طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح، ایک المیہ

طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح، ایک المیہ

بھی معاشرے میں خاندان کا اہم اور کلیدی کردار ہوتا ہے۔ خاندان ماں باپ اور بچوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ خاندان کسی قوم کے بنانے اور سنوارنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر کسی ملک کا خاندانی نظام مختلف معاشرتی، سماجی اور اقتصادی وجوہات کی وجہ سے خراب ہو جائے تو وہ معاشرہ اور ملک تباہ وبرباد ہو جاتا ہے۔ بدقسمتی سے آج کل ہمارے معاشرے میں دوسری کئی سماجی برائیوں کی طرح طلاق کی شرح عروج پر جا ر ہی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم اپنے معاشرے کو وہ موثر خاندانی نظام مہیا نہیں کر سکتے جو ایک فلاحی معاشرے اور ریاست کی بنیاد اور اساس ہوتا ہے۔ نپولین کا قول ہے کہ آپ مجھے اچھی مائیں دیں میں آپ کو بہترین قوم دوں گا۔ اگر ہم وطن عزیز میں طلاق کے اعداد وشمار پر نظر ڈالیں تو بدقسمتی سے پاکستان میں طلاق کے اعداد وشمار انتہائی تکلیف دہ ہیں۔ اگر ہم ماضی میں مغربی ممالک سے مشرقی اور اسلامی ممالک کی طلاق کی شرح کا موازنہ کریں تو ما ضی میں مسلمان ممالک میں اسلامی تعلیمات، مشرقی اقدار اور روایات کی وجہ سے طلاق کی شرح انتہائی کم تھی مگر فی الوقت اسلامی اور مشرقی ممالک میں طلاق کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین سماجیات کہتے ہیں کہ پاکستان میں گزشتہ دو دہائیوں میں طلاق کی شرح میں انتہائی اضافہ ہوا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں سالانہ 2 لاکھ 55 ہزار عورتوں کو طلاق ہو جاتی ہے۔ ایک مشہور سماجی سائنسدان اور عائلی امور کے ماہر ویلیم ایج ڈونی کہتے ہیں کہ امریکہ میں40 سے 50 فیصد تک پہلی شادی اور 60 فیصد تک دوسری شادیوں کا خاتمہ طلاق پر ہوتا ہے، ڈاکٹر نے معاشرے میں طلاق کی بہت ساری وجوہات بیان کی ہیں جن میں چھوٹی عمر میں شادی، کم تعلیم، کم آمدنی، طلاق یافتہ خاندان سے تعلق رکھنا، مذہب سے دوری اور شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکی کا آپس میں اکٹھا رہنا، اللہ کی ہستی سے انکار، خاوند اور بیوی کا ایک دوسرے سے توقعات رکھنا، میاں بیوی کے درمیان اقتصادی لحاظ سے ناہمواری اور غیر مساویانہ برتری، شادی سے پہلے دونوں خاندانوں کا ایک دوسرے کے بارے میں صحیح معلومات نہ رکھنا، امریکہ اور اکثر یورپی ممالک میں شادی سے پہلے ایک تہائی یعنی 40 فیصد بچوںکا جنم لینا، میڈیا کا کردار اور اس کے علاوہ دیگر اور بھی عوامل شامل ہیں۔ پاکستان کے ایک مشہور ماہر اقتصادیات اور سماجی علوم کے ماہر رؤف احمد کہتے ہیں کہ پاکستان میں طلاق کی بڑھتی شرح کی وجوہات میں2001 میں مسلم فیملی قانون میں تبدیلی، این جی اوز کے منفی کر دار، بھارت اور پاکستانی چینلز پر بے ہودہ فیشن شو، ڈرامے اور فضول پروگرام دکھانا، حد سے زیادہ غربت، دلہن کی طرف سے جہیز کا نہ ہونا وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وطن عزیز میں کئی این جی اوز اور الیکٹرانک میڈیا چینلز اسلامی معاشرتی اساس کو جانے بغیر عورتوں کے حقوق کے نام پر معصوم عورتوں کا استحصال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وطن عزیز میں طلاق کی شرح، خلع اور میاں بیوی کے درمیان علیحدگی میں اضافہ ہوا۔ گیلانی سروے کے مطابق پاکستان میںطلاق کی شرح میں اضافہ صبر وبرداشت کی کمی اور الیکٹرانک میڈیا پر غیر اخلاقی، غیر اسلامی پروگراموں کے دکھانے کی وجہ سے ہوا۔ گیلانی سروے کے مطابق پاکستان میں طلاق کی شرح میں زیادتی کی وجوہات میں 60 فیصد دین سے دوری اور40 فیصد مغرب اور مغربی میڈیا کا اثر ورسوخ ہے۔ جب میں اپنے ارد گرد نظر ڈالتا ہوں تو مجھے ہمارے معاشرے میں طلاق کی تین بڑی وجوہات دکھائی دیتی ہیں 1) اسلام اور مذہب سے دوری 2) الیکٹرانک میڈیا کی یلغار اور اس پر پیش کئے جانیوالے بے ہودہ اور فضول پروگرام 3) تیسری بڑی وجہ غر بت اور افلاس جس سے ہمارے پیغمبرحضرت محمد ﷺ نے بھی پناہ مانگی ہے اور چوتھی سب سے بڑی وجہ جہیز ہے مگر اس میں سب سے زیادہ تیزی الیکٹرانک میڈیا، کیبلز، انٹرنیٹ اور موبائل کی وجہ سے آئی۔ اگر ہم جائزہ لیں تو الیکٹرانک میڈیا نے ہمیں مذہب، تاریخ اور مثبت سرگرمیوں سے دور کیا۔ مجھے وطن عزیز کے اہل دانش اور اہل علم اور صاحب قلم لوگ بتا دیں کہ جس معاشرے میں بیٹا بیٹی، بہن بھائی، ماں باپ اور خاندان کے دوسرے افراد ڈراموں، بیہودہ فیشن شوز اور فلموں میں لڑکے لڑکیوں کے گھر سے بھاگنے، عدالتوں میں اپنی مرضی سے شادی کرنے، فیشن کے نام پر عریاں لباس اور بیہودہ لباس زیب تن کئے ماڈلز کے کرداروںکو دیکھا اور پسند کیا جائے گا تو اس معاشرے میں طلاق کو معیوب فعل کس طرح سمجھا جائے گا۔ میں پھر ایک یہودی سکالر اور نوبل انعام یافتہ ابلاغ عامہ کے اس بات کو دہراؤں گا کہ ہماری نسل کی تباہی اور بربادی کے ذمہ دار، میڈیا، موبائل فون اور سگریٹ نوشی ہے۔ میری مذہبی سکالروں، تمام سیاسی پارٹیوں کے راہنماؤں اور اس معاشرے کا درد محسوس کرنیوالے لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ حکومت کو اس بات پر مجبور کر دیں کہ وطن عزیز میں کم ازکم ملکی ٹی وی چینلز پر ایسے پروگراموں سے گریز کیا جائے جو اسلامی اخلاقی اقدار کیلئے نقصان دہ ہوں۔ مگر اپنی دینی علوم سیکھنے کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتے کیونکہ ہمیں موبائل، سوشل میڈیا، ٹی وی اور کیبلز سے فرصت ہوگی تو ہم دین کو سیکھنے کی کوشش کریں گے۔ اگر ہم ایک فیصد بھی اللہ کو سمجھنے اور جاننے میں کامیاب ہوئے تو ہمارے مسائل حل ہوجائیں گے۔

اداریہ