مشرقیات

مشرقیات

امانت خان نے صوبیداری دکن کے دنوںمیں اورنگ آباد کو اپنا مستقر بنا یا تھا ۔ایک مرتبہ کا ذکر ہے شہنشا ہ اورنگ زیب عالمگیر کے عہد میں معز الدین ایک تیموری شہزادہ نے اورنگ آباد میں بہت سے کارخانے کھول رکھے تھے ۔ بادشاہ کی خدمت میں عرضی پیش کی کہ میرے کارخانے قلت مکا نات کی وجہ سے شہر سے باہر ہیں ۔ موسم برسات کا ہے ، مکانات بوسیدہ اور خراب اور اسباب زیادہ اگر حکم ہو تو سنجر بیگ مرحوم کی حویلیوں میں کہ بالکل محفوظ ہیں ، اپنا اسباب رکھ لو ۔ بادشاہ نے امانت خان کے نام حکم دیا ، لیکن اس نے تعمیل نہ کی ۔ شہزاہ نے پھر عرضی دی ۔ بادشاہ نے محمد علی خانساما ں کو (جسے نہایت قرب و اعتبار حاصل تھا ) حکم دیا کہ امانت خان سے کہہ کر وہ مکان شہزادہ کو دلوا دیا جائے ، لیکن اس حق پرست وحق آگاہ نے پھر بھی مکان نہ دیا ۔ ایک دن بادشاہ کی سواری جارہی تھی ، محمد علی خان ، شہزادہ معزالدین اور امانت خان سب لوگ جلو میں تھے ، محمد علی خان نے بادشاہ سے کہا مرشد زادہ ( شہزادہ معز الدین ) کو حویلی سنجر بیگ عطا فر مانے کے لئے حضور نے احکام صادر فرمائے ہیں ، مگر صوبیدار صاحب نے ابھی تک حویلی نہیں دی ۔ بادشاہ نے امانت خان سے سبب پوچھا ۔ اس نے بے محا با اور بے دھڑک جواب دیا ۔ حضور غور فرمائیں ، جب اس برق و باراں کے موسم میں شہزادہ کو حسب خواہش مکان نہیں مل سکتا تو سنجر بیگ کے وارثوں اور لواحقین کو جو اس وقت بے سرو سرمایہ ہیں ،کہاںسر چھپا نے کو جگہ ملے گی ۔ آج جو اوروں کو تکلیف دیتے ہیں کل انہیں بھی مصائب برداشت کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئیے ۔ اگر بڑے بڑے آدمیوں اور شہزادوں نے اس طرح بے وسیلہ اور مصیبت زدہ لوگوں کے مکانات چھین لیے ہیں ، تو کم سے کم میری عملداری میں ایسا نہ ہو اور اگر حضور کو پاس خاطر منظور ہے ، تو میرا استعفیٰ قبول فرمایئے اوریہ کام اسکے سپر د کیجئے ، جس کا جگر لوہے کا اور دل پتھر کا ہے ۔
بادشاہ نے امانت خان کا یہ جواب سن کر سر نیچے کرلیا اور خاموشی کے سوا کوئی جواب نہ دیا ۔
( ماثر الا مرا جلد اول ص 366)
عقبہ بن نافع اپنے ایک سفر میںایک لق دق صحرا سے گز رہے تھے ۔ سفر بہت طویل تھا اور راستہ بھی اجنبی پھرتے پھرتے ایک مقام پر پہنچے جہاں لشکر کا پانی ختم ہو گیا ، دور دور تک پانی کا نام ونشان تک نہ تھا ، اس پریشانی کی حالت میں حضرت عقبہ بن نافع نے دو رکعت نماز پڑھ کر طویل دعا کی ، خدا کی شان دیکھو کہ اسی وقت عقبہ کے گھوڑے نے اپنے سم سے زمین کو کریدنا شروع کیا ، جب تھوڑی دیر گزری تو ایک بڑا پتھر نظر آیا تمام مجاہدین نے پتھر اٹھایا تو اس کے نیچے سے ایک خوشگوار اور ٹھنڈے پانی کا چشمہ نکل آیا سب لوگ بہت خوش ہوئے اور خوب سیر ہو کر پانی پیا اور اپنے مشکیزے بھی پانی سے بھر دیئے ۔ پھر ایک جگہ پر اس کا نام ماء الفرس یعنی گھوڑے کا ( پانی کا چشمہ ) ہوگیا اور لوگ اس جگہ کو اسی نام سے یاد کرنے لگے ۔ (ناقابل فراموش تاریخ کے سچے واقعات ص 101)

اداریہ