Daily Mashriq

ادویات کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ

ادویات کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ

جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو اس وقت وطن عزیز میں بُہت کم دوا ساز کمپنیاں تھیں۔ مگر اب خدا کے فضل و کرم سے پاکستان میں بُہت ساری دوا ساز کمپنیاں ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں چھوٹے بڑے 800 دواساز کمپنیاں ہیں۔اس میں بڑی بڑی 368 کمپنیاں ہیں ان میں پنجاب میں 199 ، سندھ میں 114، خیبر پختون خوا میں 45 ، بلو چستان میں 7اور آزاد جموں و کشمیر میں 3 دوا ساز کمپنیاں ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس وقت میں 30 ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں اور وہ پاکستان کے طول و عرض میں کام کر رہی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق ادویات کی تجارت کا حجم ایک ارب ڈالر یعنی 105 ارب روپے سالانہ ہے۔پاکستان میں 90 فی صد ادویات کی ضرورت پاکستان کے ادویہ ساز کمپنیوں کے ذریعے پو ری ہو تی ہے۔پاکستان کی ادویات بنگلہ دیش، افغانستان، وسطی ایشیائی ریاستوں اور ایشیاء کے کئی ممالک کو ایکسپورٹ کی جاتی ہیں۔ مگر بد قسمتی یہ ہے کہ یہ ادویہ ساز کمپنیاں پاکستان کے غریب لوگوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہیں۔ آئے دن ادویات کے نر خوں میں بلاجواز اضافہ کیا جا رہا ہے۔مگر صوبائی حکومتیں اور اور نہ وفاقی حکومت ان کمپنیوں کے خلاف ایکشن نہیں لیتی۔اگر ہم چند ادویات کی نرخوں پر نظر ڈالیں تو اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان ملکی اور بین الاقوامی دواساز کمپنیوں نے کس طرح ادویات کی نر خیں بے تُکی مہنگی کر دی ہیں۔ان دوا ساز کمپنیوں نے ادویات کی قیمتوں میں 100 سے 500 فی صد اضا فہ کیا۔مثلاً نو سفا کی 20 گولیوں کے پیکٹ کی قیمت جو پہلے 44 روپے تھی اسکی قیمت 144 روپے کر دی گئی۔نو سفا فورٹ (20 گولیوں )کی قیمت 77 روپے سے بڑھا کر 277 روپے، نو سفا انجکشن کی قیمت 375 سے بڑھا کر 797 روپے، نیورو بایو آن کی 100 گولیوں کی قیمت 300 سے بڑھا کر555 روپے،گراویبی نان 2 ایم ایل انجکشن کی قیمت135 روپے سے بڑھاکر198 روپے،بونجیلا کی قیمت 25 سے بڑھاکر 38 روپیاور پیمولٹ کی قیمت 59 روپے سے بڑھاکر 175روپے کر دی گئی۔ اور ایسے ہزاروں ادویات ہیں جنکی قیمتیں بلاجواز بڑھادی گئی ہیں۔ سپیسلار 30 گولیوں کی قیمت 54 سے بڑھاکر 105 روپے، لاموسل 750 روپے بڑھاکر 1200 روپے،بیسی کوئین کی 10گولیوں کی قیمت 900 سے بڑھاکر 1400 روپیء کوسوم شربت کی قیمت 35 روپے سے بڑھاکر 80 روپے کر دی گئی ہے۔ اُلٹی اور قے کی ایک دوائی گریوینیٹ شربت کی قیمت 25 روپے سے بڑھاکر 40 روپے کر دی گئی۔ اور بد قسمتی یہ ہے کہ او ٹی سی(OTC=Over The Counter) Drug) (دوائیوں کے نام پر غیر رجسٹرڈ اور بے نام کمپنیوں اور دوائیاں بیچی جاتی ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں کوئی بھی دوائی بھی ڈاکٹر کے نُسخے کے بغیر نہیں خریدی اور بیچی جا سکتی مگر ترقی یافتہ ممالک میں کچھ ایسی ادویات ایسی بھی ہوتی ہیں جو ڈاکٹری نُسخے کے بغیر بھی خریدی جا سکتی ہیں۔اگر یہ بات اہم ہے کہ او ٹی سی دوائیوں اور انکے عنا صر کا انتخاب جو عام انسانوں کے لئے محفوظ ہو تے ہیں انکا انتخاب ڈرگ ریگولیٹر ی اتھارٹی اور (API) کرتی ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس قسم کی دوائیاں سیلف سروس شیلف میں رکھی جاتی ہیں اور مریض خود اپنی ضرورت کے مطابق ادویات لیتے ہیں۔ اور ہماری بد قسمتی ہے کہ او ٹی سی کے نام پر جو دوائیاں بیچی جاتی ہیں وہ انتہائی گھٹیا اور غیر معیاری ہوتی ہیں۔
اور انکی قیمتیں بھی عجیب و غریب ہوتی ہیں۔بد قسمتی سے ڈاکٹر حضرات بھی ایسی ایسی کمپنیوں کی دوائیاں مریضوں کوتجویز کرتے ہیں جو کسی خا ص کمپنی کی نہیں ہوتی بلکہ گھروں اور گلیوں میں قائم کی گئی کمپنیوں کی ہو تی ہیں۔مثلاً گذشتہ دنوں میں میڈیکل سٹور پر گیا وہاں ایک دوائی Tab. Beflam 50 mgکی20 گولی کی ڈبے کی قیمت 120روپے تھی مگر کیمسٹ مجھے 25 روپے میں دینے پر راضی تھا ۔ اسی طرح Tab. Famee کی 10 گولیوں کی قیمت ڈبے پر 110 روپے درج تھی مگر کیمسٹ نے مُجھے وہ گولیاں 20 کی دے دیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیاادویات کی قیمت میں اتنا بڑامارجن یا گیپ ہوتا ہے۔ میں اس کالم کے تو سط سے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں سے استد عا کرتا ہوں کہ ادویات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں ، غیر معیاری ادویات بیچنے اور او ٹی سی کے نام پر جو 80 فی صد دوائیاں بک رہی ہیں اُنکا سخت نو ٹس لیں۔ اورحکیم ، ہومیوپیتھ اور ایلو پیتھ ڈاکٹر جو لوگوں کی جانوں سے کھیل رہے ہیں اُنکا سخت نو ٹس لیں۔ اورامتناع اسکے لئے مناسب اور سخت قانون سازی کرلیں۔

اداریہ