Daily Mashriq


صحت اور تعلیم میں اصلاحات

صحت اور تعلیم میں اصلاحات

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی جانب سے صوبہ بھر کے کالجو ں کے اساتذ ہ اور ڈاکٹر وں کے تبادلوں پر پابندی عائد کرنے کا اقدام مفاد عامہ کے تحت ہوگا لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ تبادلوں پر مکمل طور پر پابندی عائد نہیں ہوتی بلکہ سفارشی عناصر کے لئے گنجائش نکال لی جاتی ہے یا پھر مطلوبہ جگہوں پر من پسند وں کی تقرریاں کرنے کے بعد ضرورتمند اور حقیقی تبادلہ کے مستحقین کے لئے بھی راستہ بند کر دیا جاتا ہے۔ ان دونوں قسم کے طرز عمل کی حمایت نہیں کی جاسکتی ۔ وزیر اعلیٰ نے کالج اساتذہ اور ڈاکٹروں کے تبادلوں پر پابندی کن مقاصد کے حصول کے تحت لگائی ہے جب تک وہ مقاصد سامنے نہیں آتے اس کے حسن و قبح بارے وثوق سے کچھ کہنا آسان نہیں البتہ تبادلوں پر پابندی کے باعث کم از کم اتنا ضرور ہوگا کہ کالجوں میں اساتذہ اور ہسپتالوں میں ڈاکٹر حضرات تبادلے کے لئے دفاتر کا چکر لگانے کی بجائے اپنے فرائض منصبی پر توجہ دے سکیں گے۔تبادلوں کے لئے ایک خاص وقت اس مرتبہ مقرر نہیں کیا گیا بلکہ یہ طریقہ کار پہلے سے طے کیا گیا تھا مگر اس پر عملدر آمد کی بجائے سارا سال تبادلے جاری رکھے جاتے رہے کسی کالج میں کسی مدرس کی تعیناتی کم از کم ایک سیشن تک لازمی کئے رکھنا اور اس سیشن میں ان کی حاضری اور کلاسیں لینے کو یقینی بنانا طلبا ء کے مسائل میں کمی لانے اور تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد گار امر ہوگا ۔ جہاں تک کالجوں۔ میں بی ایس کی مرحلہ وار کلاسیں بی ایس سی کلاسیں شروع کرنے کا تعلق ہے یہ نافع تبھی ہوگا جب متعلقہ کالجوں میں بی ایس کے مضامین پڑھانے کے لئے اس معیار کے اساتذہ تعینات ہوں گے ۔کہنے کو تو سرکاری کالجوں کے اساتذہ پبلک سروس کمیشن کا امتحان پا س کرنے کے بعد ہی متعین ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے تدریس کے معیار پر تحفظات کا اظہار کرنے کی کافی گنجائش ہے۔ اس امر کے ادراک کے طور پر خود وزیر اعلیٰ نے اساتذہ کے پیشہ وارانہ تربیت کی ہدایت ضرورکی ہے لیکن اس کے باوجود اس ضمن میں خامیوں اور مشکلات کا تدارک ممکن نظر نہیں آتا چونکہ ان اساتذہ نے ایک مخصوص طرز سے پڑھا اور پڑ ھایا ہوا ہوتا ہے اور بی ایس میں تعلیم و تعلم کا نظام اور طریقہ کار اور ہے اس لئے ابتداء میں مشکلات ضرور ہوںگی۔ اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں بی ایس کی کلاسوں کے معیار اور انداز تدریس پر قبل ازیں کافی تنقید اور لے دے زیادہ پر انی بات نہیں اگر اسلامیہ کالج یونیورسٹی جیسے معروف اور باوقار ادارے میں بی ایس کلاسوں کے اجراء میں مشکلات ہوئیں تو صوبے کے کالجوں میں بی ایس کلاسوں کا اجرا یقینا مشکلات کا باعث امر ہوگا۔ البتہ اس مقصد کے لئے اگر بی ایس نظام کے تحت فارغ التحصیل نوجوانوں کی خالصتاً میرٹ پر خدمات حاصل کی جائیں تو ایک طرف ان نوجوانوں کو روز گا رملے گا تو دوسری طرف بی ایس کے نظام کو کامیاب بنانے کے مواقع بڑھیں گے۔ روایتی نظام کے تحت پڑھانے والے اساتذہ کی خدمات ان کالجوں کے حوالے کی جائیں جہاں روایتی طریقے سے تعلیم دی جاتی ہے اگر اساتذہ اس امر پر آمادگی کا اظہار کریں کہ وہ بی ایس مضا مین پڑھانے کے لئے ٹیسٹ دے کر اہلیت ثابت کریں تو یہ احسن ہوگا مگر ایسا ہونا اس طرح سے مشکل ہوگا جس طرح سکول اساتذہ این ٹی ایس میں بیٹھنے سے گریزاں ہیں ۔ ضروری نہیں کہ کالجوں کے تمام واجب الاحترام اساتذہ کی کار کردگی پر شک کیا جائے مگر اس معروضی صورتحال سے بھی صرف نظر ممکن نہیں کہ بی ایس کے نظام کی کامیابی ٹھوس اقدامات کے بغیر ممکن نہ ہوگی۔ صوبے کے کالجوں کو خود مختاری دینے کے تجربے کی کامیابی کا دارو مداراس کے سر براہ کی تقرری اور اس کے ادارے کو چلا نے کے معیار سے مشروط کامیابی کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا ۔ اس وقت بھی بعض شرکاء کالجوں میں تدریس کا معیار اور طلباء کے نتائج میں نما یا ں بہتری کسی سے پوشیدہ نہیں جس کا کریڈٹ ان کالجوں کے سربراہوں کو جاتا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ان کالجوں میں بعض ایسے کالج بھی شامل ہیں جن کو عرف عام میں ''بد نام '' قرار دیا جاتا رہا ہے جو سیاست کے گڑ ھ تھے اور ان کالجوں کا کوئی معیا ر نہ تھا ۔ کالجوں کی سطح پر اساتذہ کی تقرری کا فیصلہ احسن اور اس کے کامیاب ثابت ہونے کی امید ہے۔ اس کا کامیاب تجربہ سکولوں کے اساتذہ کی تقرریوں میں سامنے آیا ہے البتہ اس میں اس امر کا خاص طو ر پرخیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ میرٹ کو مقدم رکھا جائے ۔ وزیر اعلیٰ نے صحت کے اداروں کو خود مختاری دینے کے بعد تبادلوں پر پابند ی لگانے کا جوعندیہ دیا ہے اس کا تجربہ تدریسی ہسپتالوں میں کوئی خوشگوار نہیں رہا جن ہسپتا لوں کو خود مختاری دی جا چکی ہے وہاں کی انتظامیہ بعض وجوہ کی بنا پر جن ملازمین کی خد مات محکمہ صحت اور نظامت صحت کو واپس کرتی ہے وہاں ان کو قبول نہیں کیا جاتا اور وہ مجبوراً عدالتوں سے رجو ع کرتے ہیں جو ملازمین کے لئے بہتر صورت نہیں مگر اس سے زیادہ ناخوشگوار صورتحال ہسپتالوں اور متعلقہ محکمے کے لئے ہوتی ہے جوان ملازمین سے کام نہیں لیتے مگر ان کو تنخواہوں کی ادائیگی کرنی پڑتی ہے ۔ اس ضمن میں کسی فیصلے سے قبل ان خامیوں اور پیچید گیوں پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے اور اس کا جائزہ لیکر ان کا پہلے حل تجویز ہونا چاہیئے اس کے بعد اقدامات کئے جائیں تو نافع ہوں گے۔ ہسپتالوں کی مانیٹرنگ کا نظام بہتری کی ضمانت نہیں بن سکتا جس طرح محکمہ تعلیم میں مانیٹرنگ کے نظام کا توڑ کیا گیا ہے اسی طرح کا توڑ اس کا بھی نکلنا بعید نہیں ۔ ہسپتالوں میںدن رات تسلسل کے ساتھ علاج کا عمل جاری رکھنا ضروری ہے اگر دیکھا جائے تو اس عمل کو پوری دیانتداری اور تند ہی کے ساتھ انجام دینا ڈاکٹر حضرات اور متعلقہ طبی عملے کی جانفشانی ہی سے ممکن ہے۔ انتظامیہ زیادہ سے زیادہ حاضری یقینی بنانے اور انتظامات پر ہی توجہ دے سکتی ہے۔ مانیٹرنگ کے نظام کی تدریسی ہسپتالوں میں جس طرح دھجیاں بکھیری گئیں اور اس کا رد عمل ظاہر کیا گیا اگرچہ ذیلی ہسپتالوں میں اب ایسا ہونے کا امکان نہیں لیکن اس کے مئو ثر ہونے کا بہر حال امکا ن کم ہے ۔ کالج کے اساتذہ اور ڈاکٹر حضروات ذمہ داری اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ ہوتے ہیں ان کی نگرانی کی بجائے اگر ان کو تعاون اور فرائض منصبی پر توجہ کی تر غیب دی جائے تو زیادہ بہتر ہوگا اور لا توں کے بھوت باتوں سے نہیں ماننے والی صورتحال ہو تو اس کے لئے انتظامیہ اور محکمے کے پاس پہلے سے شافی قوانین اور ضابطے موجود ہیں ۔

متعلقہ خبریں