Daily Mashriq

پاک افغان مشترکہ ورکنگ گروپ کا اجلاس

پاک افغان مشترکہ ورکنگ گروپ کا اجلاس

ہفتہ کو کابل میں منعقد ہونیوالے پاک افغان مشترکہ ورکنگ گروپ کے پہلے اجلاس میں پاکستان نے پیشکش کی ہے کہ حالیہ کابل بم دھماکوں کی مشترکہ تحقیقات کرالی جائیں۔ سیکرٹری خارجہ محترمہ تہمینہ جنجوعہ نے اس موقع پر افغان حکام کی توجہ ان دہشتگرد گروپوں کی طرف بھی دلائی جو افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے اندر دہشتگردی کرواتے ہیں۔ انسداد دہشتگردی‘ افغان پناہ گزینوں اور مشترکہ امور پر ورکنگ گروپ کے اجلاس میں تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ مشترکہ اعلامیہ میں اس امر کا اظہار کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک مستقبل میں بھی باہمی امور پر بات چیت جاری رکھیں گے۔ پاکستانی وفد کی سربراہ تہمینہ جنجوعہ نے اس امر پر زور دیا کہ ایک دوسرے پر الزام تراشی کی بجائے مربوط تعاون سے دوستی‘ امن اور انسانیت کے دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ورکنگ گروپ میں افغانستان کو سرحدی امور بہتر بنانے او دیگر معاملات کے حوالے سے پاکستانی تجاویز سے بھی آگاہ کر دیا گیا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ دوطرفہ تعاون کی تالی ایک ہاتھ سے بج سکتی ہے نہ یکطرفہ اقدامات کے ذریعے مشترکہ اہداف کا حصول ممکن ہے۔ کابل کے حالیہ دھماکوں کے حوالے سے مشترکہ تحقیقات کی پیشکش نہ صرف خوش آئند ہے بلکہ اس سے باہمی تعاون اور امن کیلئے پاکستان کی سنجیدگی بھی ظاہر ہوتی ہے۔ اس امر پر دو آراء نہیں کہ پاکستان اور افغانستان فطری واتحادی ہیں، قدیم تاریخی وثقافتی اور جغرافیائی رشتوں کیساتھ دین فطرت اسلام دونوں کی مشترکہ اساس ہے۔ باہمی تعاون کے زیادہ سے زیادہ فروغ کا فائدہ خود افغانستان کو ہے۔ المیہ یہ ہے کہ حکومت اور پاکستانی قوم کے ہر ممکن ایثار کے باوجود افغانستان کے اندر ایسے عناصر ریاستی ڈھانچے میں گہرے اثرات رکھتے ہیں جو مخصوص مفادات کیلئے دونوں کے تعلقات میں بگاڑ پیدا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ پاکستانی وفد کے حالیہ دورہ افغانستان اور مشترکہ ورکنگ گروپ میں زیر بحث آئے نکات کی اہمیت مسلمہ ہے ایک جیسے حالات سے دوچار دونوں ملک باہمی تعاون سے ہی شدت پسندی اور غیر ریاستی عناصر کے عسکری جنون کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کرنے کیلئے جب بھی بھرپور کوششوں پر اتفاق رائے ہوتا ہے دونوں ملکوں میں کوئی نہ کوئی ایسا سانحہ رونما ہو جاتا ہے جس سے فائدہ اُٹھانے والے عناصر اور قوتیں باہمی مفادات کے منافی پروپیگنڈہ شروع کر دیتی ہیں۔ افغان قیادت کو ٹھنڈے دل کیساتھ اس امر پر غور کرنا ہوگا کہ پاک افغان تعلقات اعتماد کی فضا میں جتنا پروان چڑھیں گے دونوں ممالک کے عوام کو عموماً اور افغان ریاست وعوام کو اس کا بالخصوص فائدہ ہے۔ جہاں تک افغان حکام کو اندرونی حالات بہتر بنانے اور سرحدی نظام میں اصلاحات کے مشورے کا تعلق ہے تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ مشورے خود افغانستان کے وسیع مفاد میں ہیں۔ افغان اداروں کو بہرطور یہ امر یقینی بنانا ہوگا کہ افغان سر زمین پاکستان اور کسی دوسرے پڑوسی ملک کیخلاف استعمال نہ ہونے پائے۔ یہ اسی طور ممکن ہے جب افغان سر زمین پر موجود مختلف الخیال شدت پسند گروپوں کیخلاف بلا امتیاز کارروائی ہوگی۔ افغان حکام یا کسی اور کیلئے اس امر سے انکار ممکن نہیں کہ داعش طالبان کے مختلف گروپوں اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے بعض شدت پسندوں کے محفوظ ٹھکانے ان کی سر زمین پر موجود ہیں، بجا کہ ان شدت پسندوں کی سرگرمیوں اور دیگر معاملات سے افغان حکومت کا کوئی تعلق نہیں لیکن کیا افغان حکام ان عناصر اور قوتوں سے یکسر لاعلم ہیں جو ان شدت پسندوں کو خطے کے ممالک میں اپنے عزائم کی تکمیل کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان کو دوطرفہ تعاون کے فروغ اور افغان استحکام سے دلچسپی نہ ہو تو وہ بھی روایتی الزام تراشی کو آگے بڑھاتے ہوئے ہفتہ کو سوات میں سیکورٹی اہلکاروں پر ہوئے خودکش حملے کا الزام لمحہ بھر کی تاخیر کے بغیر افغانستان پر لگاتے ہوئے یہ کہہ سکتا تھا کہ کارروائی کرنیوالے گروپ کو افغان ریاست کے اندر سے تعاون حاصل ہے۔ بھاری جانی نقصان کے باوجود بھونڈی الزام تراشی سے گریز کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ پاکستانی ریاست یہ سمجھتی ہے کہ بعض علاقائی وبین الاقوامی قوتیں افغانستان کے اندر اپنے قیام کے جواز کو تحفظ امن و افغانستان کا نام دے کر اس کی آڑ میں دونوں ملکوں کے تعلقات کو خراب کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں تاکہ صدیوں کے بااعتماد اور محبت بھرے رشتوں میں نفرت در آئے اور یہ قوتیں اپنے مذموم مقاصد حاصل کرسکیں۔ ہم بار دیگر افغان حکام کی خدمت میں یہ عرض کریں گے کہ ایک پر امن‘ جمہوری اور ترقی کی جانب بڑھتا ہوا افغانستان، پاکستان کیلئے خصوصی اہمیت تو رکھتا ہی ہے لیکن اس سے خود افغانستان کو اپنے اندر شدت پسندی اور عسکریت پسندی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ پاکستانی ریاست اور عوام کے دل اپنے افغان بھائیوں کیساتھ دھڑکتے ہیں۔ افغان عوام کی خوشی پاکستانیوں کی خوشی ہے اور ان کے دکھ ومسائل کا درد بھی پاکستانی عوام ذاتی دکھوں اور مسائل کی طرح ہی محسوس کرتے ہیں۔ یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ پاکستان نے افغان امن اور افغان عوام کے حق حکمرانی کی بحالی کی جدوجہد میں ہر قدم پر استقامت کیساتھ نہ صرف ساتھ دیا بلکہ بے پناہ قربانیاں بھی دیں۔ افغان ریاست کے کچھ نوآموز دوست ماضی کے ابتر حالات میں ان قوتوں کیساتھ کھڑے تھے جو ابتری اور نسل کشی کا مرتکب ہو رہی تھیں۔ اندریں حالات ہم یہ عرض کرنا انتہائی ضروری خیال کرتے ہیں کہ نہ صرف مشترکہ ورکنگ گروپ کے اجلاسوں کا سلسلہ جاری رہنا چاہئے بلکہ دونوں ملکوں کو غیر ریاستی عسکریت پسندوں سے نمٹنے کیلئے مشترکہ اقدامات بھی کرنے چاہئیں۔ بلاوجہ کی الزام تراشی سے ماحول کو خراب کرنے سے زیادہ بہتر یہ ہوگا کہ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کیا جائے اور افغان ریاست بھی اس امر کو یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین دہشتگردوں کیلئے محفوظ جنت نہ بننے پائے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ دونوں ملک برادرانہ رشتوں کے تحفظ اور تاریخ کی امانتوں کی حفاظت میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھیں گے۔

اداریہ