Daily Mashriq


پاک بھارت دائوپیچ کا کھیل

پاک بھارت دائوپیچ کا کھیل

پاکستان کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزرجنرل ناصر جنجوعہ اوربھارت کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزراجیت دوال کے درمیان تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں ملاقات ہوئی ہے۔یہ ملاقات پاکستان اور بھارت کے درمیان بیک چینل رابطوں کی بحالی کا پتا دیتی ہے۔یہ ملاقات کلبھوشن یادیو سے اہل خانہ سے ملاقات کے دو روز بعد منعقد ہوئی ۔کلبھوشن یادیو کے اہل خانہ سے ملاقات کا بھارتی میڈیا نے جس طرح افسانہ بنایا تھا اور کلبھوشن کی اہلیہ کے جوتوں کو ایک اور مسئلہ بنایا جانے لگاتھا اس سے دونوں ملکوں میں کشیدگی کم ہونے کی بجائے بڑھنے کے خدشات موجود تھے ۔قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان دوگھنٹے تک جاری رہنے والی اس ملاقات کو حوصلہ افزااور دوستانہ ماحول میں قراردیا گیا ۔دونوں ملکوں کے اہم عہدیداروں کے درمیان یہ پہلی ملاقات نہیں بلکہ دونوں کے درمیان بنکاک میں ہی 2015میں ملاقات ہو چکی ہے ۔اس ملاقات میں دونوں طرف کے خارجہ سیکرٹری بھی موجود تھے ۔اس ملاقات کے بعد نریندر مودی میاں نوازشریف کی نواسی کی شادی میں شرکت کے لئے لاہور آئے تھے ۔پاکستان اور بھارت کے درمیان بیک چینل رابطوں کی تاریخ نئی نہیں مگر اس بار ان رابطوں میں وزارت خارجہ کو کسی نہ کسی حوالے سے شامل رکھا جاتا ہے ۔سیدھے لفظوں میں بات کی جائے تو ’’سودے بازی‘‘ کی قیاس آرائیوں کو اس انداز فکرو عمل سے تقویت ملتی تھی۔قومی سلامتی کے مشیروں کی اس ملاقات کے حوالے سے پاکستان کی طرف سے جو موقف اشاروں کنایوں میں سامنے آیا ہے یہ کہ اچھے روابط بنیادی مسائل پر مذاکرات سے ہی ممکن ہے ۔بھارت کو بھی آخر کار مذاکرات کی میز پر آنا پڑے گا۔بھارت کے دانشور طبقے میں جنرل قمرجاوید باجوہ کی ارکان سینیٹ کے ساتھ گفتگو کو مثبت قرار دیا جارہا ہے جس میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا وہ بھارت سے بہتر تعلقات پر یقین رکھتے ہیںاور یہ کہ منتخب نمائندے پالیسی بنائیں فوج اس پر عمل کرے گی۔اجیت دوال اور ناصر جنجوعہ کی ملاقات سے کیا برآمد ہوتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا مگر پاکستان کے درمیان دائو پیچ کا یہ کھیل نئی بات نہیں ۔سردست پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی سوئی دوافراد میں پھنس کر رہ گئی ہے ۔ان میں ایک کلبھوشن یادیو ہیں اور دوسرا حافظ سعید۔کلبھوشن یادیو بھارت کا اجمل قصاب بن گیا ہے ۔پاکستان کچھ کرے یا نہ کرے کلبھوشن کا نام اور تذکرہ بھارت کو ہرفورم پر شرمندہ کرنے کے لئے کافی ہے ۔اس سے بھارت کی طرف سے اپنے اوپر تنی مظلومیت کی چادر بھی اُترتی ہے اور خود بھارت کے اندر بھی کلبھوشن کے کردار اور حقیقت کے بارے میںسوال اُٹھتے ہیں۔ایران کی خاموشی کلبھوشن کے بارے میں پاکستان کے موقف کو تقویت دیتی ہے کہ اگر کلبھوشن ایران سے اغوا ہواتو پھر ایران کی سرزمین استعمال ہوئی ہے اور اگر کلبھوشن بلوچستان کی حدود میں داخل ہوا تو پھر پاکستان کا موقف ازخود ہی درست ثابت ہوتا ہے ۔کلبھوشن کواجیت دووال ڈاکٹرائن کا چلتا پھرتا ثبوت بھی سمجھا جاتا ہے اور اجیت دووال کے ساتھ اس کی رشتہ داری کی رپورٹس بھی سامنے آتی رہی ہیں ۔اس طرح اندرونی اور بیرونی سطح پر مزید خفت سے بچنے کے لئے کلبھوشن یادیو کیس کو ’’سب کی جیت ‘‘ کے اصول کے تحت حل کرنا بھارت کی دیرینہ خواہش ہے ۔ دوسرا نام حافظ سعید ہے ۔بھارت جانتا ہے کہ پاکستان اور بھارت ایک دوسرے سے ستر برس سے جاری کھلی جنگوں ،پراکسی جنگوں اور کنٹرول لائن،سفارتی دھینگا مشتی پر فائرنگ کا حساب نہیں لے سکتے ۔یہ تاریخ کا ایسا بوجھ ہے جو کسی نے زیادہ اُٹھایا ہے تو کسی نے کم مگر دونوں کی کمریں اس بوجھ سے خمیدہ ضرورہیںمگر فی الوقت بھارت ماضی کے سارے حساب چکانے کے لئے حافظ سعید کو ایک علامت اور کردار بنا کر پیش کرتا ہے اور ایک نئی کتاب کے آغاز کے لئے اس مسئلے کاحل چاہتا ہے ۔ بھارت حافظ سعید کو سزا دلوا کر اور ان کی تنظیم کو پابندیوں کا شکار بنا کر حقیقت میں ایک فیس سیونگ چاہتا ہے ۔ممبئی دھماکوں کے بعد بھارت نے پاکستان کے ساتھ تعلقات بحال نہ کرنے کی جو قسم کھائی تھی وہ صرف حافظ سعید جیسی علامت کو چھیڑ نے سے ٹوٹ سکتی ہے ۔پاکستان ایک سطح پر جا کر حافظ سعید کو ’’بوجھ ‘‘تسلیم کرچکا ہے اور اس معاملے کے حل کو وقت طلب قرار دے چکا ہے ۔اجیت ددوال اور ناصر جنجوعہ کی ملاقات کے بعد ہی یہ خبر سامنے آئی کہ حکومت پاکستان نے جماعت الدعوۃ کو مرحلہ وار ’’قومیانے‘‘ کا فیصلہ کرلیا ہے۔دائو پیچ کا یہ کھیل خالصتان کے معاملے پر کھیلا جا چکا ہے ۔ جب بے نظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت خالصتان نواز مسلح افراد کی فہرستیں بھارت کو فراہم کی گئی تھیں عین ممکن ہے کہ اس کے بدلے کچھ رعایتیں حاصل کی گئی ہوں ۔بعد میں خود بے نظیر بھٹو نے بھارت کی مدد کرنے کا اعتراف کیا تھا ۔ اجیت دوال اور جنرل جنجوعہ کی ملاقات کا ممکنہ طور پر تیسرا نکتہ کنٹرول لائن پر جاری کشیدگی کو ایک حد سے زیادہ بڑھانے کے مضمرات پر بات چیت ہوسکتی ہے۔ایک دوسرے کو ایک حد کے اندر رہنے کے فوائد اور حدود سے نکلنے کے نقصانات سے دوستانہ انداز میں آگا ہ کیا ہو جس طرح جنرل ضیاء الحق نے کرکٹ ڈپلومیسی کے وقت راجیو گاندھی کے کان میں کوئی ایسا جملہ کہہ دیا تھا کہ ایک دوسرے کی جانب تنی توپوں کے رخ تبدیل ہونا شروع ہوگئے تھے ۔

متعلقہ خبریں