Daily Mashriq


حج پر سبسڈی کا خاتمہ درست ہے

حج پر سبسڈی کا خاتمہ درست ہے

شومئی قسمت ملاحظہ کیجئے کہ ہم بحیثیت فرداور قوم مفت کے اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ کوئی اگر نظام کی درستگی واصلاح کے لئے بھی کچھ بنیادی ردوبدل کرے تو ایک ہنگامہ کھڑا ہوجاتا ہے ۔ پاکستانی قوم کو ان کے حکمرانوں نے جائزوناجائز مراعات، سبسڈیز اور کک بیکس اور کمیشنوں کا ایسا رسیا بنادیا ہے کہ بقول غالب چھٹتی نہیں ہے کا فر منہ سے لگی ہوئی؟پاکستا ن کے دل لاہور میں میٹرو سروس کچھ اس اندازسے شروع ہوئی کہ قوم کو تقریباً چار ارب سالانہ سبسڈی دے کر ہی بسیں چل سکتی ہیں۔ پشاور کی میٹرو نے ابھی چلنا ہے اور سننے میں آرہا ہے کہ وہ بھی سبسڈی کے بغیر چلنے والی نہیں۔اور ادھرانصاف سرکار کے بعض عہدیداروں نے کہا ہے کہ سبسڈی نہیں دی جائے گی۔اس طرح واپڈا اور پی آئی اے بھی اس سبسڈی کے طفیل بہر حال زندہ ہیں۔حالانکہ یہ کوئی اچھی رسم نہیں بس چلی آئی ہے او راس چیز نے ہمارے بہت سے اداروں کو طفیلی بنادیا ہے۔ اس کے علاوہ پیڑی سیاست ہماری جڑوں میں ایسی بیٹھ گئی ہے کہ ہماری کوئی بات اور کوئی کام سیاست سے محفوظ نہیں رہا۔ اس کے علاوہ کرپشن تو گویا ہمارا قومی شعار بن گیا ہے ۔ حج اور عمرہ جیسی عبادات کو بھی ہم نے ان دوکاموں (کرپشن+سیاست) سے محفوظ نہیں رکھا۔ اب چند ہی برس قبل ہمارے وزیر مذہبی امور اور ڈائریکٹر اوقاف(وزارت مذہبی امور) باقاعدہ جیلیں کاٹ کر ہی نکلے ہیں ۔ اُس سال حج کے موقع پر ہمارے حجاج کرام جس طرح رُل گئے تھے وہ دنیا کے کسی اور ملک میں ممکن نہ تھا۔ بہرحال اب جبکہ ملکی معیشت کو صحیح خطوط پر رواں رکھنے کی جدوجہد میں سبسڈیز کو ختم کرنے کے سلسلے میں حج پر بھی سبسڈی ختم کی گئی ہے جو پچھلی حکومت کی محض سیاسی سکورنگ اور ڈیڑھ لاکھ حجاج کرام کے ذریعے گویا ڈیڑھ لاکھ خاندانوں کے ووٹرز کو متاثر کرنے کی کوشش تھی تو ہمارے بعض سیاستدانوں نے وہ طوفان اُٹھایا ہے کہ گویا نعوذباللہ حکومت نے کوئی خلاف اسلام کام کیا ہے ۔ اور بعض لوگ تو ویسے بھی یہ مہم چلائے ہوئے ہیں کہ گویا عمران خان کا تو اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں ۔ اور ان کے پیچھے تو یہودی لابی ہے اور یہ مملکت خداداد کو مغربی کلچر میں ڈبونا چاہتا ہے ۔ حالانکہ بات اتنی ہے کہ حج پر سبسڈی ختم کر کے حکومت نے صحیح کام کیا ہے ایک تو اس لئے کہ حج پرسبسڈی ختم کرنے سے جو اربوں بچے گا وہ اس ملک کے غریب عوام کے کام آئے گا اور دوسری بات یہ ہے کہ حج اور زکوٰۃ دو ایسی عبادتیں ہیں جو صاحب نصاب لوگوں پر فرض ہیں ۔لہٰذا اُن لوگوں پر توحج فرض ہے ہی نہیں جو صاحب استطاعت نہیں ۔ اور جو صاحب استطاعت ہیں اُن کے لئے ایک ڈیڑھ لاکھ روپیہ کوئی مسئلہ نہیں لیکن حکومت کے لئے اس وقت فی حاجی پچاس ہزار روپیہ سے اربوں روپے کی بچت اس لئے بہت ہے کہ یاروں کی فاقہ مستیوںکے سبب ملک جس معاشی بحران کا شکار ہے اُس نے عمران خان جیسے خود دار آدمی کو سعودی عرب،امارات، ملائیشیا،چین اور قطر کے پھیرے اس کے باوجود لینے پر مجبور کیا ہے کہ اُنہوں نے کہا تھا کہ میں اپنی حکومت کے پہلے چھ مہینوں میں بیرونی دورہ نہیں کروںگا۔ اوپر سے یار لوگ اس پر بھی بہت چیں بہ جبیں ہیں کہ عمران خان بھیک مانگ رہا ہے حالانکہ برادر مسلمان ملکوں اور عظیم دوست چین سے بھیک نہیں مدد طلب کی گئی ہے اور اللہ ان سب کا بھلا کرے کہ پچھلی حکومتوں کے سربراہوں کی طرح خالی ہاتھ نہیں لوٹا یا۔اور حج سبسڈی کے حوالے سے ایک مذہبی جماعت کے امیرفرمارہے تھے کہ جب سعودی عرب سے ویسے بھی مدد لی جارہی ہے تو حاجیوں کے لئے بھی اُن سے کچھ رعایتیں لی جاتیں تو حاجیوں پر یکدم ڈیڑھ لاکھ کا اضافہ نہ ہوتا۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ حج اخراجات میں اضافہ سعودی حکومت کی طرف سے نہیں ہوا بلکہ عالمی سطح پر مہنگائی اور کسادبازاری کے سبب مکانات اور ٹرانسپورٹ کے کرایے اور اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ سے حج اخراجات بڑھے ہیں۔مکرر عرض ہے کہ حج صاحب نصاب حیثیت لوگوں پر فرض ہے۔لہٰذا ایک سیاستدان کی بات کہ حکومت متوسطہ طبقہ کے لوگوں کو حج کی سعادت سے محروم کرنے پر تلی ہوئی ہے، نری سیاست کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ اور سوشل میڈیا پر الگ پروپیگنڈہ جاری ہے کہ قادیانیوں کو تو بھارت جانے کے لئے سفر کو آسان بنانے کے لئے سبسڈی دی جارہی ہے اور حاجیوں کو محروم کیا جارہا ہے۔ خدارا عمران خان کے بغض میں حاجیوں اور قادیانیوں کے درمیان یوں تقابل سے پرہیز کریں تو اسلام اور پاکستان کے لئے بہتر رہے گا۔ ہر بات پر قادیانیوں کو گھسیٹنا عالمی سطح پر اسلام اور مسلمانوں کے اس امیج کوکہ پاکستان میں مذہبی بنیادوں پر شہری حقوق کی بہم رسانی میں امتیاز برتا جاتا ہے اچھی بات نہیں ہے قادیانیوں کو پاکستان کی پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر غیر مسلم قرار دیا ہے ۔ پاکستان میں جتنے بھی غیر مسلم ہیں وہ پاکستان کی شہری حیثیت سے شہر ی حقوق میں کسی بھی دیگر پاکستانی کی طرح برابر کے شریک ہیں لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہربات اور ایشو میں سیاست سے گریز کیا جائے اور ہر ایشو کو اُس ایشو کی حد تک ہی ڈیل کیا جائے تو ملک وقوم سکھی ہیں گے۔

متعلقہ خبریں