Daily Mashriq


پھر وہی ہم ہیں وہی تیشہ رسوائی ہے

پھر وہی ہم ہیں وہی تیشہ رسوائی ہے

وزیر پٹرولیم نے کیا خوب فرمایا ہے کہ سبسڈی مزید نہیں دے سکتے‘ گیس مہنگی کرنی پڑے گی۔ انہوں نے اگرچہ اعتراف بھی کیا ہے کہ گیس کی قیمت میں اضافے سے تمام لوگ متاثر ہوئے ہیں‘ 5سال میں گیس کی قیمت میں اضافہ نہیں ہوا‘ مجبوری میں قیمت بڑھانا پڑی‘ ملک چلانا ہے تو عوام کو بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔ دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات کا فرمانا ہے کہ قوم کے پیسے لوٹ کر لندن اور دبئی لے جانے والے حج سبسڈی پر سیاست کر رہے ہیں۔ ان دونوں بیانات پر دو مختلف واقعات یاد آگئے ہیں‘ پہلا واقعہ تو پشتو زبان کی ضرب المثل کا روپ دھار چکا ہے اور ہر چند کہ اس میں کچھ نازک مقامات بھی موجود ہیں جن کا تذکرہ کرتے ہوئے اس سے حتیٰ المقدور بچنے کی کوشش کریں گے کہ کالم اصل الفاظ کا بوجھ اٹھانے کا متحمل نہیں ہوسکتا یعنی ان الفاظ سے ’’خوف فساد خلق‘‘ کی سرحدوں کو چھیڑے بغیر نہیں گزرا جاسکتا اس لئے اصل الفاظ کو شرافت کے دائرے میں قید کرنا لازم ٹھہرتا ہے تو واقعہ یا کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک شخص کے دو تین بچے رات کے وقت والد کی مہربانی سے ’’لگژری ٹائپ‘‘ کا کھانا کھاتے ہوئے ایک دوسرے سے چیزیں جھپٹ رہے تھے‘ باپ انہیں منع کرتا رہا کہ آرام سے اور سکون سے کھائو مگر شاید اتنا اچھا کھانا بچوں نے پہلی بار دیکھا تھا اس لئے ہر ایک اپنے حصے پر صبر کرنے کو تیار نہیں تھا۔ باپ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کھائو‘ کھائو بچو‘ تم سب میں سے ایک کے ساتھ دیکھ لوں گا‘ بچے گھبرا گئے اور باپ کو خوفزدہ انداز میں دیکھنے لگے تو ماں نے کہا‘ کھائو بچو‘ فکر نہ کرو‘ تمہارے باپ کا بس صرف مجھ پر چلتا ہے‘ تمہارا سارا غصہ یہ مجھ پر اتار دیتے ہیں۔ کہانی میں تو باپ کے غصے یا ناراضگی کا بوجھ ماں نے اٹھانے کا اعتراف کیا مگر یہاں تو معاملہ بالکل الٹ ہے‘ یعنی بقول وزیر پٹرولیم ماں یعنی حکومت مزید بوجھ اٹھانے کو تیار نہیں ہے بلکہ اب کی بار بچے یعنی عوام ہی یہ بوجھ اٹھائیں‘ حالانکہ حکومتوں کا دوسرا نام ’’ مائی باپ‘‘ بھی ہے۔ البتہ وزیر موصوف نے یہ جو دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ پانچ سال میں گیس کی قیمت نہیں بڑھائی گئی تو ایک لحاظ سے ان کا فرمانا درست بھی ہے حالانکہ حقیقت کا اس سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس بارے میں بھی عوام ہی بہتر جانتے ہیں جنہیں مختلف اوقات میں گیس قیمتوں میں بڑھوتری کا بوجھ برداشت کرنا پڑا ہے کیونکہ رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے تمام ممبران کو تنخواہوں کے علاوہ دیگر کئی قسم کی جو مراعات ملتی ہیں ان میں بجلی‘ ٹیلی فون‘ گیس‘ پٹرول کی ایک خاص مقدار تک خرچ کرنے کے حوالے سے الائونس ملتا ہے اور انہیں خبر ہی نہیں ہوتی کہ ان کو کتنا بل ادا کرنا پڑا ہے۔ گویا وہ انقلاب فرانس کے دور کی اس شہزادی کی مانند ہوتے ہیں جس نے عوام کی جانب سے روٹی نہ ملنے پر احتجاج کے ہنگام یہ تاریخی جملہ مشورے کے طور پر دیا تھا کہ اگر روٹی نہیں ملتی تو یہ کیک پیسٹری کیوں نہیں کھا لیتے۔ در اصل اس قسم کے مشورے پوٹاپر قسم کے لوگ ہی دے سکتے ہیں تاہم اگر وزیر موصوف گزشتہ پانچ سال میں گیس قیمتوں میں اضافہ نہ ہونے کا بیان دینے سے پہلے اپنی گزرے پانچ سال کے گیس کی قیمتوں کا شیڈول نکال کر دیکھ لیتے تو کم از کم یہ جملہ تو اپنے فرمودات عالیہ سے نکال لیتے کہ عوام اور خواص ( ارکان پارلیمنٹ) میں فرق تو مرحوم مقبول عامر نے یوں واضح کیا تھا

پھر وہی ہم ہیں وہی تیشہ رسوائی ہے

دودھ کی نہر تو پرویزؔ کے کام آئی ہے

دوسرا بیان وزیر اطلاعات کا ہے جنہوں نے اپوزیشن پر حج سبسڈی کے ساتھ کھیلنے پر طنز و تشنیع کے تیر برسائے ہیں حالانکہ اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں اس حوالے سے جو کہانی ہمیں معلوم ہے وہ مختصراً بیان کردیتے ہیں اور کہانی نہیں بلکہ حقیقت آپ کے سامنے رکھ دیں۔ یہ واقعہ انگریز کے دور کا ہے‘ اس زمانے میں حج پر جانے والے بحری جہازوں کے ذریعے جدہ کی بندر گاہ تک کا سفر اختیار کرتے تھے۔ اس دور میں ایک صاحب حیثیت شخص نے حجاج کرام کو سعودی عرب لے جانے کا ٹھیکہ حاصل کیا اور ٹھیکہ منظور ہوتے ہی انہوں نے بحری جہاز کا ٹکٹ مہنگا کردیا تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ دولت حاصل کرسکیں۔ پورے ہندوستان کے مسلمانوں میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی‘ غریب لوگوں نے بڑی مشکل سے زاد راہ پس انداز کرکے سفر حج کا قصد کیا تھا۔ اخراجات (ٹکٹ) میں اضافے کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ یا تو حج پر جانے سے محروم رہ گئے یا پھر قرض لے کر مہنگا ٹکٹ خریدنے پر مجبور ہوئے‘ پھر ہوا یوں کہ میدان عرفات میں جا کر ہندوستان کے حجاج کرام نے اس شخص کو ہاتھ اٹھا اٹھا کر بد دعائیں دیں‘ چونکہ اس کی تجارت ہندوستان کے کونے کونے سے سمر قند‘ بخارا اور دیگر وسط ایشیائی ریاستوں تک پھیلی ہوئی تھی اور یہ تمام علاقے زار روس کی حکومت کے تحت تھے جہاں روس کی اس دور کی کرنسی روبل کا راج تھا۔ اللہ کا کرنا یوں ہوا کہ روس میں کمیونسٹ انقلاب آگیا اور لینن کی سربراہی میں حکومت قائم ہوتے ہی زار کے دور کی کرنسی کو منسوخ کرکے نئی کرنسی جاری کی گئی۔ اس انقلابی اقدام سے ہندوستان کا حج ٹھیکیدار بالکل تباہ ہوگیا اور وہ ایک لمحے میں آسمان سے زمین پر آگیا۔ سچ ہے مظلوموں کی فریاد عرش تک پہنچ جائے تو دنیا الٹ جاتی ہے‘ بڑے بڑے برج الٹ جاتے ہیں‘ بادشاہ فقیر ہوجاتے ہیں کیونکہ دکھی دلوں کی آہوں میں بڑی طاقت ہوتی ہے۔ ہم کوئی بد شگونی نہیں کرنا چاہتے مگر ایسے واقعات تاریخ کے صفحات میں آج بھی محفوظ ہیں اور عبرت کا نشان بن کر آنے والے زمانوں کے لئے سبق کا باعث ہیں مگر ان سے سبق سیکھنے کو کوئی تیار بھی تو ہو۔ خواجہ حیدر علی آتش نے بھی تو کہا تھا

باراں کی طرح لطف و کرم عام کئے جا

آیا ہے جو دنیا میں تو کچھ کام کئے جا

متعلقہ خبریں