ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا

ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا

نئے سال کے آغاز پر شیخ رشید نے پھر پیش گوئیوں کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے جنوری کو اہم قرار دیدیا ہے ۔ ویسے تو شیخ صاحب 2013ء کے انتخابات کے بعد ہی سے سیاسی پیشگوئیاں کرتے چلے آرہے ہیں ، اور کبھی قربانی سے پہلے قربانی کی بات کرتے رہے اور کبھی کچھ اور ، یہ الگ بات ہے کہ ان کی اس قسم کی باتیں لا حاصل رہیں ، نہ قربانی سے پہلے قربانی کی بات پوری ہوئی نہ ہی حکومت کا اقتدار لپٹے جانے کا عمل سامنے آیا ، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موصوف کا علم ابھی کچا ہے ، اور انہیں کسی '' پہنچے ہوئے کا مل عالم '' کی شاگردی میں مزید کچھ مدت گزارنی چاہیئے ، اب کی بار انہوں نے یہ پیشگوئی کردی ہے کہ پانامہ کیس میں مریم نواز کے مے فیئر فلیٹس کی بینیفشری ہونے کے ثبوت جمع کروا دیئے ہیں اگر عدالت نے پوچھ لیا کہ مریم نواز بینیفشری ہیں یا ٹرسٹی تو مجھے یقین ہے کہ اس کیس کا فیصلہ جنوری میںہی انصاف پر مبنی ہوجائے گا ۔ عوامی مسلم لیگ اس بنچ پر مکمل اعتماد کرتی ہے ، اس کیس میںجو بھی فیصلہ ہوگا قبول کریں گے ۔ یہ تو خیر اب بنچ پر منحصر ہے کہ وہ کس قسم کے استفسا رات سے مقد مے کے حل کی جانب پیش رفت کرتی ہے ۔ اس دوران میں عمران خان نے بھی مزید کچھ دستاویزات کی دستیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے سماعت سے ایک روز قبل ہی میڈیا پر آکر حسب معمول شور مچا نا شروع کردیا ہے جبکہ حکومتی نمائندوں نے اسے عدالت پر دبائو ڈالنے سے تعبیر کیا ہے ، اس لئے جب یہ کالم چھپے گا تونئے بنچ نے سماعت شروع کر دی ہوگی اور عمران خان کے نئے دعوئو ں کا کیا ہوتا ہے یہ سامنے آچکا ہوگا ۔ تاہم اصل بات تو شیخ رشید کی پیشگوئیوں کی ہو رہی تھی اور اس حوالے سے گزشتہ چند روز سے مختلف میڈیاچینلزبھی کسی سے پیچھے نہیں رہے اور اکثر نے مستقبل کے بارے میں علم جو تش ، علم الاعداد اور ٹیروکارڈ کے ذریعے نہ صرف ملک کے تینوں اہم رہنمائوں یعنی وزیر اعظم نوازشریف ، سابق صدر آصف زرداری اور عمران خان (بمع اہل خاندان ) کے 2017ء کے حوالے سے پیشگوئیاں کی ہیں بلکہ بعض دیگر سیاستدانوں ، پانامہ لیکس اور ملکی سیاسی ، اقتصادی صورتحال کو بھی اپنے اپنے علم کی روشنی میں بیان کیا ہے ۔ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ بعض معاملات پر ان کے تجزیئے کچھ کچھ ملتے جلتے ہیں جبکہ بعض معاملات میں ان پیشگوئیوں میں ان کے مابین واضح تضاد نظر آتا ہے ، ا س لئے وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ مختلف سیاسی قائدین کے بارے میں کی جانے والی کس کی پیشگوئی درست ثابت ہوگی اور کس کی پیشگوئی پر شیخ رشید کے سابقہ پیشگوئیوں کا سایہ پڑے گا ۔ علامہ اقبال نے ایسی ہی صورتحال کے بارے میں کہا تھا 

ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا
وہ خود فراخئی افلاک میں ہے خواروزبوں
جب سے امریکی ماہر ستارہ شناس جین ڈکسن کا انتقال ہوا ہے تب سے عالمی سطح پر کوئی دوسرا ماہر علم نجوم ابھر کر سامنے نہیں آیا ، جس کی پیشگوئیوں کو عالمی سطح پر وہ پذیر ائی نصیب ہو جیسی کہ جین ڈکسن کی پیشگوئیوں کو حاصل رہی ہے۔ ہر نئے سال کے آغاز سے پہلے ان کی پیشگوئیاں دنیا بھر میں ذرائع ابلاغ کے ذریعے سامنے آتیں۔ وہ زیادہ تر مختلف ملکوں کے آپس کے تعلقات' ان کے اندرونی حالات' بین الاقوامی شخصیات' ممکنہ جنگوں' اقتصادی نظام وغیرہ وغیرہ کے بارے میں مستقبل کے حالات و واقعات کی پیشگوئیاں کرتی تھیں جن میں سے لگ بھگ 90فیصد درست ثابت ہوتیں۔ اگرچہ ان کے بارے میں یہ بات بھی مشہور ہے کہ موصوفہ دراصل امریکی سی آئی اے کی ایجنٹ تھیں ۔ اب خدا جانے اس دعوے یا مفروضے کی حقیقت کیا ہے اور جین ڈکسن واقعی امریکی ادارے کی ایماء ہی پر ایسا کرتی تھی یا پھر یہ امریکہ مخالف قوتوں کا پروپیگنڈہ ہے۔لیکن اب کچھ عرصے سے اہل مغرب نے صدیوں پہلے گزرے ہوئے ایک شخص ناسٹرے ڈیمس کی پیشگوئیوں کا سہارا لے کر دنیا میں رونما ہونے والے حالات کے بارے میں ذرائع ابلاغ پر گویا یلغار شروع کر رکھی ہے ۔ تاہم ان پیشگوئیوں میں قیامت کے حوالے سے مختلف لوگوں کی پیشگوئیاں آج تک درست ثابت نہیں ہوئیں۔ اب فیس بک پر یہ دعوے بھی سامنے آئے ہیں کہ دجال پیدا ہو چکا ہے اور ایک ایسے شخص کی تصویر بھی اس دعوے کے ثبوت میں دی گئی ہے جس کی دو آنکھوں کی جگہ ماتھے کے نیچے صرف ایک آنکھ ہے۔ حالانکہ یہ فوٹو شاپ کی کارستانی بھی ہوسکتی ہے اور اگر بفرض محال ایسا ہے بھی تو دجال نے اپنے ظہور کا اعلان کیوں نہیں کیا حالانکہ اس نے اپنی تصویر اتروانے اور فیس بک پر پوسٹ کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ جو دراصل ضعیف الاعتقاد لوگوں کو مغالطے میں ڈالنے اور خوف و ہراس کی کیفیت پیدا کرنے کی سازش کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔
وہ بات کر جسے دنیا بھی معتبر جانے
تجھے خبر ہے زمانہ بدلتا جاتا ہے
علم نجوم' علم رمل یا علم جفر اور اب ٹیروکارڈ (جو خالصتاً مغربی دنیا کی ایجادہے) کے ساتھ ساتھ وہ جو کچھ لوگ پانسہ پھینک کر قسمتوں کا حال یا مستقبل کے حالات کے بارے میں دعوے کرتے ہیں ان کی حقیقت ایک تو ا وپر د ئیے ہوئے علامہ اقبال کے شعر سے واضح ہو جاتی ہے اور دوسرا ایک اسلامی تاریخی واقعے سے بھی اس کی تردیدی کیفیت واضح ہوتی ہے اور یہ واقعہ کچھ یوں ہے کہ اسلام کے ابتدائی دور میں ایک اہم شخصیت کا ہاتھ دیکھ کر اس دور کے دست شناس نے حیرت سے متعلقہ شخصیت کے چہرے پر نظریں گاڑیں اور کہا مجھے حیرت ہے کہ آپ کے ہاتھ کی لکیریں تو یہ کہہ رہی ہیں کہ آپ کو اس وقت زندہ نہیں ہونا چاہئے۔ اپنے ہاتھ کی مٹھی بند کرتے ہوئے اس محترم شخصیت نے جب چند لمحے بعد مٹھی کھولی تو ان کے ہاتھ کی لکیریں بدل چکی تھیں۔ اسی واقعے کو علامہ اقبال نے اپنے شعر میں یوں بیان کیا ہے۔
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
جو ہو ذوق یقین پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

اداریہ