Daily Mashriq

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی

امریکا کے فضائی حملے میں ایرانی جنرل سلیمانی کی موت کے بعد واشنگٹن اور تہران میں حالات کشیدہ ہوگئے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل سلیمانی نئی دہلی سے لندن تک معصوم لوگوں کو مارنے میں ملوث تھے، انہیں مارنے کا فیصلہ جنگ روکنے کے لیے کیا ہے۔ امریکا جنرل سلیمانی کو نشانہ بنانے کے بعد مزید 3 ہزار 500 فوجی مشرق وسطیٰ بھیج رہا ہے، دستے کویت پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔ لبنانی گروہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جنرل سلیمانی کے قاتلوں کو قرار واقعی سزا دلوانا دنیا بھر میں پھیلے تمام جنگجوؤں کا فرض ہے۔ادھر امریکا میں ڈیموکریٹس کے صدارتی امیدواروں نے ایرانی ملٹری کمانڈر پر فضائی حملے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کا یہ اقدام امریکا کو مشرق وسطیٰ کی ایک جنگ میں دھکیل سکتا ہے۔ القدس فورسز کے سربراہ قاسم سلیمانی ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے بعد دوسری طاقتور شخصیت تھے۔ ایران نے ان کی موت کا سخت انتقام لینے کا اعلان کیا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق ایرانی لڑاکا طیارے عراق کے قریب پٹرولنگ کر رہے ہیں۔مشرقِ وسطیٰ میں تنائو اور کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ عراق میں رونما ہونے والے ایک تازہ سانحے نے امریکہ اور ایران کو ایک بار پھر ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا ہے اور دونوں جانب کی قیادتیں ایک دوسرے کوبراہ راست دھمکیاں دے رہی ہیں۔ اس حقیقت سے سبھی آگاہ اور مشوش ہیں کہ پچھلے کچھ عرصے سے مشرقِ وسطیٰ میں حالات کبھی اطمینان بخش نہیں رہے ایک طرف شام میں خانہ جنگی جاری ہے تو دوسری جانب سعودی عرب اور یمن کے مابین تنازع بھی ابھی ختم نہیں ہوا' جبکہ لیبیا اور عراق میں بھی حالات مسلسل دگرگوں چلے آ رہے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے مابین مخاصمت اگرچہ نئی بات نہیں لیکن حالیہ چند سالوں میں دونوں کے درمیان مخاصمت بڑھی ہے خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مدت اقتدار کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ اس خطے میں پہلے سے کشیدگی تھی اب ایرانی فورس پر امریکی حملے نے صورتحال کو مزید گمبھیر بنا دیا ہے اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جبکہ یہ واضح ہے کہ اس خطے میں کوئی غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی تو اس سے محض یہی خطہ نہیں بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور معاشرت متاثر ہو گی' کیونکہ زیادہ تر پٹرولیم مصنوعات اسی خطے سے دوسرے ممالک کو ترسیل کی جاتی ہیں۔ امریکہ اور ایران کے مابین جنگ ان مصنوعات کے نرخوں میں بے تحاشا اضافے کا باعث بنے گی جس کے نتیجے میں پوری دنیا میں مہنگائی کے دوچند ہو جانے کے خدشے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ حملہ کرنے اور اس کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد بھی امریکی صدر اس جلتی آگ پر تیل ڈالنے میں مصروف ہیں۔ یہ سلسلہ جاری رہا تو خدا نخواستہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے رہے سہے امکانات بھی ختم ہو جائیں گے۔ ان سارے حالات میں مناسب راستہ وہی ہے جس کی نشاندہی پاکستان نے کی ہے۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خود مختاری اور سالمیت کا احترام اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصول ہیں' یکطرفہ اقدامات اور طاقت کے استعمال سے گریز بہت اہم ہے۔ پاکستان نے فریقین کو بجا طور پر مشورہ دیا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے تعمیری رابطے اور سفارتی چینل استعمال کریں۔ دونوں ممالک اگر اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کو مدنظر رکھ کر صبر اور حوصلے کے ساتھ حالات کا جائزہ لیں اور مشتعل نہ ہوں تو اس کشیدگی کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔اگرچہ پاکستان نے ابتداً ایک واضح اور اصولی موقف اپنایا ہے لیکن کشیدگی میں اضافے کی صورت میں پاکستان پر امریکی اور خاص طور پر سعودی عرب کیطرف سے دبائو میں اضافہ ہوگا اور ایران پر دبائو ڈالنے کیلئے پاکستان کو بھی اس قضیے میں کسی نہ کسی طرح گھسیٹنے کی کوشش ہو سکتی ہے جس سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے ۔پاکستان کے یمن میں فوج بھیجنے سے انکار کے بعد اور ایران کے حوالے سے اچھے ہمسایے کا جو کردار متعین کیا ہے اسے جاری رہنا چاہیئے۔ہم سمجھتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا مطلب مسلم امہ کا امتحان ہے اس کشیدگی کے مسلم ممالک پر منفی اثرات کوئی پوشیدہ امر نہیں اقوام متحدہ اچانک بڑھنے والے اس تنائو کو کم کرنے اور حالات کو اعتدال پر لانے کے سلسلے میں اپنے حصے کا کردار اداکرے۔ پھر امریکہ اور ایران کے ساتھ قربت کے دعویدار ممالک کو کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے اپنے اثر و رسوخ کو بروئے کار لانا چاہیے۔اس ساری صورتحال میں پاکستان کیلئے موزوں کردار یہی ہوگا کہ وہ اس کشیدگی کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کرے۔مشرق وسطیٰ کشیدگی کے خاتمے کیلئے اقوام متحدہ کا کردار وعمل اہم ہوگا۔یہ اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری جائزہ لے۔

متعلقہ خبریں