Daily Mashriq


آتش چنار

آتش چنار

آج 5 فروری ہے اور ملک بھر میں یوم یکجہتی کشمیر روایتی جوش اور جذبے سے منایا جا رہا ہے۔ آج کے دن ملک بھر میں سرکاری ونیم سرکاری اداروں میں عام تعطیل ہے۔ سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر ریلیاں نکالی جا رہی ہیں۔ سیمینارز، مباحثے، مذاکرے اور جلسے منعقد ہو رہے ہیں، تصاویر کی نمائش، فوٹو سیشن، پرنٹ میڈیا میں خصوصی فیچر اور مضامین شائع ہو رہے ہیں جبکہ الیکٹرانک میڈیا میں اس حوالے سے خصوصی پروگرام آن ائیر آرہے ہیں اور اس نوعیت کی جانے کتنی تقاریب منعقد ہو رہی ہیں یا ہو رہی ہونگی آج کے دن۔ مقبوضہ کشمیر میں برسہا برس سے روا رکھے جانیوالے ظلم وستم کیخلاف فلک شگاف نعرے بلند ہو رہے ہونگے۔ جانے کتنے منظوم ومنثور شہ پارے منظر عام پر آئے ہونگے جن کا مقصد عالمی درانصاف پر دستک دے کر ضمیر عالم کو بیدار کرنے کی کوشش کی گئی ہوگی۔ سالہا سال سے مظلوم کشمیریوں کیساتھ روا رکھے جانیوالے جبر واستبداد اور ظلم وستم کی داستانیں دہرائی جارہی ہونگی۔ لمبی لمبی تقریریں ہونگی اور پھر یوں ہوگا کہ سال 2018 کی 5فروری کی صبح طلوع ہونیوالا سورج، شام کے دھندلکوں میں روپوش ہونے کے بعد رات کی تاریکی میں گم ہو جائے گا اور پھر اگلی صبح جب ہم سوکر اُٹھیں گے تو یوں چپ سادھے ہونگے جیسے ہم نے یوم یکجہتی کشمیر منایا ہی نہ ہو۔ یوم یکجہتی کشمیر، تسلسل ہے اس عہد کا جس کی تجدید ہم ہر سال 5 فروری کو کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کو باور کراتے ہیں کہ تم پر اُٹھنے والے ظلم وستم کی دل خراش داستانوں سے ہم سب اچھی طرح واقف ہیں اور صرف اتنا ہی کر سکتے ہیں جو ہم ہر سال 5فروری کو کیا کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم مظلوم کشمیریوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں جس کا اظہار آج کے دن ہم یوم یکجہتی کشمیر مناکر کر رہے ہیں۔ عین ممکن ہے ہماری یہ کوشش نتیجہ خیز نکلے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ہماری اس واویلا پر عالمی ضمیر، ’زمیں جنبش نہ جنبش گل محمد‘ کا روایتی مظاہرہ کرے اور یوں کشمیریوں پر اُٹھنے والے جور وجفا میں، خاکم بدہن، مزید اضافہ ہونے لگے کیونکہ مظلوم کشمیریوں پر روا رکھے جانیوالے ظلم وستم اور ان کا خون ناحق بہانے کی ایک وجہ یہ بھی نظر آتی ہے کہ جہاں وہ ’’لے کے رہیں گے آزادی‘‘ کا نعرہ بلند کرتے ہیں وہاں ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کا نعرہ بھی بلند کرکے دنیا والوں کو ڈنکے کی چوٹ پر بتاتے نہیں تھکتے کہ ہماری تحریک آزادی کا محرک پاکستان اور صرف پاکستان ہے۔ ایسی صورت میں کشمیریوں کے حق رائے دہی کو صلب کرنیوالی بھارتی قیادت کو یہ بہانہ ہاتھ آجاتا ہے کہ وہ جدوجہد آزادی کشمیر کے متوالوں کو دہشتگرد ثابت کرے، پاکستان کو ان کی پشت پناہی کرنیوالے ملک کا نام دے۔ ہمارے ملک میں بہت سے گھرانے ایسے ہیں جن کو دو وقت کی روٹی نہیں مل رہی۔ تن ڈھانپنے کیلئے ڈھنگ کے کپڑے نہیں، بھوک اور افلاس نے ان کی زندگی کو عذاب بنا کر رکھ دیا ہے۔ بھلا وہ کیا جانیں کشمیریوں پر اُٹھنے والے ظلم وستم کو کہ وہ خود آٹا آٹا کرتے پس رہے ہیں آٹا پیسنے کی چکیوں میں۔ دن دیہاڑے قوم کی بچیوں پر ہونیوالی زیادتی اور ان کا قتل عام، جعلی پولیس مقابلوں میں ’ان کاؤنٹر‘ ہونیوالوں کے بے گور وکفن لاشے، چوریاں، سینہ زوریاں کرپشن، لوٹ مار، بینک ڈکیتیاں اور اس جیسی جانے کتنی قباحتیں ہیں جو پکار پکار کر کہہ رہی ہیں۔ ظالمو جواب دو، خون کا حساب دو۔ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر سرکاری، نیم سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں عام تعطیل سے عام لوگوں کوکتنا فائدہ ہوا، اور قوم کو کس قدر نقصان پہنچا کسی کو اس بات سے کوئی غرض نہیں۔ اس بار یوم یکجہتی کشمیر کی چھٹی یا عام تعطیل کی وجہ سے چھٹیاں منانے کے شائقین کو ہفتہ، اتوار اور پیر کی تین چھٹیاں مل گئیں۔ چھٹیوں کے مزے لوٹنے والی قوم کے افراد بھلا کیا جانیں یوم یکجہتی کشمیر کی افادیت اور اس کی اہمیت۔ ہمارے سیاستدان ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور اپنے مدمقابل کو چاروں شانے چت گرانے کے داؤ پیچ استعمال کر رہے ہیں، اس دوران یوم یکجہتی کشمیر پر بلند کئے جانیوالے نعرے، قسمیں، وعدے، پیار، وفا، سب باتیں ہیں باتوں کا کیا‘ کے مصداق صرف ’’نعرے ہیں نعروں کا کیا‘‘ سے کم نہیں۔ ہمیشہ کی طرح ہم آج کے دن مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے حق میں نعرے لگا کر چپ سادھ لیں گے اوراُٹھاتے رہیں گے مظلوم کشمیری اپنے گبرو جوانوں کے لاشے۔ اُجڑتے رہیں گے سہاگنوں کے سہاگ۔ اک چال تھی فرنگی سامراج کی جو اس نے برصغیر پاک وہند سے نکلتے وقت، دو ملکوں کو آپس میں لڑاتے رہنے کیلئے کی۔ وہ کب چاہتے تھے کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہو۔ جس مسئلہ کو ستر برس کے طولانی عرصہ میں حل نہ کیا جا سکا وہ بھلا اب کیا حل ہوگا۔ نہتے اور مظلوم کشمیری، لیکر رہیں گے آزادی اور کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے لگاتے رہیں گے۔ مارٹر گیس کے گولے، لاٹھی چارج اور نصیب دشمناں تابڑ توڑ گولیاں برستی رہیں گی اور یوں ہم ہر سال 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر مناتے رہیں گے اور ہمارے ہاں پروان چڑھنے والی غربت اور جہالت کے عفریت، بل فائٹنگ کے رسیا فرنگیوں کیساتھ مل کر بلند کر تے رہیں گے اپنے طاغوتی قہقہے۔آئیے جلتے بھنتے کشمیر کے جنتیوں کی آواز میں آواز ملا کر ہم بھی کہہ لیں ’’لے کر رہیں گے آزادی، کشمیر بنے گا پاکستان‘‘۔ کہ آج یوم یکجہتی کشمیر ہے

جس خاک کے ضمیر میں ہے آتش چنار

ممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاک ارجمند

متعلقہ خبریں