جناب نواز شریف کی مایوسی

جناب نواز شریف کی مایوسی

اصولی طور پر جناب نوا زشریف کا شکوہ درست ہے ۔ ان کے اور عمران خان کے لئے الگ الگ معیار سامنے آرہے ہیں لیکن اگر جناب نواز شریف کو یا د ہو تو کبھی ان جیسا سلوک محترمہ بے نظیر بھٹو سے ہوتا تھا اور عمران خان کی طرح وہ ا سٹیبلشمنٹ کے لاڈلے تھے ۔ ماضی کے اوراق پر لکھی کہانیاں کچھ تلخ ہیں مثلاً 1990میں انہیں جتوانے والوں نے گھوسٹ پولنگ اسٹیشن بنوائے تھے اور نتیجہ شریف خاندان کو نہال کر گیا ۔ یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ اس ملک میں بھٹو کے دور میں قدرے جمہوریت رہی ۔ باقی ماندہ سمجھوتہ برانڈ جمہوریتیں تھیں یا پھر جرنیلی جمہوریت۔ نواز شریف سے زیادہ سانپ سیڑھی کے اس کھیل کو کون جانتا اور سمجھتا ہے ۔ ان کی سیاست نے ضیاء الحق کے مارشل لاء کے آنگن میں آنکھ کھولی ۔ جنرل جیلانی ، ضیاء الحق اور حمید گل کی تربیت و رہنمائی میں پروان چڑھی ۔ لیکن یہ سب ماضی کی باتیں ہیں ۔ آج کی بات یہ ہے کہ وہ جن قوتوں سے اس امر پر شاکی ہیں کہ وہ انہیں دیوار سے لگانے اور عمران خان کو تخت پر بٹھانے کے لئے کوشاں ہیں ان قوتوں کے ساتھ انہوں نے 2013ء کے عام انتخابات سے قبل معاملات طے کئے تھے ۔ کاش وہ کسی دن ان 22کروڑ لوگوں کو یہ بتانے کی زحمت کریں کہ کن شرائط پر معاملات طے ہوئے اور پیچھے کون ہٹا ؟ کچھ دوست ناراض ہوتے ہیں جب 2008ء سے 2013ء کے درمیان والے نواز شریف کے ’’عشق اسٹیبلشمنٹ ‘‘ کی یادیں تازہ کرتا ہوں ۔ سچ یہ ہے کہ اگر وہ آبپارہ کی ٹکسال میں گھڑے گئے میمو گیٹ سکینڈل پر کالا کوٹ پہن کر حب الوطنی ثابت کرنے سپریم کورٹ نہ جاتے تو انہیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتے ۔ اس سے تلخ سچ یہ ہے کہ وہ مقامی اور عالمی مہربانوں کی معرفت درمیانی راستے نکلوانے کی ساری کوششیں اکارت جانے پر برہم ہیں ۔ سمجھوتوں کی سیاست کا المیہ یہ ہے کہ آدمی پورا سچ نہیں بولتا ۔ اس ملک کی ضرورت صاف ستھری جمہوریت اور عادلانہ نظام ہے ۔بہت ادب سے عرض کروں دستیاب قیادتوں میں سے کوئی بھی اس ملک کو حقیقی جمہوریت نہیں دے سکتی ۔ وجہ یہی ہے کہ ساری قیادتوں کا تعلق بالا دست طبقات سے ہے یہی طبقات اصل مالکان کے مفاد کو عوام کے مفاد پر ترجیح دیتے ہیں ۔ سیاسیات کے طالب علم کی حیثیت سے مجھے اس امر پر کوئی حیرانی نہیں کہ انقلابی و نظریاتی سیاست کاعلم اٹھانے کی باتیں ہوا ہوئیں اور اب سارے ترلے منتیں اس لئے ہیں کہ سمجھوتے کی کوئی صورت بن پائے ۔ بدھ کی سہ پہر میاں نواز شریف نے جو پریس کانفرنس کی اس کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ انہوں نے صحافیوں کے سوالات کا جواب دینے کی بجائے صرف اپنی بات کہی ۔ انہوں نے درحقیقت ایک دھمکی آمیز پیغام دیا کہ ان کی بات نہ سُنی گئی تو وہ آخری دائو کھیلیں گے ۔ غور طلب بات یہ ہے کہ کیا وہ واقعتا وہ کریں گے جوکہا ہے ۔ سادہ سا جواب یہ ہے کہ با لکل نہیں ۔ وہ بنیادی طور پر سرمایہ دار ہیں ۔ کاروباری آدمی کبھی ایسا دائو نہیں کھیلتا جس میں کاروبار کے بند ہو جانے کا خطرہ ہو ۔ کاروبار جاری رکھنے کے لئے انہوں نے شہباز شریف کو اپنا جانشین قرار دیا ۔ حدیبیہ پیپر کے فیصلے سے یہ تاثر بندھا کہ ان کے معاملات طے ہورہے ہیں ۔ یہ بھی عرض کردوں کہ معاملات طے ہونے کا تاثر کسی کے مفاد میں نہیں ۔عدالتوں پر ان کا شکوہ بھی ذاتی دکھ کا اظہار ہے ۔ جس بات کو یہاں نظر انداز کیا جارہا ہے وہ یہ ہے کہ نظام حکومت پر اسٹیبلشمنٹ اور اس کے موالیوں کی اجارہ داری اب کوئی راز کی بات نہیں رہی ۔ عام آدمی نہ صرف ان باتوں کو بخوبی سمجھنے لگا ہے بلکہ اسے یہ بھی معلوم ہے کہ کونسا ادارہ کیا کرتا ہے اور کیا چاہتا ہے ۔ یہ بھی کوئی راز نہیں کہ یہ ملکخالصسیکورٹی اسٹیٹ ہے ۔ پابند جمہوریت کو جو مرضی نام دیجئے رہے اور ہوگی پابند جمہوریت ہی۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ عوام کی حقیقی حاکمیت والا نظام اسٹیبلشمنٹ کو بھی قابل قبول نہیں ۔پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ میاں نواز شریف بھی دودھ کے دھلے ہوئے ہر گز نہیں ۔ پرویز مشرف سے معاہدہ جلا وطنی جس معافی نامے کے عوض خریدا تھا اس معافی نامے میں یہ درخواست بھی کی گئی تھی کہ ان پر قائم مقدمات ختم کر دیئے جائیں ۔ مکرر عرض کروں بدھ کی سہ پہرمیاں نواز شریف پریس کانفرنس میں مایوسی کی انتہا پر کھڑے دکھائی دیئے ۔ اگر وہ حالات اور اپنے معاملات پر غور کرنے کی زحمت کریں تو یہاں تک اپنی محنت سے پہنچے ہیں ۔ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ سے کئے گئے معاہدے کے ایک ایک نکتے کی خلاف ورزی کی۔ ہم سے طالب علم روز اول سے کہتے چلے آرہے ہیں کہ پاکستان ایسے ملک میں سیاست اور خدمت نہیں بلکہ ملازمت اور کاروبار ہوتا ہے ۔بہرطور اس امر سے انکار ممکن نہی کہ نواز شریف اور عمران خان کے معاملے میں الگ الگ معیار اپنانے سے پراگندگی پھیل رہی ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انصاف ہوتا ہوا دکھائی دے یہ تاثر نہ بننے پائے کہ پسند و ناپسند کا کھیل کھیلا جارہا ہے ۔ ثانیاًیہ کہ انتخابات بہر طور مقررہ وقت پر اور اس سے قبل سینیٹ کے انتخابات شیڈول کے مطابق ہونے چاہئیں ثالثاً یہ کہ سیاسی عمل میں شریک لوگوں کو بھی اب یہ سوچنا ہوگا کہ اگر حقیقی جمہوری نظام قائم نہ ہو ا تو آنے والے دنوں ملک اور عوام کے لئے سنگین مشکلات پیدا ہوں گی۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ان مشکلات کو گلے کا ڈھول نہ بننے دیا جائے ۔

اداریہ