Daily Mashriq


کس کے کپڑے پھٹتے ہیں

کس کے کپڑے پھٹتے ہیں

سابق فوجی آمر پر ویز مشرف نے ایک ویڈیو ریکارڈنگ کے ذریعے اکتشاف کیا ہے کہ بینظیر بھٹو کی برسی کے مو قع پر آصف زر داری اور بلاول ان کے خلاف الزام تراشی کر رہے ہیں اور اس میں نو از شریف بھی شامل ہیں انہوں نے یہ بھی انکشا ف کیا ہے کہ دراصل یہ لو گ فوج پر پر یشر ڈالنا چاہ رہے ہیں جس کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ مجھ پر پریشر ڈالا جائے۔ حیر ت کی بات یہ ہے کہ پر ویز مشر ف فوج سے ریٹائر ہو چکے ہیں اب ان کاتعلق اس ادارے سے سابق ملا زم کا سا ہے جس طر ح دیگر محکمو ں کے سبکدوش ہو نے والے ملا زمین کا ہے۔ ویسے بھی انہوں نے فوج کی عزت ووقار کو کب ملحوظ خاطر رکھا ہے ، بلکہ انہو ںنے تو اپنے اقتدار کے مذموم عزائم کے لیے ایک منظم اور مدبر عظیم فوج کو غیر آئینی اور غیر قانو نی استعما ل کیا جس کی وجہ سے ان کو آج مقدما ت کا سامنا بھی ہے جس میں غداری جیسے سنگین جر م کے ارتکا ب کا بھی سامنا ہے۔ بلا وجہ میں وہ سبکدو ش ہونے کے باوجو د فوج کی بیساکھی استعمال کر نے کی کوشش کر رہے ہیں جیسا کہ کہا جا تا ہے کہ ان کو ملک سے نکالنے میں استعانت سابق جنرل راحیل شریف نے کی تھی تو اس کا فوج سے کیا تعلق ہے ، ایسا ہو ا ہے تو یہ ان کا انفرادی کردار ہو سکتا ہے وہ اپنے فرار میں فوج کو کیو ں بدنا م کر رہے ہیں ۔ پر ویز مشرف نے یہ اندیشہ بھی ظاہر کیاہے کہ یہ دونو ں ان کے خلا ف شاید اس لیے پروپیگنڈا کررہے ہیں کہ کہیں میں پھر سے پاپو لر نہ ہو جاؤں اور ایسا لگتا ہے کہ وہ ڈر رہے ہیں ۔ اس با ت کی مجھے خوشی بھی ہے کہ میں پاپو لر ہو رہا ہوں۔ لگتا ہے کہ پر ویز مشر ف کسی خوش فہمی میں مبتلا ہیں جہا ں تک ان کے پالو لر ہو نے کا تعلق ہے تو اس بارے میں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بڑا چبھتاتبصرہ کیا تھا ۔انہوں پر ویز مشر ف کی جا نب سے مسلسل الزام تراشیوں کے جواب میں کہا تھا کہ چلیں دونوں راولپنڈی کے راجہ بازار چلے چلتے ہیں اور پھر دیکھتے ہیں کہ عوام کس کے کپڑ ے پھاڑ تے ہیں ۔ محسن پا کستان کا یہ چیلنج جہا ں بڑا کھرا تھا وہا ں بڑا دلچسپ بھی تھا پر ویز مشر ف کو قبول کر لینا چاہیے تھا کیوں کہ جب یہ چیلنج دیا گیا تو وہ اس وقت آمر کی حیثیت میں نہیں رہ رہے تھے بلکہ عوامی رہنما کے گما ن میں بس رہے تھے اور آل پاکستان مسلم لیگ نا م کی جماعت کے سربراہ بھی تھے بلکہ اب بھی ہیں سیاست دان وہ ہو تا جو عوام کے دل میں جاں گزیں نہ بھی ہو لیکن عوام کی صفوں میں تو پایا جا ئے ۔ پر ویز مشرف نے یہ ادعا بھی کیا ہے کہ وہ صحیح وقت پر پاکستان آئیں گے اور آکر اپنے خلا ف مقدما ت کا سامنا کر یں۔ انہو ں نے یہ دعوید اری بھی کی کہ اس سے پہلے بھی وہ پند ر ہ دفعہ کورٹس کا سامنا کر چکے ہیں وہ ہی بتا سکتے ہیں کہ پند رہ دفعہ کو رٹس کا کس طر ح سامنا کیا ہے تاہم یہ اچھی بات کی ہے کہ وہ جا نتے ہیں کہ ان کو کو رٹس کا سامنا کر نا پڑے گا۔ وہ ایسا نہیں کہ مقدمات ختم ہو جا ئیں تو وہ پاکستان آئیں گے ، مقدما ت کا خاتمہ کو رٹس میں کر انا ہو گا ۔ ایک جگہ ارشاد ہے کہ وہ کو رٹس میں مقدما ت کا سامنا کر نے کو تیا رہیں دوسری جا نب فرما تے ہیں کہ صحیح وقت پر پاکستان آئیں گے وہ صحیح وقت قوم کو بتا دیں تاکہ قوم اپنے ہر دلعز یز کا استقبال تام جھا م سے کر نے کے لیے تیا ریا ں کر لے۔ قوم تو یہ جا نتی ہے کہ اگر ان کا کمانڈو امریکا کی ایک ٹیلی فون کا ل پر نہ لیٹ جا تا تو آج پاکستان کو ٹرمپ کی دھمکی نہ ملتی جس مقام پر پاکستان کھڑا ہے وہا ں تک پہنچا نے میں اسی نام نہا د ہر دلعز یز لیڈر کا تو کیا دھر ا ہے ۔ انہو ں نے جب پاکستان کے عوام سے ان کے حقوق ، آئین کی پاسداری ، اور قانو ن کی بالا دستی چھینی تھی اس وقت ان کو یہ خیا ل نہ آیا تھا کہ جیسا کر و گے ویسا بھرو گے ۔ آصف زرداری کا یہ کر یڈیٹ جا تا ہے کہ انہو ں نے سلا می دلو ا کر ہی سہی ان سے اقتدار کی چاہت ہتھیالی۔ کس خوش اسلوبی سے ایو ان اقتدار سے رخصت کیا۔ وہ اس امر کا جا ئزہ لیں کہ انہو ں نے عوام کے مینڈیٹ کو کس طرح اپنے بوٹو ں سے روند ا تھا ، پھر ان کی جما عت کو انہی کی آمر یت اور غداری کی وکالت کر نے والے وکیل احمد رضا خاں قصوری ان کو قصوروار قرار دے کر ان کی جما عت پر قابض ہو گئے۔ اب وہ بے جما عت ہو کر مقدما ت سے فرار اختیا ر کیے ہو ئے ہیں ، کر اچی میں انہوں نے اپنی دادا گیری قائم کر نے کے لیے ایم کیو ایم کو گورنر شپ دی تھی جس کے نتیجہ میں عشرت العباد تیرہ سال سے زیا دہ عرصہ تک گورنر کی کر سی پر بر اجما ن رہے جو پاکستان کی تاریخ کی سب سے طویل ترین گورنر شپ ہے اپنے اقتدار کے دوران پر ویز مشرف نے ایم کیو ایم کی خوب آبیا ری کی اور سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کی کر اچی آمد پر افسو س ناک تر ین دھما چوکڑی مچا کر پر ویز مشر ف نے اسلام آباد میں جو مکا لہر ایا تھا اس کا یہ پھل ملا کہ ان کی بے پناہ خواہش کے بعد بھی ان کو ایم کیو ایم قبول کر نے کو تیا ر نہیں ہے ، حالا نکہ اس وقت ایم کیو ایم میںقیا دت کا بحران ہے فاروق ستار ہو ں ، ساڑھے تیر ہ سال تک گورنری کرنے والے عشرت العباد ہو ںیا مصطفی کما ل ہوںان میں سے کوئی بھی نہ تو قیادت کے گڑھے کو نہ خلا ء کو پر کرنے کی استعداد رکھتا ہے۔ خود پر ویز مشرف اپنی جماعت مسلم لیگ میں ایم کیو ایم کو ضم کرنے میں نا کا م ہو چکے ہیں ۔ رینجر ز کے دفتر میں مصطفی کما ل اور فاروق ستار کے اتحاد کا جو کھیل ہو ا تھا وہ پر ویز مشرف کی ہی پشت بانی کاحصہ تھا ۔

متعلقہ خبریں