Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

ایک مرتبہ بہلول مجذوب ؒ ہارون الرشید کے پاس پہنچے ۔ ہارون الرشید نے ایک چھڑی اٹھا کر دی ۔ مزاحاً کہا کہ بہلول ! یہ چھڑی تمہیں دے رہا ہوں ، جو شخص تمہیں اپنے سے زیادہ بے وقوف نظر آئے ، اسے دے دینا ۔ بہلول مجذوب ؒ نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ چھڑی لیکر رکھ لی اور واپس چلے آئے ۔بات آئی گئی ہوگئی ۔ عرصہ کے بعد ہارون الرشید کو سخت بیماری لاحق ہوگئی ، بچنے کی کوئی امید نہ تھی ۔ بہلول مجذوب ؒ عیادت کے لئے پہنچے اور اسلام کے بعد پوچھا : امیر المومنین کیا حال ہے ؟ ۔
امیر المومنین نے کہا : بڑا لمبا سفر درپیش ہے ۔ پوچھا کہاں کا سفر ؟ جواب دیا : آخرت کا بہلول نے سادگی سے پوچھا : واپسی کب ہوگی ؟ جواب دیا بہلول ! تم بھی عجیب آدمی ہو ۔ بھلا آخرت کے سفر سے بھی کوئی واپس ہوا ہے ؟ ۔
بہلول ؒ نے تعجب سے کہا : اچھا آپ واپس نہیں آئیں گے تو آپ نے کتنے حفاظتی دستے آگے روانہ کئے اور ساتھ ساتھ کون جائے گا ؟ جواب دیا : آخرت کے سفر میں کوئی ساتھ نہیں جایا کرتا ۔ خالی ہاتھ جارہا ہوں ۔ بہلول مجذوب ؒ کہنے لگے : اچھا اتنا لمبا سفر کوئی معین و مدد گار نہیں ، پھر تو لیجئے ، ہارون الرشید کی چھڑی بغل سے نکال کر کہا ۔ یہ امانت واپس ہے ۔ مجھے آپ کے سوا کوئی انسان اپنے سے زیادہ بے وقوف نہیں مل سکا ۔ آپ جب کبھیچھوٹے سفر پر جاتے تھے تو ہفتوں پہلے اس کی تیاریاں ہوتی تھیں ۔ حفاظتی دستے آگے چلتے تھے ۔ اتنے لمبے سفر میں جس میں واپسی بھی ناممکن ہے ، آپ نے تیاری نہیں کی ۔
ہارون الرشید نے یہ سنا تو رو پڑے اور کہا : بہلول ہم تجھے دیوانہ سمجھا کرتے تھے ۔ مگر آج پتہ چلا کہ تمہارے جیسا کوئی فرزانہ نہیں ۔ حضرت ابو اسحاق ابراہم ؒ کے زمانے میں ایک اندھا بھکاری تھا ۔ جو ہمیشہ اپنی آنکھیں چھپائے رکھتا تھا ۔
ابو اسحاق ابراہیم ؒ فرماتے ہیں : ایک مرتبہ اس بھکاری نے اپنی داستان حیرت نشان سنائی کہ میں اپنے شہر کا نامی گرامی کفن چور تھا اور لوگ مجھ سے بے حد خوفزدہ رہتے تھے ۔ اتفاق سے شہر کا قاضی (یعنی جج) بیمار پڑ گیا ۔اس نے مجھے 100دینار بھجوا کر کہلا بھیجا کہ میں ان سو دیناروں کے ذریعے اپنا کفن تجھ سے محفوظ کرنا چاہتا ہوں ۔ میں نے حامی بھرلی ، اتفاقاً وہ تندرست ہوگیا مگر کچھ عرصے کے بعد پھر بیمار ہو کر مر گیا ۔ میںنے سوچا کہ و ہ عطیہ تو پہلے مرض کا تھا ، لہٰذا میں نے اس کی قبر کھود ڈالی ۔ قبر میں عذاب کے آثار تھے اور قاضی (جج) قبر میں بیٹھا ہوا تھا ۔ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے اور آنکھیں سرخ ہورہی تھیں ! اچانک میں نے اپنے گھٹنوں میں درد محسوس کیا اور کسی نے میری آنکھوں میں انگلیاں گھونپ کر مجھے اندھا کر دیا اورکہا ۔۔اے دشمن خدا ! حق تعالیٰ کے بھیدوں پر کیوں مطلع ہوتا ہے !اس کے بعد میری آنکھوں کا یہ حال ہوا۔
(عبرت آموز واقعات)

اداریہ