Daily Mashriq


اب تو جاگیئے!!

اب تو جاگیئے!!

کچھ کتابوں میں ایسی کوئی خاص بات نہیں ہوتی، کوئی نئی بات نہیں، خوبصورت جملے نہیں، منفرد تراکیب نہیں، کوئی علمیت نہیں لیکن پھر بھی وہ کچھ سکھا دیتی ہیں کیونکہ کتابیں آئینہ ہوتی ہیں۔ کئی بار اس آئینے کا رُخ کتاب کے مصنف اور اس معاشرے کی جانب ہوتا ہے۔ مصنف جس کا پروردہ ہوتا ہے۔ کئی بار اس کتاب سے وہ باتیں سمجھ میں آتی ہیں جو عام حالات میں بظاہر دکھائی نہیں دیتیں۔ شاید مضامین ان کی اس طور درست عکاسی بھی نہیں کر سکتے کیونکہ ایک چھوٹی سی جگہ ہر مؤقف کا درست طور ظاہر ہونا، کئی بار مشکل ہو جاتا ہے۔ پچھلے کچھ دنوں میں، میں ریمنڈ ڈیوس کی کتاب ’’کنٹریکٹر‘‘ ’’The contractor‘‘ پڑھ رہی تھی۔ اس کتاب کو پڑھنے کیلئے مجھے کئی بار اپنی ہمت مجتمع کرنی پڑی کیونکہ اس کتاب میں جس طور پاکستان، اس کے لوگوں اور نظام کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کئے ہوئے تھے وہ میرے جذبہ حب الوطنی کیلئے ایک تازیانہ تھے۔ ہم سب اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ہمارے ملک میں نظام خاصا پژمردہ ہے۔ اس نظام کے سقم بھی ہمیں روز ہی دکھائی دیتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کا بگاڑ بھی ہم پر پوری طرح واضح ہے لیکن یہ ہمارے ملک کی باتیں ہیں، ہمارے گھر کی باتیں ہیں، انہیں میں اور آپ کر سکتے ہیں۔ ہم اپنے ہی نظام کو جیسے چاہیں رگید سکتے ہیں، اس کی برائی کر سکتے ہیں لیکن کوئی دوسرا کرے تو بہت برا محسوس ہوتا ہے۔ وہی ریمنڈ ڈیوس جس کے بارے میں مسلسل یہ شکوک وشبہات رہے کہ یہ سی آئی اے (امریکی خفیہ ایجنسی) کا ایجنٹ ہے اور پھر ایک دن خاموشی سے وہ ہمارے ملک سے رخصت ہوگیا۔ اپنے وطن لوٹ جانے کے بعد اس نے ایک کتاب لکھی جس کا میں ذکر آپ سے کر رہی ہوں۔ اس کتاب میں اس نے جن تفصیلات کا ذکر کیا اس میں شاید سب سے زیادہ ناقابل برداشت بات تو یہی ہے کہ وہ مسلسل پاکستان کے مختلف لوگوں کو، رویوں کو ، صورتحال کو تنقید کا نشانہ بناتا رہا۔ وہ دو لڑکے جو اس نے مار ے، انہیں مارنا اس کیلئے کوئی غلط بات نہیں تھی کیونکہ وہ تو ایک ایسی قوم کے لوگ تھے جنہیں یہ ذہناً کیڑے مکوڑے گردانتے ہیں۔ میں نے امریکہ سے ایسی نفرت پہلے کبھی محسوس نہیں کی جتنی کہ اس کتاب کے بعد محسوس کی۔ یہ ایک ایسی نفرت ہے جو شاید ہمارے لئے بھارت سے نفرت کرنے سے زیادہ اہم ہے۔ بھارت کی موجودہ حکومت کی حرکتوں سے زیادہ قابل نفرت ہے کیونکہ بھارت کی چالاکی، ہوشیاری عیاری ہم پر واضح ہے، ان کے لب ولہجے ان کے حکمرانوں کے مزاج کیساتھ بدل جاتے ہیں لیکن یہ کتاب امریکہ کے ایک عام، کند ذہن سیکورٹی گارڈ کی کہانی ہے جو لاہور کی سڑکوں کو بقول اس کے محض اس لئے ماپ رہا تھا کیونکہ اس نے کچھ اہم لوگوں کو ان راستوں پر سے لے جانا تھا اسی اثنا میں وہ دو لڑکے اسے اپنی جانب پستول لے کر آگے بڑھتے دکھائی دیئے اور ان سے جان کا خطرہ محسوس کر تے ہوئے انہیں اپنی گاڑی کے اندر سے بیٹھے ہوئے گولیاں ماریں اور پھر اپنے لئے شواہد اکٹھا کرنے کی کوشش میں، ان نعشوں کی تصویریں بھی لیں۔ اس کیلئے ان دونوں لڑکوں کو محض اس شبے پر مارنا درست تھا کہ وہ اسے لوٹنا چاہتے تھے۔

میں اس خیال سے مسلسل نبرد آزما ہوں کہ اگر ان لڑکوں کے پاس سے کچھ موبائل فونز ملے بھی تھے اور وہ واقعی چور تھے تو اس امریکی کو انہیں جان سے مارنے کی اجازت کس نے دی۔ یہ ایک معمولی کنٹریکٹر تھا جس کی حیثیت ایک عام سیکورٹی گارڈ جتنی تھی۔ اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ اسے سی آئی اے کا ایجنٹ کہہ کر دراصل بچا لیا گیا۔ اگر لوگوں کو یہ معلوم ہو جاتا کہ وہ بلیک واٹر کا ملازم ہے تو شاید پرانی انارکلی کے اس چوک میں اس کی تکہ بوٹی ہوگئی ہوتی جہاں سے اسے پولیس والوں نے گرفتار کیا تھا یا یوں سمجھئے کہ ہجوم کے ہتھے چڑھنے سے بچایا تھا۔

اس کند ذہن آدمی کو یہ بھی معلوم نہیں کہ اگر ہمارے ملک کا نظام ایسی پژمردگی اور شکست وریخت کا شکار نہ ہوتا تو شاید وہ یہاں سے کبھی زندہ سلامت نکل نہ پاتا۔ وہ اپنی کتاب میں مسلسل ہمارے لوگوں کے کم صلاحیت ہونے کا اظہار کرتا ہے تقریباً مضحکہ اُڑانے والے لہجے میں یہ بیان کرتا ہے کہ وہ کیسے اس سے درست طور پر تفتیش نہ کر پائے۔ وہ ہمارے جتنے حکمرانوں کو اس قصے میں اپنی حمایت پر پاتا ہے اس حوالے سے میں کوئی بات کرنا نہیں چاہتی۔ اپنے ملک کے حکمرانوں کی وطن پرستی کی اصلیت سے میں بخوبی واقف ہوں اور میں جانتی ہوں کہ قارئین کو بھی اس حوالے سے کوئی شک وشبہ نہیں لیکن مجھے اس بات کی شدید تکلیف ہے کہ ایک ایسا ملک جس کے مقاصد کے حصول کیلئے ہمارے حکمرانوں نے ہمیں چارہ بنائے رکھا، اُس ملک کا ایک معمولی شخص بھی اتنی جرأت رکھتا ہے کہ ہمیں ہماری اصلیت دکھا سکے، ہمیں احساس دلا سکے کہ ہم ان کیلئے صرف اپنے مقاصد کے حصول کا ذریعہ ہیں، بھاڑے کے ٹٹو ہوں یا شاید اس سے بھی کچھ کم اور ہم بحیثیت قوم آج بھی اس سراب کے دھوکے سے مکمل طور باہر نہیں نکل سکے اور کون جانے کب تک اسی دھوکے کے بھنور میں پھنسے رہیںگے۔