Daily Mashriq

منفرد ہونے کا شوق یا مکافات ِعمل؟

منفرد ہونے کا شوق یا مکافات ِعمل؟

یوں لگتا ہے کہ امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے صدر بننے کے'' حادثے'' کا اب تک یقین نہیں آیا ۔نہ صرف وہ خود کو بلکہ پوری دنیا کو یہ یقین دلانے کے لئے ایک عجیب قسم کی اکھاڑ پچھاڑ کے موڈ میں دکھائی دے رہے ہیں ۔ایک خواب کے حقیقت میں ڈھل جانے کے باوجود وہ اپنے فیصلوں اور اعلانات سے دنیا سے اس حقیقت کو منوارہے ہیں حالانکہ حقیقت ایک وجود رکھتی ہے اور اس کا ہونا ہی اس کے وجود کی دلیل اور اظہار ہوتا ہے اور حقیقت کو منوانے کے لئے دنگا وفساد اور جور وجفا کی اضافی چیزوں کی ضرورت نہیں ہوتی ۔اس کاکیا کیجئے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اسی راہ پر چلتے دکھائی دے رہے ہیں ۔خود ایک امریکی اخبار میں شائع ہونے والے کارٹون میں ڈونلڈ ٹرمپ کو پورس کا ہاتھی بتایا گیا ہے ۔جس پر ''ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسمان کیوں ہو'' کا کپیشن سو فیصد صادق آتا ہے۔گویاکہ مسٹر ٹرمپ کی موجودگی میں اب امریکہ کو کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں۔ان کی حرکتیں اور ادائیں دنیا کی اب تک کی واحد سپر طاقت کے استخوان میں زلزلہ طاری کررہی ہیں۔ابھی تو آغاز سفر ہے اوران کی پالیسیاں امریکہ کی رائے عامہ کو منقازیر پا کرہی رہی تھیں اب دنیا بھر میں بے چینی اور اضطراب کی لہریں پورے عروج پر ہیں۔ان کی غیر معمولی سرگرمیوں کا پہلا ثبوت ان کی طرف سے میکسیکو کی سرحد پر دیوار کھڑی کرنے اور سات مسلمان ملکوں کے باشندوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کا فیصلہ ہے ۔میکسیکو نے امریکی صدر کے اس فیصلے کو پائے حقارت سے ٹھکرادیا ہے اور وہ اس پر چیں بہ جبیں ہوئے بغیر نہ رہ سکے ۔کیا عجب تماشا ہے کہ چند برس پہلے تک برصغیر میں پاکستان اور بھارت کی سرحدوں کو نرم اور غیر اہم کرنے کی بے پناہ کوششیں کرنے اور اس مقصد کے لئے بھاری سرمایہ کاری کرنے اور ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے مختلف ادوار شروع کرنے والا امریکہ آج خود اپنے ہمسایوں سے منہ موڑ کر دیواروں کے پیچھے چھپ رہا ہے ۔امریکہ کو اندازہ ہوجانا چاہئے کہ سرحدیں اور دیواریں مجبوریوں کا نتیجہ ہوتی ہیں اور انہیں تحفظات دور ہوئے بغیر گرایا نہیں جا سکتا۔ٹرمپ کا دوسرا تباہ کن قدم سات مسلمان ملکوں کے پناہ گزینوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی ہے ۔انتخابی مہم کے دوران ان کے خیالات تو دنیا پر آشکارا ہی تھے اورعالمی و علاقائی سیاسی معاملات سے لاتعلقی کی شہرت رکھنے والے امریکی بھی ان خیالات سے خوف زدہ ہوئے بغیر نہ رہ سکے تھے ۔اسی لئے ان کی جیت پر امریکہ میں ہی صف ماتم بچھ گئی تھی ۔ان امریکیوں کو خدشہ تھا کہ اگر مسٹر ٹرمپ کے خیالات پر عمل درآمد کیا گیا تو نہ صرف یہ کہ امریکہ اپنی کئی اچھی شناختی علامتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے گا بلکہ وہ رفتہ رفتہ عالمی تنہائی کی طرف کھسکتا چلا جائے گا۔ عوام نے شدید احتجاج کیا بلکہ امریکہ بھر میں امیگریشن پالیسی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ چل پڑا ہے ۔جس کے بعد عدالتوں نے امریکی صدر کے ایگزیکٹو آرڈر پر عارضی طور پرعمل درآمد معطل کردیا ۔ مسٹر ٹرمپ اس کاروائی کا دائرہ مسلمان پناہ گزینوں کے بعد دوہری شہریت اور گرین کارڈ رکھنے والے مسلمانوں تک بڑھانا چاہتے ہیں ۔مسلمان ملکوں کے باشندوں پر پابندیوں کا تاثر دے کر ٹرمپ اپنی حامی مسلمان مخالف لابی کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ انہوں نے اس لابی کی خواہشات اور سرمایہ کاری کے مقصد کے عین مطابق مسلمانوں کا ناطقہ بند کرنا شروع کر دیا ہے ۔ چار امریکی ریاستوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسی کے خلاف عدالتی جنگ لڑنے کا اعلان کیا ہے ۔ٹرمپ کی مسلمان باشندوں کے حوالے سے پالیسی پر یورپ اور اقوام متحدہ تک میں اعتراضات اُٹھائے جارہے ہیں ۔امریکہ 1945سے دنیا میں مرکزی کردار کی حامل سپر طاقت ہے ۔جب سوویت یونین سے اس کی پنجہ آزمائی بھی جاری تھی تو امریکہ روس کے مقابلے میں دوگنی اقتصادی طاقت کا حامل ملک تھا ۔اس عرصے میں اقوام متحدہ ،نیٹواورنٹرنیشنل مانیٹری فنڈسمیت جتنے عالمی اور مغربی اتحاد اور ادارے بنے ان کی تشکیل اور تعمیر امریکہ کے ہاتھوں ہی ہوئی ۔آج ٹرمپ کے ارادوں کے بھانپتے ہوئے یہ سب ادارے امریکہ کے مدمقابل آگئے ہیں۔یورپ کا سب سے اہم ملک برطانیہ گزشتہ ڈھائی عشرے میں امریکہ کی تمام فوجی مہم جوئیوں اور مہمات میں اس کادست وباز د بنا رکھا آج اسی ملک کی رائے عامہ ڈونلڈ ٹرمپ کی برطانیہ آمد کے خلاف ہے اور انہیں ناپسندیدہ مہمان قرار دے رہی ہے ۔ وزارت خارجہ کے ایک ہزار اہلکاروں کے دستخطوں بھری عرضداشت ایک لمحہ فکریہ ہے جس میں ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی سے کھلا اختلاف کیا گیا ہے یوں ٹرمپ کی جیت نے گویا کہ امریکہ کے لئے بلائوں کے صندوق کا ڈھکن کھول دیا ہے ۔دنیا کو اتھل پتھل کرنے والا ملک اپنے اندر سے اتھل پتھل کا شکار ہے ۔''ہر کمال را زوال'' ایک تاریخی صداقت اور ابدی سچائی ہے ۔امریکہ اس تاریخی سچائی کی زد میں آچکا ہے یہ کہنا قبل ازوقت ہوگا مگر جو مناظر آج دنیا دیکھ رہی ہے چشم فلک نے پہلے نہیں دیکھے ۔اب تو امریکہ اپنا اپنا سا اور اپنے جیسا لگتا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ واقعی دنیا میں اتھل پتھل کے موڈ میں ہیں یا وہ منفرد دکھائی دینے کے شوق میں حماقتوں کی دلدل میں پائوں رکھ رہے ہیں ؟فی الحال تو ٹرمپ کا امریکہ زبان حال سے اس شعر کی تصویر بنتا جا رہا ہے
تجھ کو تنہا کرگیا ہے منفرد رہنے کا شوق
اب اکیلے بیٹھ کر یادوں کے منظر دیکھنا

اداریہ