ہمسایہ ممالک کیساتھ تعلقات میں بہتری کی کوششیں

ہمسایہ ممالک کیساتھ تعلقات میں بہتری کی کوششیں

دنیا کی کسی بھی مثالی جمہوریت میں سفارت کاری وہ شعبہ ہے جو سول حکومت کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور سول حکومت اس نازک شعبے کو مکمل طور پر کنٹرول کرتی ہے۔کسی بھی حکومت کی سفارت کاری کے شعبے میں کامیابی کا اندازہ اس ملک کے اپنے ہمسایوں کے ساتھ تعلقات سے لگایا جاسکتا ہے۔ اگر دنیا کے کسی بھی ملک کے اپنے ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں ، یا کم از کم ورکنگ ریلشنز ہیںتو اس ملک کی سفارت کاری کو کامیاب قرارد یا جاسکتا ہے۔ اگر پاکستان کی بات کی جائے تو دیگر بہت سے شعبوں کی طرح ہماری سفارت کاری بھی اکثر و بیشتر مشکلات کا شکار رہی ہے ۔ موجودہ دور کی بات کی جائے تو وزیرِ اعظم نواز شریف کی نااہلی کے بعد چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر باجوہ ہی ایران اور افغانستان کے ساتھ بالخصوص اور دیگر ہمسایوں کے ساتھ بالعموم کشیدہ تعلقات میں بہتری لانے کی کوششیں کرنے میں مصروف نظر آ رہے ہیں ۔ تاریخی طور پرایک ہی وقت میں سعودی عرب اور ایران کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا پاکستان کے لئے انتہائی مشکل رہا ہے اور کسی دورِ حکومت میں پاکستا ن کے ایران کے ساتھ اچھے تعلقات ہوتے ہیں اور کسی دور میں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں گرم جوشی نظر آرہی ہوتی ہے۔شام، عراق اور یمن میں ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار ہونے کی وجہ سے ایران اور سعودیہ کے ساتھ بیک وقت اچھے تعلقات رکھنا پاکستان کے لئے اور بھی مشکل اور پیچیدہ ہو چکا ہے۔سعودی عرب کی سرپرستی میں بنائے جانے والے اسلامک ملٹری اتحاد کوایران کی جانب سے فرقہ ورانہ بنیاد پرستی اتحاد سمجھا جاتا ہے جو ایران کے خلاف کارروائیاں کرنے کے لئے تشکیل دیا گیا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب اس اتحاد کو دہشت گردی کے خلاف ڈھال سمجھتا ہے اور اس اتحاد کا مقصد اسلامی ممالک کو دہشت گردی سے بچانا بتا یا جاتاہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کی حمایت نے ایران کے شکوک وشبہات میں مزید اضافہ کیا ہے ۔ اسی طرح برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین اور روس کی مدد سے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے کے وجود کو بھی امریکی صدر کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں سے خطرہ لاحق ہے جس کی وجہ سے ایران کے شکوک وشبہات کو مزید تقویت مل رہی ہے۔ اسرائیل اور سعودی عرب کے بڑھتے ہوئے سفارتی تعلقات بھی مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ ان تمام حالات کے تناظر میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایران کا دورہ کیا ہے جس کو خطے کی صورتحال کے وسیع تر تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ایران کے دورے کے موقع پر جنرل قمر باجوہ نے دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کی اس خواہش کا اظہار کیا کہ پاکستان اور ایران کو اپنے تعلقات میں بہتری لانی چاہیے اور دونوں دوست ممالک کے درمیان عارضی غلط فہمیوں کو جگہ نہیں دینی چاہیے تاکہ کوئی اس صورتحال سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔جنرل باجوہ کو ایران کے جس خدشے کا خاتمہ کرنے کے لئے سب سے زیادہ محنت کرنی پڑی ہوگی وہ پاکستان کا سعودی اتحاد کا حصہ بننے کا فیصلہ ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جنرل باجوہ نے ایران کو اس بات کا یقین دلایا کہ پاکستان کا سعودی اتحادکا حصہ بننے سے پاک ایران برادرانہ تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔جنرل باجوہ نے ایران کو اس بات کا بھی یقین دلا یاکہ پاکستان ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی قدر کی نگا ہ سے دیکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ پاک ایران تعلقات میں گرم جوشی برقرار رہے۔ ا ن کا یہ بھی کہنا تھا کہ جیسے پاکستان ایران اور بھارت کے تعلقات پر کوئی اعتراض نہیں اٹھاتا اسی طرح ایران کو بھی پاک سعودیہ تعلقات پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے ایران کے علاوہ ایک اور اہم ترین ہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں بہتری لانے کے لئے جنرل باجوہ نے ستمبر 2017ء میں افغانستان کا دورہ بھی کیا تھا ۔ مذکورہ دونوں دوروں کا مقصد پاکستان کے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کی بہتری کی خواہش کو عملی جامہ پہنانا ہے ۔ بھارت کی جانب سے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں فوج کے کردار کو ہمیشہ سے قبول کیا جاتا رہا ہے لیکن موجود حالات کے تناظر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ افغانستان اور ایران بھی پاک فوج کے ساتھ براہِ راست بات کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔بلوچستان سے ایران کے صوبے سیستان ۔بلوچستان میں داخل ہونے والے عسکریت پسندوں کی نقل وحرکت کو روکنے کے لئے پاکستان نے ایران کو ہرقسم کے تعاون کا یقین دلایا ہے اور سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کی سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال کرنے کے الزامات کی بھی سختی سے تردید کی گئی ہے۔ دونوں ممالک اس پر متفق نظر آتے ہیں کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی عسکری حل ممکن نہیں ہے لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا دونوں ممالک مستقبل میںخطے میں قیامِ امن کے لئے ملک کام کریں گے یا ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا۔

(بشکریہ: پاکستان آبزرور،ترجمہ: اکرا م الاحد)

اداریہ