مشرق وسطیٰ کی نئی تقسیم اور صیہونی عزائم

مشرق وسطیٰ کی نئی تقسیم اور صیہونی عزائم

تھیوڈور ہرزل انیسویں صدی کا متنازع کردار ہے۔آج دنیا میں جتنی خوفناک جنگیں ہورہی ہیں ان کے پیچھے اسی ہرزل کی سوچ کارفرماہے۔ہرزل اگرچہ 1904ء میں مرگیا تھا لیکن دنیا میں آج بھی اس کی آئیڈیالوجی زندہ ہے۔تاریخ میں چنگیز خان اور اس کے پوتے ہلاکو خان کو بربریت کااستعارہ سمجھاجاتاہے،جنہوں نے دنیاکو انسانوں کے خون سے رنگین کردیا تھا،لیکن ان کی درندگی چندسالوں بعد ختم ہوگئی تھی۔جب کہ یہ ہرزل ہے جس کے خون ریز منصوبوں سے سوسال بعد بھی دنیاخون سے رنگین ہورہی ہے۔ ہرزل کو جدیدصیہونیت کا باپ کہا جاتاہے۔جس نے یہودیوں کوساڑھے تین ہزارسال سے کھوئی ہوئی شناخت دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ایک علیحدہ ملک حاصل کرکے دنیا پریہودیوں کی حکمرانی کرنے کا منصوبہ دیا۔ہرزل نے مرتے دم تک علیحدہ ملک کے لیے بھاگ دوڑ کی۔ہرزل کے مرنے کے 44سال بعد یہودیوں نے فلسطین پر قبضہ کرکے اسرائیل نام سے الگ ملک اگر چہ بنالیا ، لیکن ہرزل کا منصوبہ صرف فلسطین پر قبضہ کرنا ہرگز نہ تھا،بلکہ اس کے منصوبے میں مصر، عراق، سعودی عرب، شام، اردن،لبنان ،ترکی اور ایران سے لے کرخلیج عربی،خلیج عقبہ سمیت بحیرہ عرب،افریقہ کے کچھ حصہ اورپاکستان تک کا خطہ شامل تھا۔ہرزل کے منصوبے پر پچھلے سوسالوں سے کام جاری ہے۔چنانچہ 1948 میں اس منصوبے کے تحت پہلے فلسطین کے محدود علاقے پر قبضہ کیا گیا۔پھر1967کی عرب اسرائیل جنگ کے ذریعے،مصر ،اردن،لبنان اور شام کے کچھ حصے پر قبضہ کرکے فلسطین میں قائم کی گئی غاصب اسرائیلی ریاست کو توسیع دی گئی۔بعدازاں 2003ء میں امریکا عراق جنگ اور 2011میں عرب بہار کے ذریعے اس منصوبے کے اگلے اہداف پر کام کو بڑھایاگیا، جوتاحال مشرق وسطیٰ میں خانہ جنگی کی صورت جاری ہے۔اسرائیل کے مشہور اخبار Haaretzمیں 1982ء میں اسرائیل کے دفاعی تجزیہ کار نے اپنے مضمون میں لکھا تھا کہ اسرائیل کی سٹریٹجی شروع سے یہ ہے کہ وہ اپنی حدود وسیع کرنے کے لیے عرب ممالک کو رفتہ رفتہ توڑ کر چھوٹے چھوٹے ملک بنائے گا۔چنانچہ 1980ء میں شروع ہونے والی ایران عراق جنگ کے ذریعے اسرائیل نے اپنے خفیہ منصوبہ کو مکمل ہوتا دیکھ کر خوشی منائی تھی۔گریٹر اسرائیل نامی مذموم منصوبے کی تکمیل کے لیے اسرائیل بنیادی طور پر تین کام کررہاہے۔دنیا میں دفاعی اور معاشی طور پرورلڈ پاوربن جائے۔نمبر دوفلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاری کو بڑھایاجائے۔فلسطین کی مغربی پٹی اور غزہ میں اسرائیلی غاصب تیزی سے اس منصوبے پر عمل کررہے ہیں۔ جس کے لیے اسرائیل کے موجودہ وزیراعظم نیتن یاہو ماضی کی بنسبت سب سے زیادہ متحرک نظر آتے ہیں۔چنانچہ ایک رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو دور میں غیرقانونی طور پرفلسطینی علاقوں میں100 فیصد اسرائیلی آبادکاری میں اضافہ ہوا ہے۔اس وقت مشرق وسطیٰ میں جو خانہ جنگی کی آگ بڑھک رہی ہے اس کے پیچھے دراصل ہرزل کا منصوبہ ہی کارفرماہے۔جس پر پہلی جنگ عظیم کے وقت 1916میں سائیکس پیکونامی معاہدے کے ذریعے کام شروع ہوا۔بعدازاں دوسری جنگ عظیم کے بعداسرائیل کے قیام کے ساتھ اس میں تیزی لائی گئی ۔پھرنائن الیون کے ذریعے عراق میں امریکا کی مداخلت کے بعداس منصوبہ کا دوسرا راؤنڈ شروع ہوا جو عرب بہار کے بعد داعش کے قیام اور شامی وعراقی خانہ جنگی کی صورت اب اختتام کی جانب رواں دواں ہے۔اس منصوبے کے اختتام میں اگرچہ عراق،شام،ترکی کو تقسیم کرنا شامل ہے۔لیکن ترکی اورمشرق وسطیٰ کے دیگر ملکوں کی مزاحمت سے فی الحال صیہونیوں کا یہ خواب ادھوراپڑاہے۔لیکن اگرمشرق وسطیٰ کے اسلامی ممالک باہمی مفادات کے لیے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے رہے اور عالمی طاقتوں کی باتوںمیںآکر ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار رہے توشایدصیہونیوں کا یہ خواب جلدپورا ہوجائے۔ اس لیے مشرق وسطیٰ کے ان ممالک کو اپنے مفادات کے ساتھ پورے خطے کے مفادات کو سامنے رکھ کرپالیسیاں بناناہوں گی۔اس خطے میں صیہونی عزائم کا مقابلہ کرنے کے لیے زیادہ ذمہ داری سعودی عرب، مصر،ترکی،اردن اورلبنان پرعائد ہوتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ان ممالک میں باہمی اعتماد کمزور ہے۔چنانچہ ایک طرف سعودی عرب اور مصر کے مابین اختلافات کروانے کی کوششیں کی جارہی ہیں تو دوسری طرف ترکی اور مصر کو ایک دوسرے کے قریب ہونے سے روکا جارہاہے۔ مشرق وسطیٰ میں صیہو نی عزائم کو روکنے کے لیے پوری دنیا کے اسلامی ممالک کو متحرک ہونا ہوگااور فلسطین میں اسرائیل کی غیرقانونی آباد کاری کے خلاف بھرپور مہم چلانی ہوگی۔اس کے ساتھ عراق،شام اور دیگر ممالک میں مداخلت سے نہ صرف مغربی ممالک کو روکنا ہوگا بلکہ ایران،سعودی عرب ،مصر سمیت دوسرے ملکوں کو بھی بے جا اپنے ہمسایہ ممالک میں دخل اندازی سے خود کو باز رکھنا ہوگا۔بالخصوص ایران کو عراق ،شام اور یمن میں فریق بننے کی پالیسی ترک کرنا ہوگی۔کیوں کہ صیہونی لابی مشرق وسطیٰ کے ان ممالک کو مسلکی بنیادوں پر لڑا کرنہ صرف ان کے وسائل کو لوٹنا چاہتی ہے،بلکہ ہرزل کے منصوبے کے تحت مشرق وسطیٰ کی نئی تقسیم کرکے اور پھر گریٹراسرائیل کے ذریعے یہودیوں کی پوری دنیا پر حکمرانی کے دیرینہ خواب کو بھی پایہ تکمیل تک پہچاناچاہتی ہے۔

اداریہ