بار افغان مہاجرین کے انخلاء کی صرف بات ہی ہوتی ہے

بار افغان مہاجرین کے انخلاء کی صرف بات ہی ہوتی ہے

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں یو این ایچ سی آر اور عالمی برادری سے افغان پناہ گزینوں کی جلد واپسی کا معاملہ اٹھانے کا معاملہ مثبت ضرور ہے لیکن اس مطالبے کی سنجیدگی اور حکومت کے اس پر قائم رہنے کا سوال اپنی جگہ اس لئے اہم ہے کہ اس طرح کے مطالبات کے باوجود وقت آنے پر حکومت ہمیشہ افغان مہاجرین کو دی گئی ڈیڈ لائن میں توسیع کی عادی ہے حکومت سوائے ایک آدھ بار کے کبھی بھی افغان مہاجرین کی واپسی میں سنجیدہ نظر نہیں آئی۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتی ڈیڈ لائن مذاق بن کر رہ گیا ہے اور ہر سال اس میں توسیع کو یقینی سمجھا جاتا ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ افغان مہاجرین ہمارے لئے سیکورٹی رسک اور ہماری معیشت و آبادی پر بوجھ بن چکے ہیں۔ انہی عناصر کی اعانت اور ان کے بھیس میں آئے ہوئے دہشت گردوں کی آمد و رفت نے آج وطن عزیز پاکستان کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے لیکن اس کے باوجود افغان مہاجرین سے ہمارے حکمرانوں کی ہمدردی میں کمی نہیں آئی ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ افغان مہاجرین کے ان کے وطن سے نکلنے کی سب سے زیادہ ذمہ داری امریکہ پر عاید ہوتی ہے مگر امریکہ اپنی سرزمین پر ان کو خوش آمدید کہنے کے لئے تیار نہیں اور ہم یہ بوجھ گزشتہ تین عشروں سے زاید اٹھا ئے ہوئے ہیں اور بدنامی بھی ہمارے حصے ہی میں آرہی ہے۔ بنا بریں افغان مہاجرین کو جتنا جلد رخصت کیا جاسکے اتنا ہی بہتر ہوگا۔ امریکہ کو افغانستان میں مہاجرین کی واپسی اور ان کو بسانے کی ذمہ داری پوری کرنی چاہئے۔
معمر مریضوں کے لئے مجوزہ سہولت کافی نہیں
ساٹھ سال کی عمر کے بزرگ شہریوں کو ہسپتالوں میں معائنہ اور داخلہ فیس سے استثنیٰ دیتے ہوئے اگر ایم ٹی آئی ہسپتالوں میں بھی اس کا انتظام کیا جاتا تو اس کے مفید ہونے میں شک نہ تھا۔ مریضوں کے مقامی ہسپتالوں سے علاج معالجے کے ابتدائی اخراجات اتنے نہیں ہوتے جس سے ان کو صحت و علاج کی مد میں معقول سہولتوں کی مفت فراہمی کو حکومت کا اہم قدم گردانا جائے مستزاد ان کو بڑے اور تدریسی ہسپتالوں میں یہ سہولت حاصل نہ ہوگی۔ صوبائی حکومت کے ہیلتھ کارڈ کے ذریعے ہسپتالوں میں مفت علاج پر بھی عوام مطمئن نہیں اور تازہ اقدام سے بھی معمر مریضوں کو وہ سہولت حاصل نہ ہوگی جس کی توقع تھی۔ بہتر ہوگا کہ صوبائی حکومت ساٹھ سال کی عمر کے مریضوں کے ہسپتالوں میں مفت علاج کا بندوبست کرے اور اس سہولت کو صرف سرکاری ہسپتالوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ خود مختار تدریسی ہسپتالوں میں بھی مریضوں کو مفت علاج کی سہولت دی جائے۔صوبے کے تمام ہسپتالوں میں معمر مریضوں کے علاوہ نادار اور غریب مریضوں کے مکمل مفت علاج معالجہ کے حوالے سے بھی قانون سازی ہونی چاہئے اور عوام کو صحت کی بہتر سہولتیں ان کی دہلیز تک پہنچانے کے صوبائی حکومت کے دعوے کی تکمیل کے سلسلے میں جلد پیش رفت کی جانی چاہئے ۔
جوہر قابل کی قدر دانی کی ضرورت
سی اے کے امتحان میں چارسدہ کے طالب علم کا ایک سو ستر ممالک کے طلبہ پر سبقت لے جانا ان کی محنت اور خیبر پختونخوا کے طلبہ میں قابلیت و ذہانت اور صلاحیتوں کی موجودگی کا مظہر ہے۔ یہ امر جہاں قابل اطمینان ہے وہاں دوسری جانب افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے ہاں دعوئوں کے باوجود قابل‘ ذہین‘ باصلاحیت اور ہنر مندوں کی قدر و منزلت کی روایت ہی نہیں بجائے اس کے کہ اس طرح کے نوجوانوں کی حکومتی سطح پر سرپرستی کے ساتھ ان سے ملک و قوم کی تعمیر و ترقی کی خدمت لی جائے ان کو مایوسی کا شکار بنا دیا جاتا ہے جس کی بناء پر پاکستان سے دانش کا فرار سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ ہمارے ملک کے جوہر قابل کو پاکستان میں اپنا مستقبل روشن دکھائی نہیں دیتا اور ایک روایت سی بن چکی ہے کہ نوجوان بیرون ملک جانے کر ترجیح دیں۔ ایسا کرنے میں وہ بڑی حد تک اس لئے حق بجانب ہیں کہ ان کو آگے بڑھنے اور اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرکے بہتر خدمات کے مواقع ہی نہیں دئیے جاتے۔ نتیجتاً وہ مایوس ہو کر باہر جانے کی راہ دیکھنے لگے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے بعض نوجوان نہ صرف قانون شکنی کے مرتکب ہوتے ہیں بلکہ اپنی جان بھی خطرے میں ڈالتے ہیں اور جان گنوانے کی نوبت بھی آجاتی ہے جس کی روک تھام کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ چارسدہ کے اس نوجوان کی کامیابی ہمارے نوجوانوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ ہمارے نوجوانوں میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں کسران کو اجاگر کرنے اور ان کی بہتر رہنمائی کی ہے۔ اگر ہمارے نوجوانوں کو درست رہنمائی اور مواقع میسر آئیں تو کوئی وجہ نہیں کہ مزید جوہر قابل ملک کا نام روشن کرنے آگے آئیں۔

اداریہ