Daily Mashriq


ایک نیا معاہدہ عمرانی…مگر کیسے؟

ایک نیا معاہدہ عمرانی…مگر کیسے؟

پاکستان کے اداروں کے مابین ایک نئے معاہدہ عمرانی کی ضرورت پر کافی زور دیا جا رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پچھلے کچھ عرصہ کے دوران اداروں کے درمیان مخاصمت اور ان کے اپنے اپنے اختیارات سے تجاوز اور دوسرے اداروں کے کاموں میں مداخلت کی شکایات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اور ان شکایات کی شدت اب بڑھتی محسوس ہو رہی ہے۔ گو کہ دوسرے اداروںکے اختیارات اور دائرہ ہائے کار میں مداخلت صرف عدلیہ کا ہی کام نہیں رہابلکہ پاکستان کا اعلیٰ انتظامی ڈھانچہ بھی سیاسی مداخلت سے شدید متاثر ہے جہاں تبادلوں، تعیناتیوں اور ترقیوں میں اثرورسوخ کا استعمال کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ مزید برآں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بھی کسی ایک مرکز سے تشکیل نہ پائے جانے کے حوالے سے خدشات ہمیشہ سے موجود رہے ہیں۔ سابق چیئرمین سینٹ، رضا ربانی اداروں کے مابین اس مخاصمت، اختیارات سے تجاوز اور ایک دوسرے کے کاموںمیں مداخلت کے بڑے ناقد رہے ہیں۔ ان کی جانب سے پاکستان کے اداروں، بالخصوص پارلیمنٹ، عدلیہ اور افواج کے مابین ایک نیا معاہدہ عمرانی بھی تجویز کیا گیا۔ رضا ربانی کا دور تاریخی طور پر اس لیے بھی اہم ہے کہ ان کے دور میں اس وقت کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے سال2015ء میں اور آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے 2017ء میںسینٹ کی قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر اسے بریفنگ دی جس کے بعد ایک سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا ، بعد ازاں جسے آئی ایس پی آر کی جانب سے بہت ’’دوستانہ ‘‘اور’’ غیر روایتی ‘‘ قرار دیا گیا تھا ۔ گو کہ سول ملٹری تعلقات کو استوار رکھنے اوران کے مابین مؤثر اور بلا رکاوٹ رابطے بحال رکھنے کے لیے سال2013 ء میں نیشنل سکیورٹی کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا جو وزیر اعظم کی سربراہی میں ، اہم وفاقی وز راء اور عسکری قیادت کی موجودگی میں کام کرنے کی مجاز ہے مگر اس کے باوجود ایک نئے اور جامع معاہدہ عمرانی کا مطالبہ اور تجویز آتی رہتی ہے۔ اس کی سب سے اہم اور تازہ مثال موجودہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا اپناقلمدان سنبھالنے سے ایک دن قبل دیا گیا بیان ہے۔جس میں اُنہوں نے ریاست کے تینوں ستونوں، مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ سمیت عسکری ادارو ںکو ایک صحت مند مباحثے او رنئے عمرانی معاہدے کی دعوت دی۔ اُن کے اس بیان کو غیر روایتی اور خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے لیے منعقدہ فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس کھوسہ نے اداروں کے مابین اعتماد کے فقدان اور بہتر گورننس کی راہ میں حائل ان رکاوٹوں کے گفتگو اور مکالمے کے ذریعے دور کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی یہ تجویز اس لئے بھی اہم اور مؤثر معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس میں ادارو ںکی جانب سے ایک دوسرے کے کاموں میں مداخلت کو روکنے، عدلیہ کی کارکردگی بہتر بنانے، مقننہ کا اختیار صرف قانون سازی تک محدود کرنے اور اسے ترقیاتی فنڈز کی فراہمی روکنے، انتظامیہ میں ترقیوں، تعیناتیوں اور تبادلوں میں سیاسی اثرو رسوخ ختم کرنے ، عسکری اداروں کے کردار کو اپنے دائرے میں محدود کرنے ، لاپتہ افراد کے معاملے کو حل کرنے، شفاف احتساب کو یقینی بنانے اور سب سے بڑھ کر میثاق حاکمیت کی اہمیت، ضرورت اور اس کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ جسٹس کھوسہ کی یہ تجویز قابل قدر و تحسین ہے۔ البتہ یہاں اس کے بارے دو اہم سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ کیا اداروں کے مابین روابط اور مکالمے کے لیے پہلے سے تشکیل دیے گئے نیشنل سیکورٹی کونسل جیسے ادارے کافی نہیں کہ ان کی کارکردگی بہتر بنا کر کسی دوسرے پلیٹ فارم بنانے کی ضرورت ختم ہو جائے گی اور دوسرا سوال یہ کہ کیا عدلیہ کے لیے ایسے معاہدہ عمرانی یا اداروں کے مابین مکالمے کاباقاعدہ حصہ بننا ٹھیک ہے؟ اداروں کے مابین روابط استوار رکھنے کے لیے کئی پلیٹ فارم موجود ہیں اور نیشنل سیکورٹی کونسل کا ادارہ اس کام کے لیے موزوں ترین ہے کہ یہاں پارلیمانی اور عسکری قیادت کو باقاعدگی کے ساتھ تبادلہ خیال کا موقع ملتا ہے۔ البتہ اس ادارے کی کارکردگی بہتر بنانے اور اس سے واضح نتائج حاصل کرنے کے لیے مزید اقدامات کی گنجائش بہرحال موجود ہے۔ ویسے بھی دنیا بھر میں ایسی مثال کہیںموجود نہیں جہاں عدلیہ ایسے مباحثوں میں شریک ہوئی کہ ایسا کرنے سے عدلیہ کی غیر جانبداری پر سوال اُٹھتے ہیں اور معاہدہ عمرانی کی صورت میں ایک پارٹی ہونے کے ناطے بعد میں کسی بھی قسم کے تنازعے کے حل کے لیے عدلیہ سے غیر جانبدار انصاف کی اُمید نہیں رکھی جا سکتی۔ سو ایسے مباحثو ں اور معاہدوں سے عدلیہ کو خارج رکھنا ہی درست اقدام معلوم ہوتا ہے۔ کچھ ماہرین اس خیال کے بھی حامل ہیں کہ آئین میں اداروں کے اختیارات اور دائرہ ہائے کار بہت وضاحت سے درج ہیں اور ان کی تشریح کا حق بھی سپریم کورٹ کوحاصل ہے سو ایسے میں اداروں کے مابین کسی معاہدہ عمرانی کے لیے کوئی نیا نظام وضع کرنا بے معنی ہے۔البتہ ان روابط کی ضرورت اور اہمیت سے کوئی انکاری نہیں اور اس مقصد کے لیے پہلے سے موجود پلیٹ فارم کو مؤثر اندازمیں استعمال کرنا اور انہیں بہتر بنا نا ہی بہتر آپشن معلوم ہوتا ہے ۔

(بشکریہ : ڈان،ترجمہ: خزیمہ سلیمان)

متعلقہ خبریں