Daily Mashriq

’کشمیروں کی آواز پوری دنیا تک پہنچ چکی ہے‘

’کشمیروں کی آواز پوری دنیا تک پہنچ چکی ہے‘

وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی آواز اب پوری دنیا تک پہنچ چکی ہے اور اب اس جدوجہد کو دبایا نہیں جاسکتا۔

برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر نفیس زکریا اور ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ برطانیہ میں عالمی کشمیر کانفرنس منعقد ہونا ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں عالمی کشمیر کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر پاکستانی سفارتخانے کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارت نے عالمی کشمیر کانفرنس کو رکوانے کی بھرپور کوشش کی اور عالمی کانفرنس سے قبل احتجاج بھی کیا تاہم نئی دہلی اپنے اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکا۔

مزید پڑھیں: بھارتی وزیراعظم کی مقبوضہ کشمیر آمد پر حریت قیادت نظر بند، وادی میں ہڑتال

وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ کشمیر میں جاری مظالم پر ہاؤس آف کامنز کے نمائندگان نے بھی خطاب کیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ہاؤس آف لارڈز کی نمائندگی کرتے ہوئے لارڈ قربان نے ایک قرار داد پیش کی جن کی ان سمیت ہاؤس آف کامنز اور پاکستان کے پارلیمانی اراکین نے تائید کی جس کے بعد ایک متفقہ قرار داد ایک مشترکہ بیانیے کی شکل میں سامنے آگئی ہے۔

شاہ محمود نے کہا کہ اس قرارداد کا پاس ہونا بہت بڑی پیش رفت ہے جس پر پاکستانی ہائی کمیشن مبارک باد کا مستحق ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں ناروے کے سابق وزیرِ اعظم، آسٹریلیا کے سابق سینیٹر اور ملائیشیا کے نمائندگان کا شکر گزار ہوں جو اس کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے آئے۔

ملکی سیاسی صورت حال کو واضح کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں مسئلہ کشمیر پر متحد ہیں ان میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔

وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ سابق وزرائے اعظم آزاد کشمیر اور کشمیری پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر بھی اس کانفرنس میں شریک ہوئے جبکہ تمام پاکستانی سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنما بھی یہاں موجود رہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کو دہشت گردی کا نام دیتا ہے، لیکن اب پوری دنیا بھارت کے نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم کو جان چکی ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ اب کشمیر میں مظالم سے متعلق آوازیں بھارت میں بھی بلند ہورہی ہیں جبکہ وہاں موجود دانش وروں کا بھی یہی کہنا ہے کہ کمشیر سے متعلق نئی دہلی اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے۔انہوں نے بھارتی وزیرِ اعظم کے دورہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر وادی میں حریت رہنماؤں نے ہڑتال کی کال دے دی تھی، جبکہ نریندر مودی کو ہزاروں اہلکاروں کی سیکیورٹی میں لایا گیا۔قبلِ ازیں میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ بھارتی وزیراعظم ہڑتال سے استقبال کو اپنے لیے پیغام سمجھیں۔

متعلقہ خبریں