Daily Mashriq

پاکستان اور ترکی ایک دوسرے سے کیا چاہتے ہیں، پاک ترک تعلقات پر ایک نظر

پاکستان اور ترکی ایک دوسرے سے کیا چاہتے ہیں، پاک ترک تعلقات پر ایک نظر

اکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان دو روزہ سرکاری دورے پر ترکی پہنچے ہیں جہاں ان کی ترکی کے صدر طیب رجب اردگان سے ملاقات ہوئی ہے۔ یہ عمران خان کا ترکی کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔

اس سے قبل وزیرِ اعظم عمران خان سعودی عرب اور متحدہ امارات کے دورے کر چکے ہیں جہاں ان کا اہم مقصد پاکستانی معیشت کی بحالی کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دینا اور دوست ممالک سے امداد حاصل کرنا تھا۔

پہل سعودی عرب نے کی۔ سعودی عرب نے پاکستان کو معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے ایک سال میں تین ارب ڈالر کی امداد دینے کا وعدہ کیا اور اس پر عمل بھی شروع ہو گیا۔ اس کے علاوہ اس نے تین سال تک مؤخر ادائیگیوں پر تقریباً نو ارب ڈالر مالیت کا تیل دینے پر بھی رضامندی ظاہر کی جو کہ ایک عمران کی معاشی طور پر کمزور نوزائیدہ حکومت کے لیے ایک خوش آئند بات تھی۔

اکستان ترکی سے کیا چاہتا ہے؟

لیکن پاکستانی وزیرِ اعظم ترکی سے امداد کے علاوہ کچھ اور بھی چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ترکی پاکستان میں سرمایہ کرے اور پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا قحط اب ختم ہو جس نے پاکستانی معیشت کو بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ انھوں نے ترکی بزنس کمیونٹی کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آئیں اور پاکستان میں کنسٹرکشن، سے لے کر سیاحت، اور قدرتی وسائل کی دریافت تک کے پراجیکٹس میں حصہ لیں۔

انھوں نے ترک تاجروں کو یہ بھی تسلی دی کہ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات دے رہی ہے اور اس سلسلے میں سرخ فیتے یا ریڈ ٹیپ ازم کو بالکل ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ور ترکی کیا چاہتا ہے؟

بی بی سی کی ترک سروس کی ارم کوکر کے مطابق 'دونوں ممالک میں تجارت کے فروغ کے لیے روایتی میمورینڈم آف انڈرسٹینڈنگ یا یادداشت کے دستاویز پر تو دستخط ہوں گے ہی لیکن ترکی کی زیادہ دلچسپی اس بات میں ہے کہ پاکستان امریکہ میں خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزارنے والی فتح اللہ گولن کی تحریک اور تنظیم کے خلاف کیا کچھ کر رہا ہے۔'

پاکستان پہلے ہی گولن تحریک کے تحت پاکستان میں چلنے والے سکول ترکی کی معارف فاؤنڈیشن کے سپرد کر چکا ہے۔

یاد رہے کہ ترکی نے 2016 کے ناکام انقلاب کے بعد، جس میں 250 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، معارف فاؤنڈیشن کا قیام کیا تھا جس کا مقصد ان تمام سکولوں کا انتظام سنبھالنا تھا جو ملک کے اندر اور باہر گولن نیٹ ورک چلا رہا تھا۔ ترکی کا الزام ہے کہ انقلاب کے پیچھے گولن نیٹ ورک کا ہاتھ تھا۔

گذشتہ ماہ پاکستان کے سپریم کورٹ نے گولن کے نیٹ ورک کو ایک دہشت گرد گروپ قرار دینے کی ایک درخواست تسلیم کی تھی۔

پاکستان سپریم کورٹ کے جج نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر کسی تنظیم کو اس کا اپنا ملک ہی دہشت گرد قرار دیتا ہے تو پاکستان بھی اسے اس طرح ہی تسلیم کرے گا۔

متعلقہ خبریں