ترکی کا قابل تقلید پہلو

ترکی کا قابل تقلید پہلو

موجودہ دور مفادات کا دور ہے جہاں دوستی اور دشمنی کا معیار مفادات ہی ہوتے ہیں، اسی فارمولے کے تحت دوست کے دوست کو اپنا دوست تصور کیا جاتا ہے اور دشمن کے دوست کو اپنا دشمن سمجھا جاتا ہے۔21 ویں صدی میں تو دنیا باقاعدہ بلاکس میں تقسیم ہو گئی ہے اور ان بلاکس کا برسر عام اظہار بھی کیا جاتا ہے۔ آج کی دنیا میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں مگر طوالت کے ڈر سے انہیں یہاں ذکر نہیں کر رہی، عالم کفر کے برعکس روئے زمین پر 57ا سلامی ممالک اور ڈیڑھ ارب مسلم آبادی ہونے کے باوجود مسلم ممالک میں اتحاد اور قیادت کا فقدان ہے، اس وقت کوئی مسلمان ملک یا لیڈر اس قابل نہیں کہ وہ مسلمانوں کی قیادت کا کردار ادا کر سکے، مسلمانوں کے حقوق کیلئے بننے والی تمام تنظیمیں غیر فعال ہیں، مسلم ممالک اپنے حقوق کیلئے امریکہ ویورپ کی طرف دیکھنے پر مجبور ہیں۔ قحط الرجال کے اس دور میں ایک ملک ایسا بھی ہے جس نے عظیم لیڈر کی قیادت میں عالم اسلام کے دکھوں کا مداوا کرنے کی کوشش کی ہے، اس عظیم رہنما نے جب ترکی کی قیادت سنبھالی تو ترکی کو طرح طرح کے بحرانوں کا سامنا تھا، ترکی بیرونی قرضوں کی دلدل میں بری طرح پھنس چکا تھا، قومی ادارے تباہ حال تھے، ملک میں سازشی عناصر کو کھلی آزادی تھی، اسلام صرف نام کی حد تک باقی تھا، مسجدیں ویران تھیں، اذان پر پابندی اور حجاب لینے پر ماؤں بہنوں کو پابند سلاسل کیا جاتا تھا، ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے یورپ نے عملی طور پر ترکی پر اپنی تہذیبی یلغار کے ذریعے قبضہ کر لیا ہو جو نام کا تو ترکی ہے لیکن ثقافتی لحاظ سے یورپ۔ ان نامساعد حالات میں رجب طیب اردوان نے زمام اقتدار سنبھالی، انہوں نے انتھک محنت، لگن، ایمانداری اور بہترین حکمت عملی سے قومی اداروں کا قبلہ درست کرنا شروع کیا جو ادارے مسلسل خسارے میں جا رہے تھے وہ نفع بخش ہوگئے، ترکی کے قرضے کم ہوتے ہوتے چند سالوں میں مکمل ختم گئے، مسجدیں آباد ہونے لگیں، مسجدکے میناروں سے اذانوں کی آوازیں گونجنے لگیں اور ما ؤں بہنوں کو ان کی کھوئی ہوئی ردا واپس مل گئی، معیشت نے پلٹا کھایا اور جو ترکی چند سال پہلے تک پائی پائی میں بیرونی امداد کا محتاج تھا آج وہی ترکی یورپی ممالک سمیت دیگر کئی ممالک کو قرض دینے کے قابل ہو گیا۔

یہ مختصر احوال تو ترکی تک محدود تھے اس عظیم لیڈر کا امت مسلمہ کو یہ فائدہ ہوا کہ جن مسلمانوں کی مظلومیت اور بے بسی پرکوئی آواز اٹھانے کیلئے تیار نہ تھا، ترک صدر نے برما، بنگلہ دیش، فلسطین، کشمیر اور شام کے مظلوم مسلمانوں کے حقوق کیلئے دنیا کے سامنے توانا آواز بلند کی اور دنیا کو یہ باور کرایا کہ مسلمان جہاں کہیں کے بھی ہوں، ترکی ان کیساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہوگا۔مفادات کی اس دنیا میں اگرچہ پاکستان نے چین جیسے مخلص دوست، سعودی عرب جیسے دیرینہ اور کٹھن وقت میں ساتھ دینے والے دوست ملک، ایران جیسے پڑوسی ملک جس نے پاکستان کو سب سے پہلے تسلیم کیا اور دیگر چند ممالک کیساتھ تعلقات استوار کئے ہیں لیکن میں سمجھتی ہوں موجودہ دور میں پاکستان کے تعلقات جس طرح مضبوط اور پائیدار ترکی کیساتھ ہیں کسی بھی دوسرے ملک کیساتھ شاید ہی ایسے تعلقات ہوں۔ مجھے دنیا کے کئی ممالک میں جانے کا اتفاق ہوا، وہاں کے لوگوں نے استقبال بھی کیا، پیار بھی دیا لیکن جو پیار، جو محبت اور اپنائیت ترکی سے ملا، اس کی کوئی نظیر نہیں، یہ صرف میرے ساتھ ہی خاص نہیں، ترکوں کے دلوں میں ہر پاکستانی کیلئے انتہائی احترام اور محبت ہے جس کا وہ کھلے عام اظہار کرتے ہیں اور ایسے نقوش چھوڑ جاتے ہیں جسے انسان کبھی بھی بھول نہیں پاتا، مجھے دو بار ترکی جانے کا اتفاق ہوا، جب دوسری مرتبہ ترکی گئی تو ترکش عوام ناکام فوجی بغاوت کی سالگرہ منا رہے تھے، جب انہیں معلوم ہوا کہ ہم پاکستان سے ان کیساتھ اظہار ہمدردی کیلئے آئے ہیں تو ایسی خوشی کا اظہار کرتے جسے الفاظ میں بیان کرنا بہت مشکل ہے۔ اس طرح کا پیار اور محبت پاکستانیوں کو صرف ترکی کے عوام سے ہی مل سکتا ہے دیگر ممالک میں اس کا تصور بھی محال ہے۔
گزشتہ دنوں معلوم ہواکہ پاکستان میں ترکی کے نئے سفیر مصطفیٰ یرداکل نے اسلام آباد میں اختیارات سنبھال لئے ہیں اور انہوں نے اپنی پہلی ملاقات ایک ادارے کے یتیم بچوں کو ظہرانہ دے کر کی ہے، اس موقع پر مصطفیٰ یردا کل نے کہا کہ ترکی کی یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم کیلئے یتیم بچوں کو اسکالر شپ دی جائے گی جس سے وہ ترکی کی بہترین یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ ترک صدر سے لے کر ترک سفیروں تک، ترکی کی موجودہ تاریخ اس طرح کے واقعات سے بھری پڑی ہے، جب تاریخ کا طالب علم اس طرح کے واقعات کا جائزہ لیتا ہے تو اسے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ ترکی نے اپنا موجودہ مقام حاصل کرنے کیلئے کس طرح محنت کی ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ پاکستان میں بھی کوئی ایسے ہی اُجلے کردار کا حامل رہنما آئے جو ترکی کی طرز پر جدوجہد کرے، جو اسلام کی ایسی تصویر لوگوں کے سامنے پیش کرے جس طرح رجب طیب اردوان نے پیش کی ہے جو خدمت کو اپنی منزل سمجھے، جو مذہب پسند اور جدت پسند طبقہ کو ایک ساتھ لے کر چلے، جہاں ہر کوئی دوسرے کو احترام دے، جہاں کردار کشی کے بجائے لوگ ملکی ترقی میں اپنا اپنا حصہ ڈالیں، ایسا کرنے کیلئے ہمیں ترکی سے بہت کچھ سیکھنا ہوگا اور انہی خطوط پر چلنا ہوگا جن خطوط پر چل کر ترکی نے ترقی حاصل کی ہے۔

اداریہ