ کرنا بیمار کرسکتا ہے

میک اپ مصنوعات کے ساتھ یہ احتیاط نہ کرنا بیمار کرسکتا ہے

اگر آپ دنیا بھر میں موجود ان کروڑوں خواتین میں سے ایک ہے جو مسکارا، لپ گلوس یا دیگر میک اپ مصنوعات کرتی ہیں تو جان لیں کہ ایسی مصنوعات میں جان لیوا جراثیم موجود ہوتے ہیں، اور اس کی وجہ آپ کی ہی سستی ہوسکتی ہے۔

یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

آسٹن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ اس وقت نوے فیصد یا ہر 10 میں سے 9 کاسمیٹکس مصنوعات خطرناک جراثیم بشمول ای کولی اور دیگر سے آلودہ ہوتی ہیں جبکہ بیوٹی بلینڈرز، مسکارا اور لپ گلوس میں سب سے زیادہ مقدار میں بیکٹریا پائے جاتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق بیشتر بیکٹریا قدرتی طور پر جلد پر موجود ہوسکتے ہیں مگر میک اپ مصنوعات کی شکل میں وہ سنگین امراض جیسے جلدی انفیکشن سے لے کر آشوب چشم اور بلڈ پوائزننگ تک، کا خطرہ بڑھتا ہے۔

اگر یہ جراثیم جسم میں آنکھوں، منہ یا کسی زخم یا چہرے پر خراش سے داخل ہوں تو مدافعتی نظام متاثر ہونے کا امکان بھی ہوتا ہے۔

طبی جریدے جرنل آف اپلائیڈ مائیکروبائیولوجی میں شائع تحقیق میں سائنسدانوں نے 470 کاسمیٹکس مصنوعات جیسے لپ اسٹک، لپ گلوس، آئی لائنر، مسکارا اور بیوٹی بلینڈرز وغیرہ میں جراثیمی آلودگی کا جائزہ لیا۔

محققین نے دریافت کیا کہ ایک بار استعمال ہونے کے بعد ان مصنوعات میں جراثیمی آلودگی کی شرح 79 سے 90 فیصد تک بڑھ جاتی ہے جبکہ 25 فیصد مصنوعات میں متعدد اقسام کی Fungi کو دریافت کای گیا۔

محققین کا کہنا تھا کہ اسفنج جیسے بیوٹی بلینڈرز کو لیکوئیڈ فاﺅنڈیشن مصنوعات کو لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور استعمال کے بعد ایک طرف رکھ دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ جراثیم کی افزائش نسل کے لیے مثالی ثابت ہوتا ہے۔

محققین کے مطابق مجموعی طور پر جراثیم کی مقدار بہت زیادہ ہونے کی وجہ صارفین کی جانب سے ان مصنوعات کی صفائی کا خیال نہ رکھنا ہے یا ایکسپائری تاریخ کے بعد بھی استعمال کرنا ہے۔

محققین نے مزید کہا کہ ممکنہ طور پر یہ مصنوعات جب خریدی جاتی ہیں تو ان میں یہ جراثیمی آلودگی نہیں ہوتی، مگر ان میں موجود جراثیم کش اجزا کی افادیت وقت کے ساتھ ختم ہوجاتی ہے اور جراثیم کی شرح بڑھنے لگتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فنگس اور بیکٹریا ضروری نہیں کہ ہمیشہ انفیکشن کا باعث بنے تاہم اگر میک اپ کے استعمال کے دوران کھلے زخم یا خراش کے نتیجے میں انفیکشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے خاص طور پر اینٹی بائیوٹیکس کے خلاف مزاحمت کرنے والا انفیکشن، جس کا علاج مشکل ہوتا ہے اور جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

ماہرین نے مشورہ دیا کہ میک اپ کے لیے استعمال ہونے والے برشز کو ہر 7 سے 10 دن میں دھونا چاہیے تاکہ بیکٹریا کے اجتماع کو روکا جاسکے۔

اس مقصد کے لیے نیم گرم پانی میں شیمپو کو مکس کرکے ہر برش کو اس میں دھونا چاہیے اور کبھی بھی اپنے برش کو دوسروں کے ساتھ استعمال مت کریں۔

محققین نے کمپنیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ایکسپائری تاریخ کو زیادہ نمایاں اور واضح کریں تاکہ اس کے بعد ان کا استعمال نہ ہوسکے۔

متعلقہ خبریں