Daily Mashriq


کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک

کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک

خیبر پختونخوا میں جعلی،غیر رجسٹرڈ،سپرداری اورنان کسٹم پیڈگاڑیوں کیخلاف صوبہ بھر میںکریک ڈائون کا آغاز سنجیدہ اقدام ہے۔غیر رجسٹرڈ اور جعلی نمبر پلیٹیں صوبے کیلئے بدنامی کا باعث بن رہی تھیں جس کی وجہ سے پشاور سمیت صوبے کے دیگر علاقوں کے نمبر کو دیگر صوبوں میں مشکوک سمجھا جا نے لگا تھا۔اس مہم کے دوران عندیہ دیا گیا ہے کہ سیاسی اور سرکاری شخصیات سمیت ہر کسی کی گاڑی کو روکا جائے گا اور گرین نمبر یعنی سرکاری نمبر پلیٹس کے بے جا استعمال کا سدباب کیا جائے گا۔صوبے میں ہرقسم کی مشکوک گاڑیوںکے خلاف مہم کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت اگر غیر مجاز سرکاری اہلکاروں کو سرکاری گاڑیوں کے غیر قانونی استعمال سے روکنے کی بھی مہم ساتھ شروع کروائے تو اس سے خزانے کو پٹرول اور گاڑیوں کی مرمت بارے بڑی بچت ہوگی اور قانون کا بول بالا ہوگا۔ بہرحال فی الوقت محکمہ ایکسائز نے جو مہم شروع کی ہے اور جس کے مظاہر علی الصبح صوبائی دارالحکومت کے بعض مقامات پر نظر بھی آئے اس پر پوری طرح سے کاربند رہنے کی ضرورت ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ اس قسم کی مہم کا عندیہ پہلے بھی دیا جاتارہا ہے اور مہم شروع بھی ہوتی رہی ہیں لیکن یہ بیل کبھی بھی منڈھے چڑھتے اس لئے نہیں دیکھی گئی کہ اس طرح کی مہم ہو یا تجاوزات کے خلاف مہم یا پھر بڑے بڑے ہوٹلوں ریسٹورنٹس یا جعلی ادویات اور غیر قانونی اسلحہ کے خلاف مہم ہر جگہ بااثر افراد اور سیاسی عناصر اس قسم کی سرگرمیوں کے آڑے آتے رہے ہیں غیر قانونی گاڑیوں غیرقانونی نمبر پلیٹس اور سرکاری گاڑیوں کا غلط استعمال جیسے معاملات میں تو کوئی عام آدمی کم ہی ملوث ہوسکتا ہے۔ بنا بریں اس مہم کی کامیابی پورے حکومتی عزم اور دارہ جاتی اخلاص اور کسی دبائو میں نہ آنے ہی کی شرط پر نتیجہ خیز ثابت ہوسکے گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس مہم کی کامیابی کیلئے بلا تفریق اور بلا امتیاز کارروائی ہی سے اس بات کی توقع کی جاسکے گی کہ محکمہ ایکسائز میں جو اصلاحات لائی گئی ہیں اور جو تبادلے ہوچکے ہیں اور ساتھ ہی سکریٹری ایکسائز نے جس عزم کا اعادہ کیا ہے اس کی حقیقت ان اعدادوشمار سے ہی کھلے گی جو اس مہم کی تفصیلات کے دوران جاری کی جائیں گی اور حکومت کو جو رپورٹ پیش ہوگی ۔ پراپرٹی ٹیکس اور موٹروہیکل کی رجسٹریشن میں محکمہ ایکسائز کی جو حالت ہے اور اس کی خراب ترین کارکردگی کا جو عالم ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ سکریٹری ایکسائز اگر پراپرٹی کے ٹیکسوں کی درست فہرست ہی تیار کر واسکیں اور موٹر وہیکل رجسٹریشن کیلئے لوگوں کو مہینوں انتظار اور رشوت وسفارش کا سہار انہ لینا پڑے تو یہ بڑی کامیابی ہوگی۔

تجویز پر نظر ثانی کی جائے

تحریک انصاف کی حکومت کے حوالے سے اگر اس امر کی تصدیق ہوتی ہے جس کے مطابق فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایک اعلیٰ اختیاراتی ٹیکس کمیشن قائم کیا جائے تاکہ صوبوں سے خدمات پر جنرل سیلز ٹیکس اور زرعی ٹیکس کی وصولی کا اختیار واپس لیا جائے اور جائیداد پر یکساں قدر کے مطابق ٹیکس نافذ کیا جائے تویہ صوبوں کے منہ سے نوالہ چھیننے کے مترادف اور صوبائی خودمختاری میں دخل دینے کا حامل معاملہ ہوگا۔ 18ویں ترمیم سے قبل کی خدمات پر ٹیکس وصولی کے نظام کی طرف واپس جانے کا شاید کوئی میرٹ ہو، جہاں صوبوں نے تحریری طور پراس امر سے اتفاق کیا تھا کہ چاہے وفاقی حکومت ٹیکس جمع کرے، لیکن آمدن اسی صوبے کو براہ راست منتقل کی جائیگی جہاں سے وصول ہوئی۔ یہ عمل خدمات کے سیکٹر سے شروع کیا جاسکتا ہے جہاں مختلف شعبوں سے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ ذرائع ابلاغ میں اس حوالے سے جو اطلاعات آرہی ہیں ان کی حکومت کی جانب سے سختی سے تردید دم تحریر نہیں آئی جبکہ ایک معروف انگریزی معاصر نے اپنی اشاعت میں اس امر کا دعویٰ کیا ہے کہ محولہ تجاویز اور تیاریوںبارے ان کے پاس دستیاب ہے۔ملک میں اس وقت اٹھارہویں ترمیم میں تبدیلی کی جو باز گشت سیاسی حلقوں میں چل رہی ہے بظاہر اس کے آثار نظر نہ آنے کے باوجود جو شوربر پا ہے وہ بلاوجہ نہیں۔ بہرحال اس کے قطع نظر یہ کوئی سیاسی ایشو نہیں بلکہ صوبوں کے حقوق کا معاملہ ہے صوبوں کی آمدن پر جو فیصلہ آئینی ترمیم میں ہوچکا اس میں ردوبدل کرنے کو صوبائی حکومتیں خواہ وہ جس جماعت کی بھی حکومت ہو وہ کبھی بھی آمادہ نہیں ہوں گی۔ اس قسم کی مساعی کے ذریعے مرکزی حکومت کے اخراجات چلانے کے نتائج اچھے نہیں نکلیں گے جہاں تک خیبر پختونخوا کا تعلق ہے ہمارا صوبہ اس لحاظ سے زیادہ ہی بد قسمت صوبہ ہے جسے وعدے اور کمیٹی کی تشکیل کے باوجود ہنوزبجلی کے خالص منافع کی ادائیگی کا انتظار ہے فی الوقت تو اس حوالے سے دعوئوں کے باوجود پیشرفت کے کوئی آثار نہیں لیکن بہرحال وزیراعظم نے اس ضمن میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے جو وعدہ کیا ہے اس کی تکمیل کیلئے جلد عملی اقدامات سامنے آئیں گے اور صوبے کو اس کا جائز حق مل جائے گا۔

متعلقہ خبریں