Daily Mashriq


یوم یکجہتی کشمیر کے تقاضے

یوم یکجہتی کشمیر کے تقاضے

وزیراعظم نریندر مودی کے دورے کے موقع پر کشمیر بھر میں مکمل ہڑتال اس امر کا ثبوت ہے کہ کشمیری عوام بھارت سے کس قدر نفرت کے جذبات رکھتے ہیں پاکستان میں کم ہی مسائل پر قومی سطح پراتفاق رائے اور یکجہتی پائی جاتی ہے لیکن جہاں کشمیر کا مسئلہ ہو یا بھارت سے الجھائو ان معاملات میں پوری قوم یکسوہو تی ہے ۔ حال ہی میں سابق صدرپاکستان آصف علی زرداری کا اپنی زندگی میں مسئلہ کشمیر کے حل کی امید کا اظہار اور کشمیربارے پاکستان قومی موقف بھر پور اعادہ اس امر پر دال ہے کہ کشمیر کے مسئلے پر حکومت سے شکایات اور سیاسی اختلافات کی کوئی وقعت نہیں کشمیر کے مسئلے پر پوری قوم ایک ہے اور یہی وہ مضبوط پیغام اور کشمیر یوں سے رشتہ ہے جس سے بھارتی قیادت ہر وقت خوفزدہ رہی ہے ۔ حکومت کی تو اخلاقی وسفارتی ذمہ داری ہی ہے کہ وہ کشمیر کے معاملے کو دنیا بھر میں اجا گر کروائے اور دنیا کے سامنے بھارت کے مظالم کو اجاگر کر کے شہریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت دلائی جائے ۔ اسی مساعی کے ضمن میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی برطانیہ میںموجود ہیں جہاں وہ مختلف عالمی فورمز اور میڈیا پر کشمیر کے مسئلے کو اجا گر کریں گے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ کشمیری باشندوں نے بھارت کے جابرانہ تسلط کے خلاف ہمیشہ جدوجہد کی ہے اور اپنی مرضی کے خلاف کسی جابر طاقت کے سامنے کبھی سر نہیں جھکایا بلکہ اپنی مسلسل جدوجہد ہمیشہ جاری رکھی ۔ایک سال دو سال یا دس سال تک کسی دشمن سے مسلح جنگ کرنا بھی شجاعت کی دلیل ہے ۔مگر کشمیری عوام سات دہائیوں سے زائد عرصے سے نہتے ہونے کے باوجود پوری طرح برسر پیکار ہیں۔ پاکستان میں ہر سال بھارتی ظلم و بر بریت اور کشمیریوں پر مظالم کو اجا گر کرنے کیلئے پانچ فروری کو یومِ یکجہتی کشمیر بڑی باقاعدگی سے منایا جاتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر ہی پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام مسائل کی جڑ ہے۔ پانی کے مسئلے کو لیجئے اسی سے جڑا ہوا ہے کہ پاکستانی دریاؤں کے منبع ادھر ہیں اور یہی پانی پاکستان کے زرعی میدانوں میں خون بن کر دوڑتا ہے اور نہ صرف زراعت بلکہ صنعت بھی کئی حوالوں سے انہی دریاؤں کی مرہو ن منت ہے کہ بڑی آبادیاں اور صنعتیں یہیں پر پھلتی پھولتی ہیں لیکن بھارت انہی دریاؤں کا پانی روک کر ڈیم بنا رہا ہے۔آج کشمیری شہادتیں قبول کر رہے ہیں، سختی برداشت کر رہے ہیں، یتیمی کا دکھ سہنے کو تیار ہیں اور بیوگی کی بے بسی بھی لیکن بھارت کیساتھ رہنے پر آ مادہ نہیں اور اسی جرم میں روزانہ ریاستی تشدد کا سامنا کر رہے ہیں ہر روز شہادتیں ہو رہی ہیں صرف آزادی کی خواہش کے جرم میں۔ نہ ہی عورتیں محفوظ ہیں نہ بچے اور نہ ہی بوڑھے، کون کہاں مرا کسی کو معلوم نہیں۔ ہاں کچھ عرصے بعد کچھ بے نام اور کچھ اجتماعی قبریں مل جاتی ہیں۔ پچھلے بائیس تئیس سالوں میں کشمیر میں پچاس سے اسی ہزار شہادتیں ہو چکی ہیں اورایک لاکھ سے زائد لوگوں کو غائب کیا گیا ہے جن میں سے ہزاروں کو ان بے نام قبروں میں چھپا دیا گیا ہے جن کی واپسی کا کوئی امکان نہیں۔کشمیر میں موجود پانچ سے سات لاکھ بھارتی فوج نے آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ کے ذریعے جس طرح ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے ہمیں اسے بھی دنیا کے سامنے لانا چاہئے تو تب ہی ہم یومِ یکجہتی کشمیر کا حق ادا کر سکیں گے۔ بھارت کشمیر میں بدامنی کیلئے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرا کر پوری دنیا میں واویلا کرتا ہے تو ہمارے پاس تو حقائق ہیں، پھر ہم کیوں ان حقائق کو دنیا کے سامنے نہیں رکھ رہے، ہم دنیا کو کیوں نہیں بتاتے اورکیوں نہ انسانی حقوق کی تنظیموں کو جگا دیتے کہ وہ آکر ہزاروں نوجوان کشمیری بیوائوں اور معصوم یتیم بچوں کا دُکھ دیکھ لیں تاکہ ان کیلئے آواز اُٹھائی جا سکے۔ اس مسئلے کو ہر بین الاقوامی فورم پر اُجاگر کیا جائے اور ایک زبردست سفارتی مہم چلائی جائے تاکہ دنیا کو اس مسئلے کی سنگینی کا احساس دلایا جاسکے کہ کس طرح ایک ایسے علاقے کو بھارت نے غلام بنا رکھا ہے جس کی اکثریت مسلمان ہے جو نہ تاریخی طور پر نہ ثقافتی طور پر اور نہ ہی مذہبی طور پر بھارت سے کوئی مماثلت رکھتا ہے اگر اس مسئلے کو پوری دنیا میں مختلف انداز سے اُجاگر کیا جائے اور بھارت کے مظالم کو دنیا کے سامنے رکھا جائے تو عالمی ضمیر میں شاید کوئی ارتعاش پیدا کیا جاسکے اور بھارت کو اُس استصوابِ رائے پر مجبور کیا جاسکے جس سے وہ مسلسل انکاری ہے۔ بھارت کو سفارتی طور پر اتنا مجبور کیا جائے کہ وہ کشمیریوں کا حق آزادی تسلیم کر لے۔ اہل کشمیر کو ان کے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیا جائے جو انسانی بنیادوں پر اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کو حاصل ہے تو دنیا کا یہ حساس ترین خطہ بھی بدامنی سے محفوظ ہو سکے گا۔یوم یکجہتی کشمیر کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ اس موقع پر ہم نہ صرف اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ زبانی کلامی اظہار یکجہتی کریںبلکہ اُن کی اخلاقی وسفارتی مدد کے ساتھ ساتھ جتنی جائز مدد ممکن ہوسکے اُس سے ہم دریغ نہ کریں کشمیری بھائیوں کی مدد ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے جس میں کوتاہی کی کوئی گنجائش نہیں ۔

متعلقہ خبریں