Daily Mashriq

پاکستان: پیشگی اطلاع کے بغیرشمالی وزیرستان جانے کی اجازت

پاکستان: پیشگی اطلاع کے بغیرشمالی وزیرستان جانے کی اجازت

اکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان کو عام پاکستانیوں کی آمد و رفت کے لیے کھول دیا گیا۔ یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب علاقے میں سکیورٹی اداروں کی طرف سے آپریشن ضربِ عضب کے نتیجے میں شدت پسندوں کے خاتمے کے بعد مکمل امن کی بحالی کا دعویٰ کیا جاچکا ہے۔

مقامی انتظامیہ کی جانب سے جاری ایک اعلامیے کے مطابق پاک فوج کے تعاون سے شمالی وزیرستان میں عوامی نقل و حرکت کو آسان بنایا جارہا ہے جس کے تحت اب غیر مقامی افراد کو پیشگی اجازت لینے کی ضرورت نہیں بلکہ پہلے سے موجود چیک پوسٹوں پر نادرا کا جاری کردہ قومی شناختی کارڈ دکھا کر وہ ضلعے کی حدود میں بغیر کسی رکاوٹ کے آ جا سکتے ہیں۔

شمالی وزیرستان کے داخلی اور خارجی راستوں پر پانچ کے قریب سکیورٹی چیک پوسٹیں قائم ہیں۔ اس اعلان سے پہلے باہر سے آنے والے افراد کو علاقے میں داخل ہونے کےلیے باقاعدہ اجازت نامہ لینا پڑتا تھا۔ یہ اجازت نامہ جسے 'راہداری' بھی کہا جاتا تھا، باقاعدہ طورپر سکیورٹی اداروں اور مقامی انتظامیہ کی اجازت سے جاری کیا جاتا تھا۔

عام شہریوں کے لیے شمالی وزیرستان کے راستے کھول دیے جانے کے بعد پہلے روز زیادہ بڑی تعداد میں لوگ نہیں گئے لیکن شمالی وزیرستان جانے والی گاڑیوں اور مسافروں میں اضافہ ضرور دیکھا گیا ہے۔

پولیس اہلکاروں کے مطابق انھیں کوئی ایسی شکایت موصول نہیں ہوئی کہ کسی چوکی پر کسی شہری کو روک دیا گیا ہو یا کسی کو واپس موڑا گیا ہو۔

بنوں میں میرانشاہ جانے والی گاڑیوں کے اڈے کے منتظمین نے بتایا کہ میرانشاہ جانے والے مسافروں میں قدرے اضافہ ضرور دیکھا گیا ہے اور اب حالات پہلے کی نسبت معمول پر آتے نظر آ رہے ہیں۔

اعلامیے کے مطابق (تازہ اقدام سے) 'بیرونی سرمایہ کاروں کو تجارتی معاملات میں کوئی دشواری ہو گی اور نہ ہی عزیزو اقارب کو آپس میں میل میلاپ میں کوئی مسئلہ ہو گا۔'

متعلقہ خبریں