Daily Mashriq


گائنی ہسپتال کے قیام کا احسن منصوبہ

گائنی ہسپتال کے قیام کا احسن منصوبہ

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی جانب سے پشاور میں پانچ سو بستروں پر مشتمل گائنی ہسپتال کے قیام کے اعلان کو عملی جامہ پہنا ئے جانے کی صورت میں صوبائی دارالحکومت اور دیگر علاقوں سے آنے والی خواتین مریضوں کی مشکلات میں کمی آئے گی اور ان کا بہتر علاج معالجہ متوقع ہے ۔ ہسپتالوں میںگائنی وارڈ اورگائنی او پی ڈی کی بد ترین صورتحال کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر ہسپتال کے کسی سینئر افسر سے بھی متعلقہ شعبے میں در پیش مسئلے کے حل کیلئے مدد طلب کی جائے تو ایک لمحے کیلئے ، و ہ سوچ میں پڑ تا ہے ۔گائنی اوپی ڈی ،گائنی وارڈ اور خصوصاً لیبر رومز میں مریض کے داخلے کے بعد صحیح معنوں میں اس محاورے کی سمجھ آتی ہے کہ عورت ہی عورت کی دشمن ہوتی ہے ۔ اب تو دیگر ہسپتالوں سے ریفرکرنے پر پابند ی عائد کر نے کے عاجلانہ فیصلے کے بعد لیڈی ریڈنگ ہسپتال جیسے مرکزی اور صوبے کے سب سے بڑے ہسپتال میں ایمر جنسی میںگائنی مریضوں کو داخل کرنے سے صریح انکار کیا جانے لگا ہے جس کے باعث کسی بھی وقت زچہ و بچہ کی موت واقع ہونے کی اطلاع متوقع ہے ۔ مریضوں اور ان کے لواحقین کے رل جانے کا سلسلہ تو معمول کی بات ہے اس ضمن میں ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کہ رجوع کرنے پر ہسپتال کی انتظامیہ بھی بے بسی کی تصویر بنی دکھائی دیتی ہے اس طرح کے حالات میں جہاں وقتی طور پر اصلاح احوال پر توجہ کی ضرورت ہے وہاں اس کا مستقل حل تلاش کرنے اور خواتین مریضوں کو دوہری مشکلات سے نکالنے کیلئے علیحدہ ہسپتال کے قیام کی ضرورت ہے ، وزیر اعلیٰ نے اس امر کی وضاحت نہیں کی کہ یہ ہسپتال کہاں تعمیر کیا جائے اور اس کا حشر بھی بے نظیر ہسپتال اور انڈس ہسپتال جیسا ہونے سے بچانے کے لئے کیا اقدامات کئے جائیں گے ۔ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے ہسپتالوں کو خود مختاری دینے اور اصلاحات کے جو دعوے کئے ہیں وہ بریفنگ اور کاغذات تک ضرور مئو ثر ہوں گے مگر عملی طور پر عوام اس تجربے کو موجودہ حکومت کا ناکام اور بد ترین تجربہ قرار دے رہے ہیں جس کے نتیجے میں ہسپتالوں میں مزیدپیچید گیوں اور مشکلات سے مریضوں کو دو چار ہونا پڑتا ہے یا پھر اس نظام کے مخالف با اثر عناصر نظام کو ناکام بنانے کیلئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں بہر حال صورتحال جو بھی ہو تدریسی ہسپتالوں کے نظام اور محکمہ صحت میں اصلاحات کا موجودہ حکومت کا تجربہ سود مند نہ رہا اور اس امر کا امکان موجود ہے کہ آنے والی حکومت اس ضمن میں ضروری قانون سازی کے بعد اس نظام کی بساط ہی لپیٹ دے ۔

متعلقہ خبریں