Daily Mashriq


عدلیہ‘ نظام عدل وحکومت اور جمہوریت کی محافظ ہے

عدلیہ‘ نظام عدل وحکومت اور جمہوریت کی محافظ ہے

آباد میں جوڈیشل افسروں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ کوئی سازش ہو رہی ہے نا عدلیہ کسی مہم جوئی کا حصہ ہے۔ ججز ذاتی پسند وناپسند پر نہیں انصاف کے اعلیٰ اصولوں کو مدنظر رکھتے ہیں۔ انہوں نے پر عزم انداز میں اعلان کیا کہ جمہوریت کو ڈی ریل نہیںہونے دیں گے۔ عدلیہ کسی ادارے یا حکومت کو مفلوج نہیں کر رہی۔ ازخود نوٹسز عوامی حقوق اور مفادات کے تحفظ کیلئے ہیں۔ جناب چیف جسٹس آف پاکستان کے مذکورہ خیالات سے ان عناصر کو مایوسی ہوئی ہوگی جو پچھلے کچھ عرصہ سے عدلیہ کیخلاف مہم جوئی میں جتے ہوئے یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ حکومت اور جمہوریت کیخلاف کوئی سازش ہو رہی ہے اور عدلیہ بھی اس میں شریک ہے۔ نظام عدل کی غیر جانبداری کو متنازعہ بنانے والے عناصر کے مقاصد سے عوام بخوبی واقف ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ سیاسی مقدمات ہوں‘ کرپشن کیسز یا دوسرے مقدمات ان کے حوالے سے عمومی مزاج یہی ہے کہ جس فریق کیخلاف فیصلہ آئے وہ انصاف کے تقاضوں کو سمجھنے کی شعوری کوشش کرنے کی بجائے نظام عدل پر سوال اٹھانے لگتا ہے۔ تازہ ترین مثال سابق وزیراعظم میاں نواز شریف‘ ان کے خاندان کے کچھ ارکان اور رفقاء کی عدلیہ مخالف مہم ہے۔ جناب نواز شریف اثاثے چھپانے اور دروغ گوئی پر نااہل ہوئے۔ نااہلی کے فیصلے کو ٹھنڈے دل سے تسلیم کرنے کی بجائے پچھلے چند ماہ کے دوران انہوں نے اپنے چند رفقا بدقسمتی سے ان میں وفاقی اور پنجاب حکومت کے متعدد وزراء بھی شامل ہیں کیساتھ مل کر عدلیہ مخالف محاذ قائم کر رکھا ہے۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ تقریروں‘ پریس کانفرنسوں اور نواز شریف کے حامی تحریر نویسوں کی طرف سے لگائے جانیوالے بے سروپا الزامات کے جواب میں جب کوئی وضاحت سامنے آتی ہے تو اسے قبول کرنے کی بجائے یہ کہا جاتا ہے کہ ’’دیکھا اگر عدل ہوا ہوتا تو وضاحتیں نہ کرنا پڑتیں‘‘۔ اس منطق پر ہنسی ہی آتی ہے۔ تین بار ملک کا وزیراعظم رہنے والی شخصیت اور ان کے رفقاء کی قائم کردہ عدلیہ مخالف فضا سے نظام عدل ہی نہیں بلکہ نظام حکومت اور سماجی وحدت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ان حالات اور فضا میں جناب چیف جسٹس نے ہفتہ کو جوڈیشل افسران کے جلاس سے خطاب کرتے ہوئے جن خیالات کا اظہار کیا انہیں اسی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جناب نواز شریف ہوں یا کوئی اور سب کو یہ امر مدنظر رکھنا ہوگا کہ نظام عدل پر الزام تراشی سے جو مسائل پیدا ہوں گے ان کی اصلاح میں کئی دہائیاں لگ جائیں گی۔ امید واثق ہے کہ سیاستدان اور دوسرے طبقات اپنے باہمی معاملات میں عدلیہ کو گھسیٹنے کی بجائے خود احتسابی کی اہمیت اور ضرورت کو مدنظر رکھیں گے۔

بھارت کی آبی دہشتگردی کا سلسلہ جاری

اطلاعات کے مطابق بھارت نے ایک بار پھر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دریائے جہلم کا پانی روکنا شروع کر دیا ہے جس سے شدید خشک سالی کا شکار آزاد جموں کشمیر کے علاوہ دریا کی گزر گاہ کے دیگر مقامات پر پانی کی کمی سے آبی حیات کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ آبی ماہرین کے مطابق بھارت کے حالیہ اقدامات سے دریائے جہلم میں پانی کی سطح میں40 فٹ کمی ہوئی ہے۔ کئی دہائیوں سے جاری بھارت کی آبی دہشتگردی کا تازہ نشانہ دریائے جہلم بنا۔ سندھ طاس معاہدے اور دریائی پانیوں کے حوالے سے موجودہ عالمی قوانین کی بھارت ہی کے ہاتھوں پامالی پر جتنا افسوس کیا جائے وہ کم ہے۔ یہ عرض کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ بھارت دریائوں کے پانی کو روکنے کے اپنے منصوبوں کو جنگی حکمت عملی کا حصہ بنائے ہوئے ہے۔ وفاقی حکومت کسی تاخیر کے بغیر اس معاملہ پر عالمی فورم سے رجوع کرے تاکہ بھارت کی آبی دہشتگردی کا سدباب کیا جاسکے۔

متعلقہ خبریں