Daily Mashriq


کیا صرف امیر طبقہ ہی مراعات یافتہ ہوتا ہے؟

کیا صرف امیر طبقہ ہی مراعات یافتہ ہوتا ہے؟

اگر آپ نے نسل در نسل اشرافیہ اسکول سے تعلیم حاصل کی ہے جہاں آپ کے دادا پڑھے پھر آپ کے والد نے علم حاصل کیا اور کسی دن آپ کے بچے بھی پڑھنے جائیں گے، تو آپ کے ساتھ ساتھ بڑے ہونے والے افراد نامور بیوروکریٹس، صنعت کاروں، سیاستدانوں اور زمینداروں کے بچے ہوتے ہیں۔

ایک مہنگی نجی تعلیم آپ کے لیے معتبر یونیورسٹی کی راہ ہموار کردیتی ہے، جہاں موجود پروفیسرز آپ کو تجزیاتی مفکر بنانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہیں۔ گریجویٹ ہونے تک آپ ایک ایسے خودرواں شخص بن جاتے ہیں جو ہر چیز کے بارے میں اپنے زاویہ نظر سے دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ہاں آپ کی جان پہچان بااثر ہم وطنوں سے ہوجاتی ہے، جو آپ کی ایک آواز پر لبیک کہہ کر ہر میدان میں آپ کے ساتھ دینے کو تیار ہوں گے۔آپ جیسے ہی اپنی عملی زندگی کا آغاز کریں گے تو آپ محسوس کریں گے کہ ملازمت کا جھمیلا تو عام لوگوں کے لیے ہونا چاہیے آپ کے لیے نہیں۔ آپ تو اپنے والد کے کامیاب کاروبار کو وہیں سے اپنے ہاتھوں میں لے سکتے ہیں جہاں پر آپ کے والد چھوڑیں گے۔ اگر ایسا نہیں تو پھر آپ کے والد کو چند لوگوں کو فون کرکے سفارش کرنے میں کوئی دقت محسوس نہیں ہوگی۔ پھر آپ اپنی قابلیت اور درست سفارشات کے بل بوتے پر ایک ٹاپ کارپوریٹ کمپنی میں مڈل منیجر بن جاتے ہیں، اور یوں ایگزیکٹو سطح کا عہدہ حاصل کرنے کے لیے آپ کو کم از کم ایک دہائی کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ مراعات پر بات کرنا یا غور و فکر کرنا بہت ہی کٹھن کام ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مراعات کا تعلق صرف طبقاتی فرق سے ہے کہ امیر کے پاس ملازم طبقے کی نسبت زیادہ مواقع اور شارٹ کٹس دستیاب ہوتے ہیں، لیکن مراعات کا طول و عرض یہاں تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ صنفی، نسلی، مذہبی شناخت، جنسی جھکائو اور جسمانی و ذہنی صحت کے معاملات تک بھی پھیلا ہوا ہے۔اس بات کو سمجھنے کے لیے آپ مراعات اور جبر کو ایک دوسرے کا متضاد تصور کرتے ہوئے جائزہ لیجیے۔ ایک شخص کو مراعات کی نسبت جتنا جبر سہنا پڑتا ہے اسے گننا کافی آسان ہے، کیونکہ اکثر و بیشتر ہمارا ذہن منصفانہ رویے سے زیادہ خراب رویوں کی یاد محفوظ کرنے کا عادی ہوتا ہے۔ یوں جبر کی شدت کو سمجھنا کافی آسان ہوجاتا ہے، اب ان سوالوں کو ہی لیجیے کہ کیا آپ غریب ہیں؟ آپ کا رنگ کون سا ہے؟ کیا آپ خاتون ہیں؟ کیا آپ کا جنسی جھکا ئو معاشرے میں تسلیم کیا جاتا ہے؟ کیا آپ جسمانی یا ذہنی طور پر معذور ہیں؟مذکورہ تمام حالات نہ صرف لوگوں کو اپنے اپنے سماجی حلقوں سے الگ کردیتے ہیں بلکہ اس طرح ان کی شخصیت کے امتیازی پہلو ئوں میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے جنہیں معاشرہ تسلیم نہیں کرتا۔ مگر وہ لوگ جنہیں معاشرہ تسلیم کرتا ہے بلکہ ہمارے خرچے پر بااختیار بناتا ہے، تو انہیں کس کھاتے میں لائیں گے؟ تو جناب یہ جبر کے متضاد مراعات کے کھاتے میں آتے ہیں۔تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم میں سے چند کے پاس مختلف وجوہات کے باعث دیگر کے مقابلے میں نمایاں برتریاں حاصل ہیں، لیکن ان وجوہات میں ہمارا عمل دخل نہیں ہوتا، مثلا، ہم کون ہیں، ہماری جلد کا رنگ کیا ہے، ہم کہاں سے تعلق رکھتے ہیں، جب ہم بڑے ہو رہے تھے تب ہمارے پاس کس قسم کی مالی اور اخلاقی حیثیت حاصل تھی، ہم کس مذہب کی پیروی کرتے ہیں، یا چند مخصوص وہ معاملات جن کی وجہ سے ہماری زندگیاں بہتری کی جانب مائل ہوئیں، ان چھوٹے چھوٹے امتیازی فرق پر لوگوں کی نظر ہی نہیں جاتی۔گزرتے وقت کے ساتھ دیگر کے مقابلے میں حاصل امتیازی فرق زندگی میں مددگار ثابت ہوتا رہتا ہے اور پھر ایک نکتہ آتا ہے کہ جب یہی لوگ، جو عام طور پر مراعات یافتہ حلقے میں آتے ہیں، محسوس کرنا شروع کردیتے ہیں کہ وہ تو ہمیشہ سے ہی کامیابی کے مستحق تھے اور انہوں نے سب کچھ اپنے بل بوتے پر حاصل کیا ہے، دوسری طرف ہم سب ان کی بات تسلیم کرنا شروع کردیتے ہیں اور معاشرے میں اپنی جگہ پر آرام سے جا بیٹھتے ہیں۔ہم میں سے چند لوگ اس خیال سے اختلاف کرسکتے ہیں یا پھر ناراض ہوسکتے ہیں، خاص طور پر جب سخت محنت کو خاطر میں نہ لایا جائے، یہ قابل فہم بات ہے۔لیکن ان مراعات کو حقیقی معنی میں جڑ سے اکھاڑنا ہے تو ہمیں اسے ایک منظم ڈھانچے کے طور پر تسلیم کرنا ضروری ہے جو کسی فرد کو محض اس کی شناخت کی بنیاد پر مفت میں برتری بخش دیتا ہے، جیسے دکھائی نہ دینے والے خصوصی حقوق کا پیکج حاصل ہو جو جب چاہے آپ اپنی مرضی سے استعمال کریں اور انکار سے اس ڈھانچے کو تقویت بخشتا ہے۔ ویسے بھی کون یہ تسلیم کرنا چاہے گا کہ انہیں پہنے ہوئے جوتے دراصل ان کے باپ کی کمائی سے خریدے گئے ہیں جو کامیابی کا سفر جلدی طے کرنے میں ان کے لیے مددگار ثابت ہوئے؟۔آپ اپنی کامیابی کے پیچھے وجوہات کی قدر و قیمت کا اندازہ لگانے پر مجبور ہوجائیں گے۔ خود کو حاصل مراعات کو تسلیم کرلینے سے آپ اپنے اندر موجود متکبر خیال کو ختم کرنے لگتے ہیں کہ آپ کے عروج کے پیچھے صرف آپ ہی کا ہاتھ ہے۔ چند لوگوں کے لیے اس خیال کو ہضم کرنا بہت ہی دشوار ثابت ہوسکتا ہے۔

(بشکریہ ڈان)

متعلقہ خبریں