Daily Mashriq

خود بخود ٹوٹ کر گرتی نہیں زنجیر کبھی

خود بخود ٹوٹ کر گرتی نہیں زنجیر کبھی

آج پانچ فروری 2019ء ہے اور ہر سال کی طرح امسال بھی پانچ فروری کو پاکستان سمیت ساری دنیا میں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن منایا جارہا ہے ، یوم یکجہتی کشمیر کا آغاز آج سے 29 برس پہلے 1990 میں ہوا تھا اور تب سے اب تک ہم ہر سال پانچ فروری کو یہ دن ملکی اور ملی جوش اور جذبے سے منا کر کاخ انصاف کے ایوان نشینوں کو مظلوم کشمیریوں پر روا رکھے جانے والے ظلم وستم کے بارے میں بتا کر ان کے احساس کو بیدار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ، تاکہ کشمیریوں کو ان کی آزادی کا حق دلا یا جاسکے ۔آج کے دن پورے ملک میں عام تعطیل ہوتی ہے۔ آج وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی قیادت میں انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنا نے کا اعلان ہوا ہے، ڈی چوک اسلام آباد میں وزیر اعظم عوام کے اجتماع سے آزادی جموں و کشمیر کے حوالہ سے خصوصی خطاب کریں گے ۔ صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی آج کے دن آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے مخاطب ہوں گے اورملک کی تاریخ میں پہلی بار وزیر اعظم کی قیادت میں یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پارلیمنٹ ہائوس اور ایوان صدر کے سامنے انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی جائے گی جس میں وزیر اعظم اور ان کی وفاقی کابینہ کے ارکان کے علاوہ کشمیریوں کے نمائند وں کا وفد بھی شریک ہوگا ۔دوسری طرف یوم یکجہتی کشمیر کے حوالہ سے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے علاوہ آصف علی زرداری نے بھی آج کے دن کے حوالہ سے اپنے الگ الگ بیان جاری کرتے ہوئے کشمیریوں سے گہری ہمدردی کے اظہار کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیریوں سے ا ظہار یکجہتی کرنے میں پوری قوم متحد ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارلیمنٹ ہائوس میں میڈیا سے یکجہتی کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کیا۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا عالمی برادری نوٹس لے، کشمیر کے معاملے پر پوری قوم یکجا اور متحد ہے اس میں کوئی تفریق نہیں ۔کشمیر کے سلگتے چناروں اور وہاں بہتی خون ناحق کی ندیوں کو دیکھ کر یہ بات تڑپ تڑپ کر کہنے کو دل کرتا ہے کہ وہ دن گئے جب دانشور کشمیر جنت نظیر کو ، 

فردوس بر روئے زمیں است

ہمیں است وہمیں است وہمیں است

کہہ کر پکارتے تھے ، آج کشمیر جنت نظیر کے لہلہاتے کھیتوںاور کھلیانوں میں اگتی ظلم و بربریت کی داستانیں اور کشمیر جنت نظیر کے سلگتے چنار انسانی حقوق کے علمبرداروں کو جھنجھوڑ جھنجھوڑکر پوچھ رہے ہیں کہ کس جرم کی پاداش میں چھینا گیا ان سے ان کی آزادی کا حق ، کشمیر کل بھی کشمیریوں کا تھا اور کشمیر آج بھی کشمیریوں ہی کا ہے ، کشمیر 1819سے 1846تک سکھوں کے قبضہ میں رہا ، یہ 16مارچ 1846کی بات ہے جب امرتسر میں انگریزوں اور مہاراجہ گلاب سنگھ کے درمیان ایک سودا طے ہوا جس کے زیر اثر صرف پچھتر لاکھ روپوں کے عوض دریائے سندھ کے مشرق اور دریائے راوی کے مغرب کے تمام علاقے، وہاں بسنے والے انسانوں اور بے زبان جانوروں سمیت مہاراجہ گلاب سنگھ پر فروخت کر ٖ دئیے گئے، انگریزوں اور ڈوگرا راج کے درمیان ہونے والی اس ڈیل نے شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کو تڑپا کر رکھ دیا اور وہ وادی کشمیر کے حسن کے بیوپاریوں کی اس نازیبا اور ناگفتہ بہ حرکت پر لہو کے آنسو بہا بہا کر کہنے لگے ،

دہقان و کشت و جوئے و خیاباں فروختند

قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند

وادی کشمیر کا بچہ بچہ صرف چند روپوں کے عوض ڈوگرہ حکمرانوں پر فروخت ہوگیا ، مظلوم کشمیریوں کی ڈوگرہ سماج پر فروختگی پر بات کرتے ہوئے پاکستان کے قومی ترانہ کے خالق حفیظ جالندھری نے پر احتجاج لہجے میں کہا ہے کہ

یہ مویشی ہیں کہ آدم زاد سب ہیں زر خرید

ان کے بچے بچیاں اولاد سب ہیں زر خرید

مہاراجہ گلاب سنگھ نے زر خرید کشمیریوں پر ظلم اور جبر کے جو پہاڑ توڑے تھے وہ اپنی جگہ ظلم و بربریت کی الگ داستان رقم کرتے ہیں لیکن اس کے بعد ان کو غلام بنائے رکھنے کا تسلسل اور ان پر ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑنے کا ستم بھی کسی اذیت ناک داستان سے کم نہیں ،

ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے

خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا

مہاراجہ گلاب سنگھ کاظلم و ستم اور جبر و جفا باقی نہ رہا ، لیکن مظلوم کشمیریوں کا خون ناحق تاریخ کے صفحات پر ثبت ہوکرپکارتا رہ گیا۔اس وقت مقبوضہ کشمیر بھارت کے قبضہ میں ہے، بانی پاکستان نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ کہا تھا ، بھارت والے اسے اپنا اٹوٹ انگ کہتے ہیں ، کشمیری چکی کے ان دوپاٹوں میں پس رہے ہیں ، وہ ہاتھیوں کی لڑائی میں کچلے جارہے ہیں ، کوئی تو ہو جوان کو جرم ناکردہ کی پاداش سے بچا سکے ۔ آج پانج فروری کو پوری پاکستانی قوم دنیا کی انصاف پسند قوموں کے ساتھ مل کر کشمیریوں پر اٹھائے جانے والے جبرواستبدادکے خلاف ایک آواز ہوکر صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں ، ریلیاں نکالی جارہی ہیں ، جلسے اور سیمینار منعقد ہورہے ہیں ، جس کا مقصد کشمیر جنت نظیر کے لہو رنگ نظاروں کو یہ بات باور کرانی ہے کہ

خود بخود ٹوٹ کر گرتی نہیں زنجیر کبھی

بدلی جاتی ہے بدلتی نہیں تقدیر کبھی

رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو

یہ لہو سرخی ہے آزادی کے افسانے کی

متعلقہ خبریں