برطانیہ کے تارکین وطن ایک لمحہ فکریہ

برطانیہ کے تارکین وطن ایک لمحہ فکریہ

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے ایک سروے کے حوالے سے کہا ہے کہ برطانیہ میںپاکستانی کمیونٹی کا شمار ملک کی پسماندہ ترین قومیتوں میں ہوتا ہے ۔پاکستانی نژاد خواتین کی ستاون فیصد آبادی معاشی طور پر غیر فعال ہے۔دوسری کمیونٹیز کے مقابلے میں یہ شرح تشویشناک حد تک زیادہ ہے۔یہ سروے گزشتہ برس برطانوی وزیر اعظم کی ہدایت پر سینئر سول سرونٹ ڈیم لوئیز کیسی کی نگرانی میں شروع کیا گیا تھا جو ایک سال جاری رہا ۔سروے میں کہا گیا کہ چالیس فیصد سے زیادہ خاندانوں کا شمار کم آمدنی والے گھرانوں میں ہوتا ہے ۔غیر فعال خواتین کی تعداد ستاون فیصد ہے۔ہر چار میں سے ایک پاکستانی شہری ٹیکسی چلاتا ہے۔اس پسماندگی کی بہت سی وجوہات کے علاوہ ایک اہم وجہ انگریزی زبان سے نابلد ہونا بھی ہے۔پاکستانی خواتین کو گھریلو تشدداور جبری شادیوں کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔برطانیہ وہ یورپی ملک ہے جہاں پاکستان اور آزادکشمیر کے لاکھوں لوگ مدتوں سے آباد ہیں۔اب ان کی تیسری نسل برطانیہ میں پل بڑھ کر جوان ہوئی ہے۔برطانیہ سدھارنے کا سلسلہ چھٹی دہائی میں عروج کو پہنچا تھا جب دوسری جنگ عظیم کے باعث تباہ حال ملک کو تعمیر نو کے لئے سستی لیبر کی ضرورت تھی اور اس مقصد کے لئے برطانیہ کی ترجیح دولت مشترکہ کے وہ ممالک تھے جو کسی دور میں تاج برطانیہ کے زیر نگیں رہ چکے تھے ۔برطانیہ کی اس ضرورت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے جہاں پنجاب کے شہروں گجرات ،فیصل آباد ،جہلم سے لوگ قافلہ در قافلہ برطانیہ پہنچنے لگے وہیں آزادکشمیر کے شہرمیرپور سے بھی گائوں اور قصبے سوئے برطانیہ چل دئیے ۔برمنگھم ،بریڈ فورڈ ،مانچسٹر،لیوٹن ،نوٹنگھم راچڈیل جیسے نواحی شہر اور قصبے ان کی منزل قرار پائے ۔مجھے کئی بار برطانیہ کی ا س کمیونٹی کے اندر رہ کر قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا ۔اس کمیونٹی نے برطانیہ کو ایک موقع جان کر اپنی اور اور اپنی نسلوں کو معاشی اور تعلیمی اعتبار سے مضبوط کرنے کی کوشش نہیں کی ۔پہلے پہل تو لوگ ''ڈنگ ٹپائو'' کی روایتی پالیسی کے تحت گزر بسر کرنے لگے لیکن جلد ہی انہوں نے اپنے خاندانوں کو وہاں بلانا شروع کردیا ۔ان کا خیال تھا کہ محنت مزدوری سے معاشی حالات بہتر ہوتے ہی وہ اپنے اہل خانہ سمیت واپس وطن چلے جائیں گے ۔ محض چند برس کے لئے اپنے معاشی حالات سدھارنے کی نیت سے دوردیس سدھارنے والے معاش کی دلدل میں دھنستے چلے گئے یہاں تک کہ ان کی نسلیں پل کر جوان ہوگئیں ۔تب انہیں ہوش آیا کہ وہ کچھ نہ کچھ معاشی ترقی تو کر چکے ہیں مگر ان کا دامن تعلیم سے خالی ہو چکا ہے۔جن نسلوں کو شاد وآباد رکھنے کے لئے وہ وطن چھوڑ کر آئے تھے وہ نسلیں بھی ان کے ہاتھوں سے نکل چکی ہیں ۔اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی ۔تعلیم کو ترجیح اول نہ بنانے کی وجہ سے پاکستانی کمیونٹی کا حال یہ ہوا کہ جو اس رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے کہ ہر چار میں سے ایک آدمی ٹیکسی چلانے پر مجبور ہے ۔ان میں سے کچھ نے اپنی اولادوں کو اپنی اقدار سے دور ہوتا دیکھ کر وطن واپسی کی راہ دکھانے کی کوشش کی مگر اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی ۔برطانیہ کا قانون اور نظام انہیں انفرادی حیثیت میں طاقتور اور خود مختار اور بااختیار بنا چکا تھا اور جوان تو کیا بچے بھی والدین کی ''بدسلوکی''پر پولیس طلب کرنے کی پوزیشن میں آچکے تھے ۔اپنی اقدار اور اپنی مٹی اور اپنے خاندانوں سے جڑے رہنے کی ایک کوشش منگیتر سسٹم کی صورت میں ہوئی ۔کہیں تو یہ سسٹم کامیاب تو اکثر ناکام ہی رہا ۔اس روایت کے مطابق برطانیہ میں آباد گھرانے اپنے بچوں کے لئے پاکستان سے رشتے لے کر جاتے رہے مگر ماحول اور پرورش کی تفریق اور تضاد تعلق کی اس ڈور کو پہلے کمزور اور پھر توڑ کر رکھ دیتا رہا ۔یوں پاکستانی کمیونٹی برطانوی طرز معاشرت اور اپنی زبان ،اپنی ثقافت اور اپنی مٹی سے جڑے رہنے کے تضاد کی چکی میں پستی چلی گئی ۔یہ لوگ سانسیں تو ولایت کی فضائوں میں لیتے رہے مگر ان کا دل وذہن اپنے ملک میں ہی رہا اور اس سے بھی بڑھ کروہ ذہنی طور پر اپنے معاشرے میں جاری کشمکش اور نشیب وفراز کے ساتھ جیتے رہے ۔اس مخمصے اور تضاد کے باعث ان کی کیفیت دو قدم آگے اور چار قدم پیچھے کی رہی ۔گوکہ اس کمیونٹی نے صادق خان ،لارڈ نذیر اور چوہدری سرور،ڈاکٹر حسنات،انور پرویز سمیت سیاست ،تجارت ،طب ،فنون لطیفہ ،صحافت ،تعلیم سمیت دیگر شعبوں میں بہت سے نامور لوگ بھی پیدا کئے مگر مجموعی طور پر آج بھی اس کمیونٹی کا شمار پسماندہ ترین کمیونٹی کے طور پر ہونا ایک لمحہ فکریہ ہے ۔ان تارکین وطن کو اپنے ہم وطن سیاست دانوں ،عاملوں ،پیر صاحبان نے جم کر لوٹا اور کسی نے ان کے شعور کی سطح بلند کرنے میں دلچسپی نہیں لی ۔برطانیہ میں آباد پاکستانی کمیونٹی کا ستر فیصد آزادکشمیر کے باشندوں پر مشتمل ہے۔ آزادکشمیر کے سیاست دانوں نے اس بڑی آبادی کو پائونڈ کمانے کی مشینیں جان کر اپنی مطلب براری کے لئے استعمال کیا ۔ان سیاست دانوں نے برطانیہ جا کران سے بڑے استقبالی جلسے منعقد کروانے ،خیرمقدمی بینر لگوانے اور چھپوانے، زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے لگوانے اور پائونڈ وصول کرنے میں دلچسپی لی مگر ان کی فکری تربیت اور ذہنی ترقی میں رتی برابر دلچسپی نہیں دکھائی ۔جس کی وجہ یہ انسانی پوٹینشل اپنے ملک میں استعمال ہونے کی بجائے ضائع ہو رہا ہے ۔ان تارکین وطن نے ملک کے طول وعرض میں خوبصورت مکان بنا کر اپنے آبائی علاقوں میں معاشی برتری کی دھاک تو بٹھادی مگر اس سے خود ان کا معیار زندگی بلند ہوا نہ ان کے وطن کو ٹھوس معاشی فائدہ ملا سوائے اس کے لوگوں کو رہنے پر مناسب کرائے کے حامل خوبصورت گھر مل گئے ۔برطانیہ میں آباد پاکستانی آج بھی ملک کا بڑا انسانی سرمایہ اور امکان ہیں ۔اس امکان کو مواقع اور ترقی کی کلید میں بدلنا آج بھی ایک چیلنج ہے ۔برطانیہ کی یہ سروے رپورٹ ایک المیہ بھی ہے اور ایک آئینہ بھی جس میں اپنا چہرہ دیکھ کر آنے والے حالات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

اداریہ