Daily Mashriq


پاکستان کے سادہ لوح عوام

پاکستان کے سادہ لوح عوام

آج کل پورا ملک اور بالخصوص خیبر پختونخوا تمام سیاسی پا رٹیوں کے لئے میدان کارزار بنا ہواہے۔ملک کے مختلف شہروں میں جاری جلسے جلوسوں سے ایسا لگتا ہے کہ ملک میں 2018 سے پہلے عام انتخابات کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ دسمبر کے مہینے میں سب سے پہلا جلسہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کا مردان میں ہوا، جس میں مہمان خصوصی امیر مقام تھے۔ اسکے بعد دوسرا بڑا جلسہ پاکستان پیپلز پا رٹی کا سندھ میں ہوا۔ جو سابق صدر اور پاکستان پیپلز پا رٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زر داری کی دوبئی سے پاکستان آمد پر منعقد ہوا۔ یاد رہے کہ سا بق صدر آصف علی زر داری گزشتہ 18 مہینوں سے دوبئی میں مقیم تھے اورحال ہی میں پاکستان تشریف لے آئے ہیں۔ تیسرا جلسہ پاکستان تحریک انصاف کا صوابی میں ہوا۔ جس میں دیگر مر کزی قائدین کے علاوہ اس جلسے کے بڑے مقرر پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان تھے۔ اسکے بعد صوابی سکول گرائونڈ میںتحفظ مدارس پر بات کرنے کے سلسلے میں ایک جلسہ ہوا جس کے مہمان خصو صی مولانا فضل الر حمان تھے۔ اس جلسے میں تحفظ مدارس کے بجائے عمران خان اور خیبر پختونخوا کی حکومت پر زیادہ تنقید ہوئی۔اس کے علاوہ بھی جلسے اور ریلیاں منعقد ہوئیں۔ اگر ہم ان تمام جلسوں اور پبلک ریلیوں کا تجزیہ پیش کریں تو ایسا لگتا تھا کہ ان ساری پا رٹیوں کے قائدین پاکستان کے عوامی مسائل کے حل کے لئے تڑپ رہے ہیں اور ان بے چا روں کو پاکستان کے بھوکے اور افلاس زدہ قوم کی وجہ سے نیند نہیں آرہی ہے۔جہاں تک پاکستان مسلم لیگ کے رہنما انجینئر امیر مقام کا تعلق ہے تو انہوں نے اپنے جلسوں میں پاکستان تحریک انصاف کو ہدف تنقید بنایا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان تحریک انصاف نے اگر اچھے کام کئے ہیں تو اس سے کچھ کوتاہیاں بھی ہوئی ہیں۔ مگر میں ایک سوال پاکستان مسلم لیگ کے مر کزی قائدین سے پو چھتاہوں کہ انہوں نے اور ان کی پا رٹی نے خیبر پختون خوا میں بے تحا شا بجلی اور گیس لو ڈ شیڈنگ اور عام غریب صا رفین کو بلاجوازہزاروں روپے کے بل بھیجنے کے خلاف کیا ایکشن لیا۔مُجھے سمجھ نہیں آتی کہ ان کے جلسے میں جو لوگ آتے ہیں کیا اُنکو یہ مسائل درپیش نہیں۔ میں تو ہر وقت خیبر پختون خوا کی گلیوں میں تا ریکی اور گھر کے چولہے بغیر گیس کے دیکھ رہا ہوں۔صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ پڑھے لکھے بچوں اور بچیوں کی بے روزگاری ہے ۔کیا میں وزیر اعظم کے مشیرسے پوچھ سکتا ہوں کہ ان کی پارٹی نے گیس اور بجلی لوڈ شیڈنگ ، گیس کی عدم دستیابی اور بے روز گا ری کے حوالے سے کیا اقدام کیا۔ اسکے بعد دوسرا بڑا جلسہ پاکستان پیپلزپا رٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زر داری کی کراچی آمد پر ہوا۔ 

وہ بھی وفاقی حکومت اور نظام کو للکارتے رہے۔ پچھلی وفاقی حکومت پاکستان پیپلز پا رٹی کی تھی جس میں آصف علی زرداری صدر تھے اور ابھی بھی سندھ میں پاکستان پیپلز پا رٹی کی حکومت ہے۔ لہٰذاء آصف علی زرداری اور انکی پا رٹی تو سال 1971ء سے اس نظام کا حصہ ہیں۔کیا میںسابق صدر آصف علی زر داری اور اُنکی پا رٹی سے دست بستہ گزارش کر سکتا ہوں کہ سندھ میں بھوک افلاس ،اُنکے اپنے شہر لاڑکانہ میں صفائی سُتھرائی کی نا گُفتہ بہ حالت اور سندھ کے دور دراز شہروں بچوں اور بالخصوص شیر خوار بچوں کی بھوک اور افلاس کا ذمہ دار کون ہے۔

مختلف عالمی سروے کے مطابق سندھ بلو چستان کے بعد ہر لحا ظ سے پسماندہ صوبہ ہے۔پی پی پی نے اپنے طویل ترین دور حکومت میں سندھ اور کراچی کے لئے کیا کیا۔ کراچی آج کل دنیا کے دس گندہ ترین شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔تیسرا بڑا جلسہ صوابی میں تحریک انصاف کاہوا جس پر میں پاکستان تحریک انصا ف کے قائد عمران خان سے پو چھتا ہوں کہ انہوں نے اس صوبے کے لئے جہاں پر اُن کی حکومت ہے کیا کیا۔انہوں نے وفاقی حکومت سے بجلی اور گیس لوڈ شیڈنگ ، گیس کی عدم دستیابی اور ملک میں مہنگائی اور بے روز گاری کے بارے میں کیا پو چھا۔

اور بذات خود ایک بین الاقوامی لیول کے کر کٹ کے کھلاڑی رہے ہیں اور عالمی طو ر پر اُنکی مقبولیت اور شہرت ہے اُس کا فائدہ اٹھائے ہوئے انہوں نے بے روز گار نوجوانوں کے لئے کیا کیا جو سب سے زیادہ ان کی پا رٹی میں ہیں۔انہوں نے خیبر پختونخوا کے لوگوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے کیا اقدامات کئے۔اور سب سے آخری جلسہ صوابی گرائونڈ میں مولانا فضل الرحمان کا ہوا۔ اس جلسے میں مولانا صاحب نے تحفظ مدارس سے زیادہ عمران خان ، انکی پا رٹی اور صوبائی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اگر مولانا صا حب کو یہ پتہ ہے کہ مدارس کے خلاف کوئی سازش ہو رہی ہے تو مولانا صاحب بھی گزشتہ تیس سال سے کبھی وفاقی اور کبھی صوبائی حکومت کا حصہ رہے ہیں ۔ اور اب بھی نواز شریف کو بُحران سے نکالنے کے لئے پو ری طر ح کو شاں ہیں ۔ وزیر اعظم کی خدمت میں مدارس کے خلاف سازشوں کو بے نقاب کیوں نہیں کرتے۔ جہاں تک مدارس کا تعلق ہے تو مدارس کو سب سے زیادہ ہدف تنقید تو ن لیگ کی حکومت بناتی ہے۔ جہاں تک عمران خان اور پر ویز خٹک کی حکومت کا تعلق ہے انہوں نے تو جامعہ حقانیہ کو امداد دی ۔بہر حال مُجھے پاکستان کے بھوکے اور افلاس زدہ عوام پر ترس آتا ہے کہ انتہائی غُربت ، افلاس، بے روزگاری ، گیس اور بجلی لو ڈ شیڈنگ کے ستائے ہوئے لوگ برابر جلسے اور جلوسوں میں شرکت کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں