سند ھ کے نئے گورنر سے وابستہ توقعات

سند ھ کے نئے گورنر سے وابستہ توقعات

مسلم لیگ ن کے نامزد کردہ اور فوجی گھرانے میں پیدا ہونے والے محمد زبیر عمر نے سندھ کے 32ویں گورنر کا حلف اٹھا لیاہے،جبکہ ان کے بھائی اسد عمر پی ٹی آئی کے صف اول کے راہنماؤں میں شمار کئے جاتے ہیں ۔محمد زبیر عمر سے قبل جسٹس (ر)سعید الزمان صدیقی سندھ کے گورنر تھے جو اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے چند دن بعد ہی شدید علیل ہونے کے بعد انتقال کر گئے تھے ۔ پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے گورنر سندھ کے والد میجر جنرل عمر کو پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میںعہدے سے برطرف کرکے قید کر دیا گیا تھا ،یوں خیال کیا جارہا تھا کہ گورنر سندھ پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت کیلئے کسی قدر مسائی پیدا کر سکتے ہیں لیکن عہدہ سنبھالنے کے بعد محمد زبیر عمر نے اس امر کی نہ صرف یہ کہ تردید کی بلکہ کہا کہ وہ اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتے کیونکہ یہ 1971کی بات ہے ،قوموںکو آگے بڑھنا چاہئے نہ کہ انفرادی یا خاندانی مسائل میں الجھنا چاہئے ،انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ سندھ حکومت کے ساتھ ٹکراؤ کے بجائے اپنی حدود میں رہ کر کام کرنے کو ترجیح دیںگے ۔کسی بھی صوبے کا گورنر وفاق کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے اور وفاقی حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ کہ وہ بااعتماد شخص کو گورنر کے لئے نامزد کرے،پاکستان کی سیاسی تاریخ میںہر پارٹی نے اپنے گورنر کی تعیناتی کو ترجیح دی۔ان حالات میں گورنر سندھ کی تعیناتی اس وجہ سے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ کراچی میں سیاسی اور امن و امان کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے ،ہر سیاسی جماعت اپنے انداز سے حکمرانی کرتی آئی ہے ،کراچی کی سیاست پر برسوں سے بر اجمان الطاف حسین کی ایم کیو ایم نے تو کراچی کو الگ ملک بنانے کا باقاعدہ دعویٰ تک کر دیا تھا ،جب کراچی کا امن غارت ہو گیا اور وہاں سانس لینا انتہائی مشکل ہو گیا تو پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت سر جوڑ کر بیٹھی اور اہل کراچی کو اس مشکل سے نکالنے کے لئے یہ طے پایا کہ ایک بڑے آپریشن کے ذریعے کراچی کو انتہا پسندوں سے پاک کر دیا جائے ،جب رینجرز کے ذریعے بڑا آپریشن کیا گیا تو معلوم ہوا کہ بعض سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگ کام کر رہے ہیں ،محمد زبیر عمر کے بطور گورنر حلف اٹھا نے کے بعد کراچی میں جاری آپریشن اور سیاسی ہلچل سے متعلق چند سوالات سر اٹھا رہے ہیں مثلا یہ کہ پاکستا ن پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم پہلے ساآمنے سامنے ہیں اب مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے گورنر کے عہدہ سنبھالنے سے حالات مزید کشیدہ تو نہیں ہو جائیں گے؟ ایم کیو ایم کی سیاسی قوت منتشر ہو نے کی وجہ سے کراچی میں سیاسی خلا بھی پیدا ہو گیا ہے،پی ٹی آئی نے اپنے تئیں ضمنی الیکشن اور بلدیاتی انتخابات میں کراچی کے سیاسی خلا کوپر کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکی ،کیونکہ کراچی کا ووٹ بنک ایم کیوایم کے پاس تھا ،لیکن الطاف حسین کی جانب سے مبینہ طور پر پاکستان مخالف نعر ہ لگانے کے بعد صورتحال یکسر مختلف دکھائی دیتی ہے،پاک سر زمین پارٹی کو آئندہ انتخابات میں کس قدر کامیابی حاصل ہو تی ہے ،ایم کیو ایم پاکستان اور ایم کیو ایم لندن کی آئندہ انتخابات میں کیا پوزیشن رہتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن محمد زبیر عمر کو گورنر سندھ مقرر کرنے کے بعد ایک بات کا تعین ہو گیا ہے کہ کراچی میں سیاسی خلا کو پر کرنے کیلئے پاکستان مسلم لیگ ن بھی اپنے تئیں کوشش کرنے میں کسی سے پیچھے نہیں ہے۔جہاں تک تعلق ہے کراچی کے مسائل اور کراچی آپریشن کا تو ہم سمجھتے ہیں کہ کراچی پائیدار اور مکمل امن کیلئے ابھی مزید وقت درکار ہے اور رینجرز کو اسی رفتار سے قدم اٹھانے کی ضرورت ہے جس رفتار سے وہ سابقہ چند سالوں میںاٹھاتی رہی ہے اگرچہ بعض حلقوں کی جانب سے تیز چلنے کے مشورے دیئے جا رہے ہیں ،یہ اس لئے کہ کراچی میں انتہا پسند سالوں سے وہاں کے شہریوں کے ساتھ رہ رہے ہیں سو جب دشمن گلی محلے میں رہ رہا ہو تو اس کا مقابلہ قدرے مشکل ہوتا ہے ،کراچی کو پر امن بنانے کی سب سے بڑی رکاوٹ کراچی کی بڑھتی آبادی بھی ہے سو اس تناظر میں دیکھا جائے تو کراچی میں آپریشن کے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں رینجرز نے کراچی کے لوگوںکو اعتماد میں لیکر اور شہریوں کی زندگی اجیرن بنائے بغیر ایک گروہ کی اجارہ داری ختم کرنے میں کسی قدر کامیابی حاصل کی ہے یہی وجہ ہے کہ کراچی میں زندگی کی دوبارہ چہل پہل نظر آتی ہے اور بیرونی سرمایہ کار بھی کراچی کا رخ کرنے پر تیار ہوگئے ہیں ۔کراچی میں امن و امان کی بحالی کیلئے گورنر سندھ محمد زبیر عمر نے واضح طور پر کہا ہے کہ کراچی کے موجودہ حالات کے تناظر میں رینجرز کا ہونا ضروری ہے ،رینجرز کے اختیارات کتنے ہونے چاہئیں ،اس کو کنٹرول کرنے کا اختیار کس کے پاس ہو ،ان تمام باتوں پر اختلاف رائے ہو سکتا ہے،تاہم وفاقی حکومت کے نمائندہ ہونے کی حیثیت سے یہ میرا اولین فرض ہو گا کہ بنیادی مقصد کو چھوٹے چھوٹے سیاسی مفادات کی وجہ سے نظر انداز نہ کیا جائے ،کیونکہ کراچی نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کا معاشی مرکز ہے ، گورنر سندھ نے گزشتہ سالوں کی بد امنی اور جلسے جلوسوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا کہ کراچی کو 10منٹ کے نوٹس پر بند کر دیا جاتا تھا۔کراچی کے سابقہ ریکارڈ ،سیاسی چپقلش اور رسہ کشی کے تناظر میں دیکھا جائے تو نئے گورنر سندھ کیلئے چیلنج ہی چیلنج ہیں جن سے سرخرو ہونا اور کراچی کو امن کا گہوارہ بنانا ان کے لئے کسی امتحان سے کم نہیں ہو گا ۔

اداریہ