Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

جنگ یرموک میں سیدنا ابو سفیانؓ نے اسلامی لشکر سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے اہل اسلام کی جماعت! تم عرب لوگ ہو‘ اپنے اہل و عیال سے منقطع ہو کر دار عجم میں پہنچ چکے ہو۔ اپنے امیر المومنین اور مسلمانوں کی امداد سے دور ہوچکے ہو۔ ایسے دشمن کے ساتھ تمہارا سامنا ہے جو تعداد میں تم سے کثیر ہے اور تم پر سخت غضب ناک ہو رہا ہے اور تم نے ان کے شہروں کو گھیر رکھا ہے اور ان کے بال بچوں کو پریشان کردیا ہے۔ خدا کی قسم! تمہیں اس قوم سے نجات نہیں مل سکتی اور تم قیامت میں خدا کی رضا کو نہیں حاصل کرسکتے‘ بجز مخالفین سے صدق دل سے مقابلہ کرنے اور ناگوار مقامات میں استقامت دکھلانے کے ذریعہ سے۔ خبردار! لازماً یہی طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔ تمہارے اور امیر المومنین کے درمیان اور مسلمانوں کی جماعت کے درمیان صحرا ہیں اورجنگل ہیں۔ ان میں کسی کے لئے جائے پناہ اور لوٹنے کی جگہ نہیں ہے۔ صرف صبر کرنا ہوگا اور جو حق تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے اس پر امید رکھنیہوگی۔ پھر آپؓ عورتوں کی طرف تشریف لے گئے اور انہیں وصیت فرمائی کہ : جس شخص کو فوج سے پشت دے کر فرار ہوتا ہوا دیکھو تو اسے پتھروں اور ڈنڈوں سے خوب پیٹو۔ حتیٰ کہ وہ فوج کی طرف واپس آجائے۔ پھر لوٹ کر لشکر کے سامنے آکر آواز دی کہ: اے اہل اسلام! یہ سنگین حالات سامنے ہیں‘ جو تم دیکھ رہے ہو۔ پس یہ رسول خدا اور جنت تمہارے آگے ہیں۔ شیطان اور آتش تمہارے پیچھے ہے۔

بعض دفعہ حضرت ابو سفیانؓ فوجی دستوں کے سامنے چکر لگاتے اور فرماتے تھے: خدا سے خوف کرو‘ خدا سے ڈرو‘ تم عرب کی طرف سے مداخلت کرنے والے ہو اور اسلام کے امدادی ہو اور وہ روم کی طرف سے دفاع کرنے والے ہیں اور شرک کے امدادی ہیں۔ خدایا! تیرے ایام میں سے یہ بڑا اہم یوم ہے۔ اپنے بندوں پر اپنی خاص نصرت و رحمت نازل فرما۔ سعید بن مسیبؒ اپنے والد سے ذکر کرتے ہیں: جنگ یرموک کے دن ایک موقع پر سب آوازیں خاموش ہوگئیں مگر ایک آواز آرہی تھی: ’’ یا نصر اللہ اقترب‘‘ یعنی اے خدا کی مدد قریب ہو۔ میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو وہ حضرت ابو سفیانؓ تھے جو اپنے فرزند زید بن ابو سفیانؓ کے جھنڈے تلے کھڑے تھے اور مذکورہ دعائیہ کلمات زبان پر جاری تھے۔

(کتاب نسب قریش‘ ص 122)

حضرت اسماعیل بن افضلؒ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن الشاذ کوفیؒ کو خواب میں دیکھا‘ وہ فرما رہے تھے کہ رب تعالیٰ نے میری مغفرت فرمادی۔ میں نے مغفرت کا سبب پوچھا تو فرمایا کہ میں ایک دن اصبہان کے راستے میں چلا جا رہا تھا کہ بارش شروع ہوگئی۔ میرے پاس دینی کتابیں تھیں‘ میں اپنی کتابوں پر جھک گیا (تاکہ وہ بھیگنے سے محفوظ رہیں) یہاں تک صبح ہوگئی‘ پس حق تعالیٰ نے اس بات پر میری مغفرت فرمادی۔

متعلقہ خبریں