Daily Mashriq

کیاصر ف الرٹ جاری کرنا کافی ہے؟

کیاصر ف الرٹ جاری کرنا کافی ہے؟


پی ٹی ایم اے کی جانب سے چترال میں برفانی تودے گرنے اور ممکنہ سیلابی ریلے سے بچنے کیلئے الرٹ جاری کرنے کے بعد سیاحوں اور مقامی افراد محتاط ضرور ہو جائیں گے پی ڈی ایم اے کے دعوے کے مطابق ضلعی انتظامیہ کو متا ثرین کی امداد کیلئے سات کروڑ روپے رقم بھی جاری کی جا چکی ہے جو احسن اقدام ہے مگر افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ چترال میں گزشتہ دو تین سالوں کے دوران موسمی تبدیلی کے باعث قیامت خیزی کے جوواقعات سامنے آئے اس میں چترال کی ضلعی انتظامیہ بری طر ح ناکام ہوئی اب بھی وہاں کے لوگوں کی جانب سے امداد نہ ملنے کی شکایات مل رہی ہیں لیکن نہ تو ان کی تحقیقات پر توجہ دی گئی اور نہ ہی انتظامیہ سے باز پرس کی زحمت گوارا کی گئی ۔ چترال کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے متاثرین کی بروقت مدد میں ناکامی کی ایک جائز اور بڑی وجہ یہ ضرور ہے کہ چترال کی ضلعی انتظامیہ تہی دست ہے اور ضلعی انتظامیہ کے پاس نہ تو ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لئے تربیت یافتہ عملہ موجود ہے اور نہ ہی ان کی دست گیری کے لئے صوبائی حکومت ہنگامی طور پر پی ڈی ایم اے اور وفاقی حکومت ایم ڈی ایم اے کا عملہ فراہم کرتی ہے۔ سابقہ تجربات نہ دہرائیں جائیں تواشک شوئی ممکن ہے۔ متاثرین تک رسائی اور اشک بلبل کے بقدر امداد کی فراہمی بھی کم از کم ان کے لئے اس حد تک اطمینان کا باعث ضرور ہوگا کہ حکومت کی جانب سے ان کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔ پی ڈی ایم اے کو چاہئے کہ وہ ممکنہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر چترال میں ضلعی انتظامیہ کی مدد کے لئے فوری طور پر عملہ بھجوا دے تاکہ بروقت امدادی کام شروع کئے جاسکیں۔

اداریہ