Daily Mashriq


یہ وقت اتحاد کا ہے انتشارکا نہیں

یہ وقت اتحاد کا ہے انتشارکا نہیں

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دورہ سعودی عرب سے واپسی پر کسی ممکنہ این آر او کی بناء پر ان کے لب و لہجہ میں تبدیلی کا جو امکان ظاہر کیا جا رہا تھا وطن واپسی کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں ان کے لب و لہجے سے کسی طور نہیں لگتا کہ کسی ممکنہ مفاہمت پر بات چیت کی گئی ہو بلکہ انہوں نے بڑے واضح اور صریح الفاظ میں ان عناصر کو ایک مرتبہ پھر متنبہ کیا ہے کہ اگر پس پردہ کارروائیاں نہ رکیں تو وہ گزشتہ چار سالوں کے حقائق بتا دیں گے۔ سیاسی عناصر اس قسم کی دھمکیوں سے اکثر کام لیتے ہیں لیکن ان کا کچھ نہ کچھ پس منظر ضرور ہوتا ہے۔ نواز شریف حال ہی میں وزیر اعظم کے عہدے کے لئے نا اہل ٹھہرے ہیں اور ان کا دور حکومت خواہ وہ موجودہ ہو یا قبل ازیں کے کشاکشی سے خالی نہیں رہا۔ ان کی طبیعت صلح جونہ سہی لیکن کچھ تو ایسے عوامل ضرور ہوں گے جن کی بنا پر وہ ہر د ور حکومت میں اقتدار تیاگ دینے پر اترتے رہے ہیں۔ اس ساری صورتحال میں نواز شریف کے بیانات کی شدت کو اگر نصف کرکے بھی دیکھا جائے تو بہر حال اس امر سے انکار ممکن نہیں کہ حکومت میں دخل اندازی اور حکومت کو کمزور کرنے کے حربے خفیہ اور اعلانیہ مساعی سے یکسر انکار ممکن نہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ملک میں جمہوریت کے استحکام کی نوبت کیوں نہیں آئی۔ ایک ایسے موقع پر جب امریکی صدر ٹرمپ کے احمقانہ ٹویٹ اور واشنگٹن کی پاکستان کی امداد بند کرنے کی دھمکیوں سے پیدا شدہ صورتحال میں ایک سابق وزیر اعظم کا ملک کے اندر چپقلش اور عدم اعتماد پرمبنی بیان کسی طور مناسب نہیں لیکن دوسری طرف ان عناصر کے لئے بھی یہ لمحہ فکریہ ہونا چاہئے کہ ایک ایسے وقت میں جب پوری قوم کو یک آواز ہونے کی ضرورت ہے حکمران جماعت کے قائد اپنی بیزاری کے اظہار سے رک نہیں سکے۔ سابق وزیر اعظم کو شکوہ ہے کہ پاکستا ن کے قیام کے 23سال بعد انتخابات ہوئے جن کے نتائج تسلیم نہ کئے جانے کی وجہ سے پاکستان دو لخت ہوا۔ لیاقت علی خان کے بعد ایک وزیر اعظم بھی اپنی آئینی مدت پوری نہ کرسکا۔ عوامی رائے کو کبھی اہمیت نہیں دی گئی۔ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے کہاکہ تھاکہ عوامی رائے کبھی غلط نہیں ہوتی لیکن یہاں 70 سال سے اس فرسودہ اصول پر کام ہورہا ہے کہ عوامی رائے ہمیشہ غلطی پر ہوتی ہے اور آج بھی ماضی کے اسی فرسودہ اصول پر کام ہورہا ہے۔ الیکشن میں تمام جماعتوں کو یکساں مواقع حاصل ہونے چاہئیں۔سابق وزیر اعظم نے جہاں سیاسی عناصر اور ان کی سرپرستی کرنے والوں کو صریح پیغام دیا وہاں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی پوری طرح بتا دیا کہ پاکستان اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے لگی لپٹی رکھے بغیر کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کو مسلمہ بین الاقوامی سفارتی آداب کا خیال رکھنا چاہیے۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ نائن الیون کے بعد سب سے بھاری قیمت پاکستان نے ادا کی ہے ۔ کسی ملک کا اتنا جانی ومالی نقصان نہیں ہوا جتنا پاکستان کا ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ یہاں عوام کی منتخب جمہوری حکومت دھمکیوں کی پرواہ نہیں کرتی۔ہمیں سوچنا چاہئیے کہ دنیا ہمارے بارے میں ایسا کیوں سوچتی ہے۔ہمارے معصوم بچوںکا خون کیوں اتنا ارزاں ہو رہا ہے ۔ 17سال گزرنے کے باوجود ہمارے بیانیے کو تسلیم کیوں نہیںکیا جا رہا۔ ہمیں ان سوالوں کا جواب چاہیے۔اگر اس صورتحال کو نظر انداز کیا جاتا رہا تو یہ خود فریبی ہو گی ۔ ہمیں اس خود فریبی سے نجات حاصل کرنا ہوگی۔سابق وزیر اعظم کے ان سوالات پر غور کیا جائے تو اصلاح احوال کے کئی مواقع سامنے آئیں گے۔ ہمیں جہاں اپنی اصلاح اور اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے وہاں ہمیں امریکہ سمیت دنیا سے تعلقات رکھتے ہوئے اپنے مقام و مرتبہ کا اپنے طور پر نہیں بلکہ قوم کے نمائندوں کے طور پر سنجیدگی کے ساتھ تعین کرنے کی ضرورت ہے۔ بہر حال یہ تنقید اور نکتہ چینی کا موقع نہیں ماضی کی غلطیاں نہ دہرانے اور محتاط و متین انداز فکر اختیار کرنے کاوتیرہ اختیار کرنے کا مصمم ارادہ کیا جائے تو کافی ہوگا۔جہاں تک جاری صورتحال کا تعلق ہے ہمارے تئیں ملک میں جمہوری نظام کے جاری رہنے اور جمہوری قیادت کو پارلیمان اور عساکر پاکستان سمیت سبھی کو ایک مٹھی بن کر پورے قومی وقار‘ مفاہمت اور مشاورت کے ساتھ امریکہ کو بتانا ہوگا کہ اس طرح کے یکطرفہ بیانات اور اقدامات سے پیدا شدہ صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے پوری قوم متحد ہے اور امریکہ کی اچانک تبدیل شدہ پالیسی میں پاکستان اگر علاقائی دوستوں کی اعانت کے ساتھ مشکل وقت گزار لے تو پھر امریکہ کا اس خطے میں کم ہوتا اثر و رسوخ بھی باقی نہیں رہے گا اور اس صورت میں امریکہ کو پاکستان اور اس کے دوست ممالک کی جانب سے عالمی سطح پر ایک جوابی رد عمل کا سامنا کرنا پڑے گا جو واشنگٹن کے لئے کوئی اچھی صورتحال نہ ہوگی۔ بہر حال یہ اس وقت ہی ممکن ہو پائے گا جب ملک میں جمہوریت اور پارلیمان مضبوط ہوں اور جمہور کے فیصلوں کو وقعت دی جائے اور اقتدار کی مسند پر بٹھانے کا عوامی فیصلہ من و عن تسلیم کیا جائے۔

متعلقہ خبریں