Daily Mashriq


کرپشن اور اشرافیہ کا گٹھ جوڑ

کرپشن اور اشرافیہ کا گٹھ جوڑ

پاکستان سمیت پوری دنیا میں پبلک اور اشرافیہ کے لئے عموماً دو طرح کے نظام نافذ العمل ہیں۔ ایگزیکٹو نظام اشرافیہ کے لیے جب کہ اکانومی عام شہریوں کے لیے ۔ آپ نے ہوائی جہازپر سفر کرنا ہو تو اشرافیہ کے لیے بزنس کلاس جب کہ عام شہریوں کے لیے اکانومی۔ حتیٰ کہ ائیرپورٹ کی انٹری کے لیے بھی اشرافیہ کا خیال رکھا جاتا ہے۔ نادرا اور پاسپورٹ کے لیے بھی ایگزیکٹو کلاس علیحدہ سے ہے تاکہ اشرافیہ کو کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اسی طرح بہت سے سرکاری و غیر سرکاری سر ٹیفیکٹس کے حصول کے لیے بھی ارجنٹ اور نارمل کی قید ہوتی ہے۔ اب تو ہسپتالوں میں بھی ایگزیکٹو وارڈز بنا دیے گئے ہیں تاکہ اشرافیہ کو علاج کے لیے کوئی پریشانی نہ ہو۔ یہ الگ بات ہے کہ اشرافیہ کی اکثریت ملک سے باہر علاج کو ترجیح دیتی ہے۔ چند ایک ادارے ایسے بھی ہیں جہاں اشرافیہ کے لیے ابھی تک کوئی نظام موجود نہیں ،سووہاں عام شہریوں کے ساتھ ساتھ انہیں بھی اپنا کام کروانے کی اذیت سے گزرنا پڑتا ہے۔ قطار میں لگ کر کام کروانے کی عادت نہ ہونے کی وجہ سے اشرافیہ ان اداروں میں بھی شارٹ کٹ ڈھونڈتے ہیں۔ جب انہیں کوئی راستہ سجھائی نہیں دیتا تو امور پر تعینات عملہ کی مٹھی گرم کرکے کام نکلوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اشرافیہ کو چونکہ پیسوں کی کمی نہیں ہوتی اس لیے جلد کام کرانے کے لیے اشرافیہ کے لیے چند ہزار روپے نکالنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ لیکن اس کے برعکس انہیں فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ قطار' انتظار اور عام شہریوں کے ساتھ شامل ہو کر کام کرانے کی اذیت سے بچ جاتے ہیں۔ اشرافیہ کے لیے گویہ امر کوئی معنی نہیں رکھتا لیکن اس کا نقصان عام شہریوں کو یہ اٹھانا پڑتا ہے کہ فرائض منصبی پر تعینات سرکاری عملہ عام شہریوں سے بھی رشوت کی ڈیمانڈ شروع کر دیتا ہے۔ اشرافیہ کی دیکھا دیکھی بہت سے صاحب حیثیت لیکن عام شہری بھی عملے کو پیسے دے کر جلدی کام کرانے کی ٹھان لیتے ہیں اور پھر ایک ایسا وقت بھی آتا ہے کہ سرکاری عملہ عام غریب شہری سے بھی پیسے لیے بغیر کام نہیں کرتا۔ آج پاکستان کے اکثر اداروں کی یہی حالت ہے۔ اگر آپ تھرو پراپر چینل جاتے ہیں تو گھنٹوں کا کام دنوں بلکہ مہینوں میں بھی مشکل سے ہو گا جب کہ اگر آپ صاحب کی مٹھی گرم کرتے ہیں تو اسی فائل کو پر لگ جاتے ہیں اور وہ اُڑنے لگتی ہے اور مہینوں کا کام دنوں میں ہو جاتا ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جب کرپشن کے خلاف آواز اٹھائی ' موجودہ سسٹم کی خرابی کی بات کی' شہریوں کو سمجھانے کی کوشش کی کہ ان کے ساتھ کس طرح ظلم و زیادتی ہو رہی ہے تو عمران خان کو قانون کی ایسی گتھیاں سلجھانے لگا دیا گیا کہ جیسے انہوں نے شجر ممنوعہ کو چھیڑدیا ہو۔ عمران خان کے طریق کار سے اختلاف کیا جا سکتا ہے ' ان کے انداز سیاست سے بھی اختلافِ رائے ممکن ہے لیکن انصاف اور دل لگتی بات یہ ہے کہ کرپشن کے معاملے میں عمران خان نے پوری قوم کی ترجمانی کی ہے۔ پوری قوم کے مسئلے کو تن تنہا بیان کرنے کی جدوجہد کی ہے۔ کرپشن جیسے ناسور سے قوم کو چھٹکارا دلانے کی کوشش کی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کرپشن کو پوری قوم اپنا مسئلہ سمجھتے ہوئے عمران خان کی آواز میں آواز ملاتی ' سیاسی نقطۂ نظر کو پس پشت ڈالتے ہوئے صرف اور صرف یہ سوچتی کہ کرپشن سے چھٹکارا ملک و قوم اور ہمارے بچوں کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ ہم یہ جنگ سیاست سے بالاتر ہو کر لڑیں گے تاکہ مجموعی طور پر ہمارا ملک ترقی کرے۔ لیکن صد افسوس ایسا نہیں ہوا۔ لگتا ہے پاکستانی قوم نے کرپٹ نظام سے سمجھوتا کر لیا ہے، کرپشن کو اپنا مقدر سمجھ کر جیسے قبول کر لیا ہے۔ اشرافیہ کا مقصد بھی یہی تھا کیونکہ کرپٹ نظام ہی اشرافیہ کو سوٹ کرتا ہے' جہاں ان کے کالے دھندوں کو چند ٹکے دے کر سفید کیا جا سکے، جہاں ان کے کرتوتوں پر پیسے کے ذریعے پردہ ڈالا جا سکے۔ پاکستانی قوم اس کرپٹ نظام کے خلاف آواز بلند نہ کر کے جہاں ایک طرف اپنے اور ملک کے ساتھ ظلم کر رہی ہے تواس کے ساتھ ساتھ اپنی آنے والی نسلوں کا مستقبل بھی تاریک کر رہی ہے۔جو اس کرپٹ نظام میں آنکھ کھولیں گے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاست سے بالا تر ہو کر صرف اور صرف ملک و قوم اور آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کے لیے ہم کرپشن کے خلاف آواز اٹھائیں۔ اس جدوجہد میں کسی پلیٹ فارم کا انتظار کیے بغیر ہر شہری کو کرپشن اور سسٹم کی خرابی کے خلاف بھرپور آواز اٹھا کر اس جدوجہد میں شامل ہونا ہوگا۔ اگر پاکستان کے شہری اس کرپٹ نظام کے خلاف آواز نہیں اٹھائیں گے تو پاکستانی قوم کا عمل شاعر کے اس شعرکے مترادف ہو گا کہ

دنیا میںقتیل اس سامنافق نہیں کوئی

جو ظلم تو سہتا ہے،بغاوت نہیں کرتا

متعلقہ خبریں