Daily Mashriq


و ایک شخص یہا ں تخت نشین تھا

و ایک شخص یہا ں تخت نشین تھا

ٹرمپ انتظامیہ نے ایر ان پر نئی تحدیدات عائد کر دی ہیں اور بتایا ہے کہ ایر ان کے بالسٹک میزائل پر وگرام سے تعلق رکھنے والے افراد اور پچیس اداروںو کمپنیو ں کو ان پا بندیو ں کا سامنا کر نا پڑے گا ، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی اتنخابی مہم کے دوران جوتحدیدات کا اعلان کیا تھا اس پر عمل در آمد شروع کر دیا ہے ، ان تجزیہ نگا رو ں کی پیش گوئیاں غلط قر ارپا رہی ہیں کہ یہ انتخابی تقاریر ہیں ، بحثیت صدر کے رویہ مختلف ہو گا ، بھارتی میڈیا جس کے مطا بق بھارت جو پا کستان کو دنیا میں تنہا کر نے کی چالیں چل رہا ہے وہ ڈونلڈ کے بھارتی جھکا ؤ کی بناء پر کا میا ب ہو جا ئے گا چنا نچہ بھارت کے الیکڑانک میڈیا نے پا کستان ، چین اور رو س کے تعلقات کے بارے میں رائے پھیلا نا شر وع کر دیا ہے اور اس طرح اپنے گردے خود چھیل رہے ہیں ، حالا نکہ امریکا کی جانب سے پا بندیو ں کی بنا ء پر ٹرمپ انتظامیہ کی سات مسلم ممالک کے شہریو ں پر سفر ی امتناع پر ایک لا کھ سے زیا دہ ویزے منسو خ ہو چکے ہیں ، واشنگٹن پو سٹ کے مطا بق ورجینا کی عدالت میں سما عت کے دوران جو اعداد وشما ر پیش کیے گئے اس میں اس امر کی تصدیق کی گئی ہے کہ برطانیہ کے ایک شہر ی کو امریکا میں داخلے سے اس لیے روک دیا گیا کہ اس کے پا سپور ٹ پر شا م اور ایک دوسرے عرب ملک کے ویزے کی مہر لگی ہو ئی تھی ، اسی طرح بھارت میں دوسری بڑی اقلیت مسلم آبادی ہے ، اور بھارت کے مسلم باشندے ایک بڑی تعداد میں امریکا میں مقیم ہے اس کے علا وہ پو نے دولا کھ طالب علم اور ان کے رشتے دار ایچ ون بی ویزا پر امریکا میں قیا م پذیر ہیں، ان کا بھی وہا ں رہنا مشکل ہو جا ئے گا بھارت جو اس وقت ڈونلڈ سے یا رانہ پر اچھل رہا ہے جب یہ پا بندی گلے پڑے گی تو اس کے گلے سے آواز نکلے گی کیو ں کہ اس وقت اس نے چپ سادھ رکھی ہے ، جو رویہ برطانوی شہریت کے حامل کے ساتھ ہو سکتا ہے وہ کسی بھی دوسرے غیر مسلم ملک کے مسلم شہر ی کے ساتھ ہو سکتا ہے ۔ اگر جائزہ لیا جا ئے تو ٹرمپ کی پا لیسیا ں وہی ہیں جو جا رج بش کی تھیں فر ق صر ف اتنا ہے کہ جا رج بش نے مسلمانو ںکے لیے کر وسیڈ کی اصطلا ح استعمال کی تھی جس کا مفہو م تھا کہ صلیبی جنگ اور ٹرمپ نے اسلامی دہشت گردی کی اصطلا ح کا لفظ استعمال کیا ہے ، ابھی حال میں انکشاف ہو ا ہے کہ ٹرمپ نے ایک خفیہ اجلا س میں اسلامی دہشت گردی کے بارے میں واضح کر دیا ہے اور کہا ہے کہ امریکا سرگرم سفید فام نسل پر ست اور قوم پر ستو ں پر نظر نہیں رکھے گا ، جس کا واضح مطلب ہے کہ کا رروائی اب کس کے خلا ف کی جائے گی، البتہ نئی امر یکی انتظامیہ کے رویے میں یہ تبدیل آئی ہے کہ ٹرمپ نے کہا ہے کہ فلسطین میں نئی اسرائیلی بستیو ں کے آباد کر نے سے امن قائم نہیں ہو سکتاعلاوہ ازیںوہ انتخابات سے پہلے روس کے ساتھ دوستی کا جودم بھر رہے تھے اس کی مٹھا س میں کر واہٹ کی آمیزیش آگئی ہے ، ٹرمپ انتظامیہ نے اقتدا ر میں آکر تیسری مر تبہ اس عزم کا اظہا ر کیا ہے کہ وہ صرف اسلا می دہشت گردی کے خلا ف لڑے گی ، پہلی بار یہ بات ا س وقت کہی گئی جب تقریب حلف برداری میںتقریر کی گئی دوسری بار جب سی آئی اے ہیڈ کو ارٹر کا دورہ کیا اور تیسری مرتبہ اس اجلا س میں کہی جس کا محولہ بالا ذکر کیا گیا ہے ۔ گو ان کی نظر میں اسلا می دہشتگردی کو ختم کردیا جا ئے تو دنیا میں امن قائم ہو جا ئے گا ، حقیقت یہ ہے کہ اس وقت جو دہشت گردی دنیا میں پھیلی ہوئی ہے اس کے پھیلا ؤ کا ذمہ دار امریکا خود ہے۔ اور جس کو وہ اسلا می دہشت گردی قرا ر دے رہا ہے وہ حقیقت میں دہشت گردی نہیں ہے ، افغانستان میں جب روس گھس بیٹھا تھا تو امریکا نے خو د تسلیم کیا تھا کہ روس نے افغانستان میںمسلح مداخلت کی ہے اور افغان عوام اپنی آزادی ، خود مختا ری اور بقا کی جنگ لڑرہے ہیں اسی بنیا د پر اس نے روس میں ہو نے والے اولمپک کھیلو ں کا عالمی سطح پر بائیکا ٹ کر ایا تھا ، اسامہ بن لا دن کی تلا ش میں وہ افغانستان اقوام متحدہ سے لائسنس لے کر آیا ، اسامہ بن لا دن کا قضیة ختم ہو چکا ہے جس کے بعد اس کے پاس کوئی اخلا قی اور قانونی جو از نہیں کہ افغانستان میں ٹھہر ے ، طالبان جو جد وجہد افغانستان میں کررہے ہیں وہ غیر ملکی تسلط کے خلا ف ہے وہ اس سے آزادی چاہتے ہیں ، مگر مختلف حیلو ں سے امریکا افغانستان میں قیا م کو طول دے رہا ہے ، صاف ظاہر ہے کہ مقاصد کچھ اور ہیں اگر امریکا آج افغانستان چھو ڑ دے تو آج ہی افغانستان میں امن قائم ہوجا ئے گا۔ سوویت یونین کی شکست کے بعد صیہو نی لا بی کے ملک کے اصل عزائم کھل کرسامنے آگئے اور ون ورلڈ آرڈ کا نظریہ پیش کیا گیا جو نیا نہیںتھا بلکہ جنگ اول عظیم سے ہی موجود تھا مگر اس پر کھل کر اظہا ر نہیں کیا جا تا تھا چنا نچہ اس ون ورلڈ آرڈر میں رکاوٹو ں کو ختم کرنے کے لیے نیا کھیل کھلا جا رہا ہے دنیا کے بہترین وسائل اس وقت مسلم امہ کے پا س ہیں، جس طرح آج بھی جا پا ن میں کسی عا م امر یکی کے خلاف جا پا نی قوانین کے مطابق کا رروائی نہیں کی جا تی ، ویسا ہی پا کستان میں بھی ہو اس کی زند ہ مثال ریمنڈ ڈیوس کا کیس ہے کہ حکومت وقت نے دیت بھی اپنے پا س سے بھری اور دن دیہاڑے تین پا کستانیو ںکو قتل کرنے والے کے خلا ف پاکستان کے قوانین کے مطابق مقدمہ نہیں چلا یا جاسکا ، اسی طر ح نا ئن الیون کے بعد پاکستان سے مطالبہ ہو تا رہا ہے کہ ہر امریکی کو سفارت کا ر کا رتبہ دیا جا ئے ، امریکی فوج پا کستان آئے اور وہ باوردی اسلحہ کے ساتھ پا کستان میں اپنی مر ضی کے مطابق نقل و حمل کر ے گویا ، پاکستان کی خودمختاری ختم کرنے کے مطالبات کیے جا تے ہیں جہاں تک پا کستانیو ں پر فوری پا بندیا ں نہ لگا نے کی وجہ ہے تووہ یہ ہے کہ امریکا افغانستان میں پھنسا ہو اہے پاکستان پر پا بندیاں عائدکرکے افغانستا ن سے پاکستان کے بغیر جا ن چھو ڑنا ممکن نہیں ہے ۔

حیب جا لب نے کہا تھا کہ

تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہا ں تخت نشیں تھا اس کو بھی اپنے خدا ہو نے پہ اتنا ہی یقین تھا

متعلقہ خبریں