Daily Mashriq


پاک امریکہ تعلقات

پاک امریکہ تعلقات

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دھمکی آمیز ٹویٹ کے بعد پاکستان پر دباؤ کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان کو واجب الادا 255ملین ڈالرز کی ادائیگی روک دی گئی ہے اور اقوام متحدہ میں امریکی مندوب نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف آئندہ اقدامات کا اعلان 48گھنٹے میں کر دیا جائے گا۔ اس کے جواب میں عالمی ادارے میں پاکستان کی مندوب ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ اگر امریکہ ہمارے تعاون کی قدر نہیں کرتا تو پاکستان بھی اس تعاون پر نظرِ ثانی کر سکتا ہے۔ یہ تعاون کس قدر وسیع ہے اس کا عمومی طور پر اندازہ نہیں۔ تاہم امریکیوں کو اس کے بارے میں معلومات ہیں اور یہ بھی اندازہ ہے کہ امریکہ کے لیے یہ تعاون کتنا ضروری ہے۔ دریں اثنا یہ باتیں بھی ہو رہی ہیں کہ امریکہ یک طرفہ کارروائی کر سکتا ہے۔ اس حوالے سے آرمی چیف نے گزشتہ روز کہا کہ کوئی دھمکی پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج ہر وقت وطن کے دفاع کے لیے جانیں نچھاور کرنے پر تیار رہتی ہے۔ اس سے پہلے سویلین اور فوجی قیادت پر مشتمل قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں امریکی صدر کے دھمکی آمیز ٹویٹ کو مسترد کیا گیا اور امریکہ کو یہ باور کرایا گیا کہ افغانستان میں اس کی شکست کی ذمہ داری پاکستان کی نہیں ہے۔ مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے 255ملین ڈالر کی ادائیگی روکنے سے پاکستان کو کوئی فرق نہیں پڑے گا اور اس کے لیے متبادل بندوبست کر لیا گیا ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت سبھی قائدین نے امریکہ کی دھمکی کو مسترد کیا ہے ۔ الغرض ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر ذمہ دارانہ اور فراست و تدبر سے عاری ٹویٹ کے باعث پاکستان میں خوف و تشویش کی بجائے حوصلہ اور اتحاد کے جذبہ کو فروغ حاصل ہوا ہے ۔ یہی پاکستانی قوم کا خاصہ ہے کہ وہ کسی دھمکی یا خطرے کی صورت میں متحد ہو جاتی ہے اور ہر قسم کے حالات سے عہدہ برآء ہونے کے لیے تیار ہو جاتی ہے۔ 

پاک امریکہ تعلقات آج اس نہج پر نظر آتے ہیں کہ پہلے کبھی اتنے کشیدہ نہ تھے ۔ اس کی بنیادی ذمہ داری صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر ذمہ دارانہ اور فہم و فراست سے عاری رویہ ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اپنا پس منظر ایک کامیاب سرمایہ دار کا ہے۔ ان کے رویہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سرمائے ہی کو واحد کار فرما قوت سمجھتے ہیں ‘ ان کے نزدیک ہر چیز سرمائے سے خریدی جا سکتی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ صرف پاکستان نہیں دوسرے ممالک کی امداد میں بھی کمی کریں گے ۔ دوسری طرف وہ دنیا میں ایسی فضا پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ امریکی اسلحہ کی فروخت کے امکان بڑھ سکیں۔ انہوں نے بیک وقت سعودی عرب اور امارات کو ایک طرف اور دوسری طرف قطر کو میزائل فروخت کرنے کے سودے کیے ہیں ان کی غیر ذمہ داری کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو گا کہ انہوں نے حال ہی میں شمالی کوریا کو دھمکی دی ہے کہ ان کے پاس بڑی ایٹمی قوت کو بروئے کار لانے کا بٹن ہے۔ انہوں نے بھارت میں امریکہ کا نیا اتحادی دریافت کیا ہے اور وہ افغانستان میں بھارت کو کلیدی کردار تفویض کرنے پر آمادہ ہیں۔ جو پاکستان کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ وہ افغانستان میں امریکہ کی شکست کے بعد وہاں سے فوجیں نکالنے کی بجائے امریکی مقاصد کے لیے افغانستان میں تسلط کو ضروری سمجھتے ہیں اور ان کی حکمت عملی یہ ہے کہ پاکستان کو اس قدر دباؤ میں لایا جائے کہ پاکستان افغانستان میں امریکہ کی جنگ لڑے۔ لیکن پاکستان ملکوں کی خود مختاری کے اصول پر کاربند ہے۔ پاکستان نے واضح طور پر اعلان کر دیا ہے کہ وہ کسی کی جنگ نہیں لڑے گا۔ پاکستان کی معیشت کی صورت حال اس وقت قابلِ اطمینان نہیں ہے۔ اس لیے امریکہ پاکستان پر اقتصادی دباؤ اس امید میں بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس طرح پاکستان کو اپنے مقاصد کے لیے مجبور کر سکے۔ دریں اثناء امریکہ کے لیے افغانستان کی زمین تنگ ہوتی جا رہی ہے۔ افغان طالبان تو درکنار خود افغانستان کی سول سوسائٹی مطالبہ کر رہی ہے کہ امریکی فوجیں اب افغانستان سے نکل جانی چاہئیں اور افغان مسئلہ خود افغانوں کو حل کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ امریکی فوج کی موجودگی کو افغانستان کے لیے ناگزیر بنانے کی خاطر امریکہ نے افغانستان میں دہشت گرد گروپوں کو پنپنے کی گنجائش دی ہے ۔امریکی فوج افغانستان میں کوئی کردارادا کرنے کی بجائے محصور رہتی ہے اور افغانستان میں داعش اور تحریک طالبان پاکستان ایسے گروپ جڑیں مضبوط کر رہے ہیں۔ اس صورت حال میں افغانستان میں اگر صورت حال بگڑتی ہے تو یہ امریکہ کے لئے نقصان دہ ہو گی۔ اگر پاکستان کے خلاف افغان سرزمین سے کوئی ایڈونچر ہو گا تو افغانستان میں طاقت کا توازن خراب ہوگا اور وہاں موجود امریکی فوجیں غیر محفوظ ہو جائیں گی ۔ پاکستان کے ساتھ کشیدگی اگر برقرار رہتی ہے تو اس سے بھی امریکہ کو نقصان پہنچے گا۔ امریکی فوج کے لیے تمام رسد اور کمک پاکستان کے راستے پہنچتی ہے۔ متبادل راستہ جو کچھ عرصہ پہلے تلاش کیا گیا تھا اس کے اخراجات اتنے ہیں کہ پاکستان کے راستے کی نسبت دس گنا زیادہ تک پہنچتے ہیں۔ پاکستان کے اندر امریکیوں کو جو وسیع سہولتیں حاصل ہیں وہ اگر ختم ہو جائیں گی تو امریکہ کے لیے اس کا متبادل تلاش کرنا محال ہو گا۔ اگر افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی کے مطابق امریکہ اپنے نئے اتحادی بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان پر دباؤ بڑھاتا ہے تو یہ ایک پرخطر راستہ ہے کیونکہ پاکستان اور بھارت دونوں ہی ایٹمی قوتیں ہیں۔ اس لیے صائب الرائے امریکیوں اور بین الاقوامی کمیونٹی میں ٹرمپ کے غیر ذمہ دارانہ رویہ سے پیدا ہونے والے خطرات سے آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت محسوس کی جانی چاہیے۔

متعلقہ خبریں